جنوبی ایشیا کا امن اور پاکستان

پاکستان میں ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں کے خلاف جتنی طویل جنگ پاک فوج نے لڑی ہے، کسی اور ملک نے نہیں لڑی۔ فوٹو:فائل

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعہ کو پاکستان سینٹر فار نیوکلیئر سیکیورٹی (پی سی ای این ایس) کا دورہ کیا اور وہاں دستیاب جدید سہولیات اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے اسٹرٹیجک پلانز ڈویژن کی اعلیٰ پیشہ ورانہ قابلیت اور اپنے کام سے لگاؤ کی تعریف کی۔ انھوں نے پاکستان کے اسٹرٹیجک اثاثوں کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بھی سراہا۔

انھوں نے پاکستان کے جوہری سیکیورٹی ریجیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انھوں نے افسران اور جوانوں سے کہا کہ جوہری سیکیورٹی ایک مقدس فریضہ ہے۔ انھیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے اب اس احساس ذمے داری کو بہت سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور یہ اب باقاعدہ ایک کلچر کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ ایک ذمے دار جوہری ملک کے طور پر پاکستان نے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں پی سی آر این ایس کا قیام بھی شامل ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے اپنے جوہری سلامتی کے انتظام کو مزید مضبوط بنایا ہے اور اب یہ عالمی سطح کے بہترین انتظامات کے برابر اور معیار کا ہے۔

انھوں نے کہا پاکستان نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اس سینٹر کو جوہری سلامتی سے متعلق تعلیم کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے اور عالمی برادری اس سے فائدہ اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک پی سی ای این ایس نے کئی مقامی اور عالمی سطح کے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا اور ان کورسز میں اثاثوں کی سیکیورٹی، نیوکلیئر اور ریڈیو لوجیکل مٹیریل اور سہولیات کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے عالمی میڈیا میں اکثر اوقات اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ ان میں اکثر منفی نوعیت کی باتیں ہوتی ہیں، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی منفی خبریں پھیلائی جاتی ہیں لیکن یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کا حفاظتی نظام انتہائی فول پروف ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے کبھی کوئی حادثہ پیش نہیں آیا جب کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ایٹمی تنصیبات میں کئی حادثے پیش آ چکے ہیں۔


انڈیا میں بھی حادثے ہوئے ہیں جب کہ روس میں چرنوبل کا حادثہ تو سب سے شدید تھا۔ اس کے باوجود روس یا انڈیا یا دنیا کے دیگر ایٹمی ممالک کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ پاکستان میں ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ امریکا کے دورے پر جانے سے پہلے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا پاکستان سینٹر فار نیوکلیئر سیکیورٹی کا دورہ اور وہاں دستیاب سہولیات اور تربیتی سرگرمیوں کا جائزہ لینا خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

اس کا پیغام یہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں اور ان کا حفاظتی نظام عالمی معیار کا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا دورہ امریکا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے میں یقینی طور پر اس خطے کی اسٹرٹیجک صورت حال، طالبان اور داعش جیسے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ موجودہ حالات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا اور یورپ کی نظر میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ خصوصاً پیرس میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پاکستان کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اس وقت دہشت گردوں کے خلاف حقیقی جنگ پاکستان ہی لڑ رہا ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہے۔

اس آپریشن کے نتائج خاصے بہتر ہیں۔ ادھر ہندوستان اور پاکستان کے معاملات بھی موجود ہیں۔ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی طرف سے کم از کم ایٹمی ڈیٹرنس برقرار رکھنے کی پالیسی ضروری ہے۔ روایتی ہتھیاروں میں بھارت کو برتری حاصل ہے۔ بھارت کا امریکا کے ساتھ نیوکلیئر سول ٹیکنالوجی کا معاہدہ اور اب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی برطانیہ کے دورے پر گئے ہیں تو وہاں بھی ان دونوں کے درمیان سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ ہوا ہے۔

پاکستان جس خطے میں واقع ہے یہاں دنیا کی تین ایٹمی طاقتیں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک بھارت، دوسری چین اور تیسری طاقت روس ہے۔ ادھر افغانستان میں طالبان اور دیگر جنگجو گروپ موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں جب کہ پاکستان کی فوج دہشت گردوں کے خلاف قبائلی علاقوں میں نبردآزما ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ خطہ انتہائی حساس ہے۔ اس خطے کے اسٹرٹیجک مفادات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک کی صورت میں اپنا کردار ادا کرے۔

اس حوالے سے پاک فوج کی ضرورت و اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں کے خلاف جتنی طویل جنگ پاک فوج نے لڑی ہے، کسی اور ملک نے نہیں لڑی۔ افغانستان میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں طالبان اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کا دفاعی اعتبار سے مضبوط اور مستحکم ہونا اس خطے کے امن کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
Load Next Story