پاکستان تاجکستان معاہدےترقی اور خوشحالی کا پیغام
پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ موجودہ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
پاکستان وسط ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات جس قدر زیادہ مضبوط بنائے گا اس کے لیے اتنے ہی زیادہ ترقی اور خوشحالی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔ فوٹو : فائل
پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ موجودہ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا واضح اظہار ہے۔ امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے بعد غیرملکی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی جانب رجحان میں خوش کن اضافہ ہوا ہے ۔
جمعرات کو پاکستان اور تاجکستان میں توانائی 'دفاع' تجارت' صنعتی شعبہ 'ملزمان کی حوالگی 'مشترکہ بزنس کونسل کے قیام ' سائنس و ٹیکنالوجی' ارضیات کے میدان میں اشتراک کار کے حوالے سے 8 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف اوروزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے موثر طور پر نمٹنے، دونوں ممالک اور خطے میں امن و استحکام لانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے تاجکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں کے استعمال کی پیش کش کی۔ پاکستان کو اس وقت توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے جو اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت اس بحران پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار تیز تر ہو سکے۔
ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہتر ترغیبات کے ساتھ دعوت دی جا رہی ہے، تین چار روز قبل پاکستان اور بیلا روس کے درمیان اقتصادی تعاون کے روڈ میپ سمیت باہمی تعاون کے 17 مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے اور دونوں ملکوں نے تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ خطے کی ترقی کے لیے افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہے۔
پاکستان وسط ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات جس قدر زیادہ مضبوط بنائے گا اس کے لیے اتنے ہی زیادہ ترقی اور خوشحالی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔
جمعرات کو پاکستان اور تاجکستان میں توانائی 'دفاع' تجارت' صنعتی شعبہ 'ملزمان کی حوالگی 'مشترکہ بزنس کونسل کے قیام ' سائنس و ٹیکنالوجی' ارضیات کے میدان میں اشتراک کار کے حوالے سے 8 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف اوروزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے اس سے موثر طور پر نمٹنے، دونوں ممالک اور خطے میں امن و استحکام لانے کے عزم کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے تاجکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں کے استعمال کی پیش کش کی۔ پاکستان کو اس وقت توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے جو اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت اس بحران پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاکہ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار تیز تر ہو سکے۔
ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہتر ترغیبات کے ساتھ دعوت دی جا رہی ہے، تین چار روز قبل پاکستان اور بیلا روس کے درمیان اقتصادی تعاون کے روڈ میپ سمیت باہمی تعاون کے 17 مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے اور دونوں ملکوں نے تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ خطے کی ترقی کے لیے افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہے۔
پاکستان وسط ایشیا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات جس قدر زیادہ مضبوط بنائے گا اس کے لیے اتنے ہی زیادہ ترقی اور خوشحالی کے راستے کھلتے چلے جائیں گے۔