مودی کا دورہ برطانیہ اور احتجاجی مظاہرے
مودی کی آمد پر لندن سمیت برطانیہ کے کئی شہروں میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے مظاہرے کیے،
بھارت کو گھمنڈ تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر آج اس کے کروڑوں شہری انفرادی آزادی اور زندگی کے تحفظ کے لیے فریاد کناں ہیں۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی 3 روزہ دورے پر جمعرات کو برطانیہ پہنچ گئے، مگر بھارت کی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی اور مسلمانوں سمیت اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پیدا شدہ بین الاقوامی رد عمل نے ان کا 10 ڈاؤننگ سٹریٹ تک تعاقب کیا۔
یہ اس نریندر مودی کی ہزیمت اور خفت پر مبنی سفر کا نقطہ آغاز تھا جو 9 ارب پاؤنڈ کے معاہدوں پر ختم تو ہوا تاہم بھارت کو معاشی خوشحالی کے پرفریب نعروں اور مودی کی انتخابی فتح کے بعد غیر معمولی سیکولر مخالف اور شیوسینا کی بدترین انسان دشمنی کے واقعات اور انتہاپسندی کی شکل میں اسے برطانیہ میں جو خیرمقدمی تحفہ ملا وہ بی جے پی کی حکومت کے خلاف شرم ناک اور چشم کشا احتجاجی مظاہرے اور فلک شگاف نعرے تھے۔ چنانچہ اپنے ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے موقع پر انکی ناکام حکومتی پالیسیاں ان کا منہ چڑا رہی تھیں۔
انکی آمد پرکشمیریوں، سکھوں، دلت برادری،اقلیتوں کے سیکڑوں افراد نے شدید احتجاج کیا اور مودی کے خلاف نعرے بازی کی، نیپالی باشندے بھی سراپا احتجاج بن گئے، غیرملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کو مودی کی برطانیہ آمد پر وہاں قیام پذیر سکھوں نے بھارت میں اپنی مذہبی کتاب کی بیحرمتی، کشمیریوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انڈین عوام نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا، مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں کتبے، پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پرنریندر مودی کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے ''گو مودی گو''، ''مودی ناٹ ویلکم'' کے نعرے لگائے، ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ ''گو مودی گو'' اور مودی قاتل کے نعروں سے گونج اٹھا، مودی کی آمد پر لندن سمیت برطانیہ کے کئی شہروں میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے مظاہرے کیے، مظاہرین نے اس موقع پر کشمیر اور خالصتان کے پرچم اٹھا رکھے تھے، مظاہرین وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے خلاف بھی نعرے بازی کرتے رہے ۔
مودی کے لیے لمحہ موجود اذیت ناک ہے کیونکہ ان کی سیاست کاری کے خلاف خود ہندوستانی تہذیب، سیکولرازم، جمہوری روایات اور انسان دوستی سے مربوط کروڑوں عوام اور بھارتی انٹیلی جنشیا کی کمٹمنٹ مائل بہ احتجاج نظر آئی اور انھیں وقت سے پہلے عوامی ابھار نے آدبوچا۔ شیوسینا کے رتھ پر سوار بھارتی حکومت نے ہندوتوا کو اپنی سیاسی اور فتح کی بنیاد بنا کر جو سنگین غلطی کی ہے اسے دنیا نے پہچان لیا ہے اس لیے برطانوی صحافی کا یہ استفسار بھارتی وزیراعظم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ''آپ کیوں کر اس قابل ہیں کہ آپ کی عزت کی جائے۔'' گارڈین نے لکھا کہ بھارتی وزیراعظم کا ماضی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث خیرمقدم نہ کیا جائے۔ گجرات کے قتل عام پر مودی کے برطانیہ میں داخلہ پر پابندی لگائی گئی تھی ۔
ایک بلوگر نے خوبصورت بات کی کہ بھارت کے بہاری الیکشن میں ڈیموکریسی کی جھلک ''کاسٹوکریسی'' کا نیا کمال ہے۔ ادھر دورہ برطانیہ کے تناظر میں بی جے پی کے ذرایع نے اطلاع دی کہ بہار میں انتخابی شکست کے ڈیمج کنٹرول اور پارٹی میں اضطراب کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے سوچ بچار شروع ہوگیا ہے، بھارت کے موقر اردو روزنامہ''انقلاب'' نے رپورٹ میں کہا کہ بہار میں لالو پرشاد اور نیتن کمار کے ہاتھوں شکست کے بعد بی جے پی میں بغاوت کے آثار نظر آرہے ہیں ۔
جب کہ ڈیوڈ کیمرون کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں مودی سیوادی میں قتل ہونے والے مسلمان اخلاق اور گجرات کے قتل عام جب کہ ہندوستان میں قدامت پرستی اور بنیاد پرستی کے علاوہ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری، انتہا پسندی پر بھی سوالات کیے گئے جن کے جواب میں مودی کے لبوں پر صرف ایک وضاحت تھی کہ حکومت ہر واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی ہے، تاہم انھوں نے اعترافاً یہ بھی کہا کہ ایسے تمام واقعات ہمارے لیے باعث ندامت ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورہ برطانیہ کے موقع پر ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانیہ اور بھارت نے 9 ارب پاؤنڈ مالیت کی نئی شراکت داری کا اعلان کرتے ہوئے سول نیوکلیئر معاہدے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ بھارت اور برطانیہ کے تعلقات کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوراْن کے بڑے عزائم ہیں، اْن کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات 'بہت اہم' ہیں۔
ان کاکہنا ہے کہ مودی کے دورے سے دونوں ممالک کے لیے ترقی کا اہم موقع ملے گا۔ بھارتی اقتصادی اور سیاسی مبصرین لاکھ ڈھنڈورا پیٹیں کہ غیرملکی سرمایہ کاری،اقتصادی معاہدے اور تجارتی ، علمی و تکنیکی شعبوں میں توسیعی اقدامات مودی سرکار کے پلس پوائنٹس ہیں مگر مودی نے نظریاتی ، سیاسی اور انسانی اقدار و انسانی حقوق سے مسلسل انحراف اور تشدد و عدم رواداری کے نتیجہ میں بھارتی سیاست کو الٹی چھری سے ذبح کیا ہے۔
ان کے منہ میں رام رام اور بغل میں چھری والی پالیسی بے نقاب ہوچکی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو آئین سازوں کی روحوں کا اضطراب دیکھنا ہو تو اس سے پہلے ہی مودی کے حواریوں اور بے لگام شیو سینا کے نئے چنگیزوں کی خوں آشام وارداتوں کا سدباب کرنا ہوگا۔ بھارت کو گھمنڈ تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر آج اس کے کروڑوں شہری انفرادی آزادی اور زندگی کے تحفظ کے لیے فریاد کناں ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ ثنا خوان تقدیس بھارت کہاں ہیں؟
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی 3 روزہ دورے پر جمعرات کو برطانیہ پہنچ گئے، مگر بھارت کی سیاسی، سماجی اور معاشی زندگی اور مسلمانوں سمیت اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر پیدا شدہ بین الاقوامی رد عمل نے ان کا 10 ڈاؤننگ سٹریٹ تک تعاقب کیا۔
یہ اس نریندر مودی کی ہزیمت اور خفت پر مبنی سفر کا نقطہ آغاز تھا جو 9 ارب پاؤنڈ کے معاہدوں پر ختم تو ہوا تاہم بھارت کو معاشی خوشحالی کے پرفریب نعروں اور مودی کی انتخابی فتح کے بعد غیر معمولی سیکولر مخالف اور شیوسینا کی بدترین انسان دشمنی کے واقعات اور انتہاپسندی کی شکل میں اسے برطانیہ میں جو خیرمقدمی تحفہ ملا وہ بی جے پی کی حکومت کے خلاف شرم ناک اور چشم کشا احتجاجی مظاہرے اور فلک شگاف نعرے تھے۔ چنانچہ اپنے ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے موقع پر انکی ناکام حکومتی پالیسیاں ان کا منہ چڑا رہی تھیں۔
انکی آمد پرکشمیریوں، سکھوں، دلت برادری،اقلیتوں کے سیکڑوں افراد نے شدید احتجاج کیا اور مودی کے خلاف نعرے بازی کی، نیپالی باشندے بھی سراپا احتجاج بن گئے، غیرملکی میڈیا کے مطابق جمعرات کو مودی کی برطانیہ آمد پر وہاں قیام پذیر سکھوں نے بھارت میں اپنی مذہبی کتاب کی بیحرمتی، کشمیریوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انڈین عوام نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا، مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں کتبے، پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پرنریندر مودی کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے ''گو مودی گو''، ''مودی ناٹ ویلکم'' کے نعرے لگائے، ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ ''گو مودی گو'' اور مودی قاتل کے نعروں سے گونج اٹھا، مودی کی آمد پر لندن سمیت برطانیہ کے کئی شہروں میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی نے مظاہرے کیے، مظاہرین نے اس موقع پر کشمیر اور خالصتان کے پرچم اٹھا رکھے تھے، مظاہرین وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے خلاف بھی نعرے بازی کرتے رہے ۔
مودی کے لیے لمحہ موجود اذیت ناک ہے کیونکہ ان کی سیاست کاری کے خلاف خود ہندوستانی تہذیب، سیکولرازم، جمہوری روایات اور انسان دوستی سے مربوط کروڑوں عوام اور بھارتی انٹیلی جنشیا کی کمٹمنٹ مائل بہ احتجاج نظر آئی اور انھیں وقت سے پہلے عوامی ابھار نے آدبوچا۔ شیوسینا کے رتھ پر سوار بھارتی حکومت نے ہندوتوا کو اپنی سیاسی اور فتح کی بنیاد بنا کر جو سنگین غلطی کی ہے اسے دنیا نے پہچان لیا ہے اس لیے برطانوی صحافی کا یہ استفسار بھارتی وزیراعظم کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ''آپ کیوں کر اس قابل ہیں کہ آپ کی عزت کی جائے۔'' گارڈین نے لکھا کہ بھارتی وزیراعظم کا ماضی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث خیرمقدم نہ کیا جائے۔ گجرات کے قتل عام پر مودی کے برطانیہ میں داخلہ پر پابندی لگائی گئی تھی ۔
ایک بلوگر نے خوبصورت بات کی کہ بھارت کے بہاری الیکشن میں ڈیموکریسی کی جھلک ''کاسٹوکریسی'' کا نیا کمال ہے۔ ادھر دورہ برطانیہ کے تناظر میں بی جے پی کے ذرایع نے اطلاع دی کہ بہار میں انتخابی شکست کے ڈیمج کنٹرول اور پارٹی میں اضطراب کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے سوچ بچار شروع ہوگیا ہے، بھارت کے موقر اردو روزنامہ''انقلاب'' نے رپورٹ میں کہا کہ بہار میں لالو پرشاد اور نیتن کمار کے ہاتھوں شکست کے بعد بی جے پی میں بغاوت کے آثار نظر آرہے ہیں ۔
جب کہ ڈیوڈ کیمرون کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں مودی سیوادی میں قتل ہونے والے مسلمان اخلاق اور گجرات کے قتل عام جب کہ ہندوستان میں قدامت پرستی اور بنیاد پرستی کے علاوہ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری، انتہا پسندی پر بھی سوالات کیے گئے جن کے جواب میں مودی کے لبوں پر صرف ایک وضاحت تھی کہ حکومت ہر واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی ہے، تاہم انھوں نے اعترافاً یہ بھی کہا کہ ایسے تمام واقعات ہمارے لیے باعث ندامت ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے دورہ برطانیہ کے موقع پر ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانیہ اور بھارت نے 9 ارب پاؤنڈ مالیت کی نئی شراکت داری کا اعلان کرتے ہوئے سول نیوکلیئر معاہدے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ بھارت اور برطانیہ کے تعلقات کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوراْن کے بڑے عزائم ہیں، اْن کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات 'بہت اہم' ہیں۔
ان کاکہنا ہے کہ مودی کے دورے سے دونوں ممالک کے لیے ترقی کا اہم موقع ملے گا۔ بھارتی اقتصادی اور سیاسی مبصرین لاکھ ڈھنڈورا پیٹیں کہ غیرملکی سرمایہ کاری،اقتصادی معاہدے اور تجارتی ، علمی و تکنیکی شعبوں میں توسیعی اقدامات مودی سرکار کے پلس پوائنٹس ہیں مگر مودی نے نظریاتی ، سیاسی اور انسانی اقدار و انسانی حقوق سے مسلسل انحراف اور تشدد و عدم رواداری کے نتیجہ میں بھارتی سیاست کو الٹی چھری سے ذبح کیا ہے۔
ان کے منہ میں رام رام اور بغل میں چھری والی پالیسی بے نقاب ہوچکی ہے۔ بھارتی حکمرانوں کو آئین سازوں کی روحوں کا اضطراب دیکھنا ہو تو اس سے پہلے ہی مودی کے حواریوں اور بے لگام شیو سینا کے نئے چنگیزوں کی خوں آشام وارداتوں کا سدباب کرنا ہوگا۔ بھارت کو گھمنڈ تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر آج اس کے کروڑوں شہری انفرادی آزادی اور زندگی کے تحفظ کے لیے فریاد کناں ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ ثنا خوان تقدیس بھارت کہاں ہیں؟