انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت
دنیا بھر میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے
نظام کی تبدیلی کے لیے کوئی باہر سے نہیں آئیگا، ہمیں خود کوشش کرنا ہو گی۔ فوٹو: فائل
دنیا بھر میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ عدل و انصاف کی فراہمی کو ریاستی استحکام، سماجی اقدار، فرد و ریاست کے باہمی تعلق اور شہریوں کے معمولات زندگی میں بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے بروقت انصاف کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے عدلیہ پر عوام کے اعتماد میں کمی اور معاشرے میں انتشار پھیل سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کی شب سندھ ہائیکورٹ بار کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس فیصل عرب نے بھی خطاب کیا۔ وکلا برادری کی تمام تنظیموں اور کورٹ روم کے مابین تعلقات کار اور شفاف میکنزم کی ضرورت پر ہر دور میں زور دیا گیا ہے۔
شہریوں کو حصول انصاف کے لیے وکلا برادری سے قریبی تعلق رکھنا پڑتا ہے وہی ان کے کیس لڑتے ہیں مگر گزشتہ چند برسوں میں جہاں سیاسی کشیدگی، عدم رواداری، معاشرتی اضطراب، دہشتگردی اور بدامنی نے ملکی سطح پر شہری و دیہی زندگی میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کی وہاں تحمل و برداشت، رواداری اور عدلیہ کے تقدس کے خلاف واقعات سے اخلاقی و سماجی اقدار کی شکست و ریخت پر قومی حلقوں نے سخت افسوس و رنج کا اظہار کیا۔
عدالتی حکام حتیٰ کہ ججز کو بھی نہیں بخشا گیا جہاں درماندہ نصیب لوگ انصاف کے لیے دستک دیتے ہیں وہاں بھی وکلا اور عدلیہ کے مابین تناؤ دیکھا گیا چنانچہ ہر موقع پر عدلیہ کے فاضل جج صاحبان نے وکلا برادری سے اعلیٰ پیشہ ورانہ طرز عمل اور عدالتی پروسیس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنے پر زور دیا، چیف جسٹس نے اسی پس منظر میں یہ کہا ہے کہ عدلیہ اور وکلاء میں خود احتسابی کا عمل شروع ہونا چاہیے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی شفاف طریقے سے کی جائے گی۔
یہ چیف جسٹس کی دوراندیشی اور تدبر و حکمت پر مبنی تلقین ہے، ٰ انھوں نے درست کہا کہ وکلا کی جانب سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کا خمیازہ ججوں اور سائلین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے کوئی باہر سے نہیں آئیگا، ہمیں خود کوشش کرنا ہو گی۔ انھوں نے وکلاء کو یقین دلایا کہ عدلیہ میں ہر سطح پر تقرریاں میرٹ پر کی جائینگی اور اعلیٰ عدالتوں میں وکلا کے 40 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کی شب سندھ ہائیکورٹ بار کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس فیصل عرب نے بھی خطاب کیا۔ وکلا برادری کی تمام تنظیموں اور کورٹ روم کے مابین تعلقات کار اور شفاف میکنزم کی ضرورت پر ہر دور میں زور دیا گیا ہے۔
شہریوں کو حصول انصاف کے لیے وکلا برادری سے قریبی تعلق رکھنا پڑتا ہے وہی ان کے کیس لڑتے ہیں مگر گزشتہ چند برسوں میں جہاں سیاسی کشیدگی، عدم رواداری، معاشرتی اضطراب، دہشتگردی اور بدامنی نے ملکی سطح پر شہری و دیہی زندگی میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کی وہاں تحمل و برداشت، رواداری اور عدلیہ کے تقدس کے خلاف واقعات سے اخلاقی و سماجی اقدار کی شکست و ریخت پر قومی حلقوں نے سخت افسوس و رنج کا اظہار کیا۔
عدالتی حکام حتیٰ کہ ججز کو بھی نہیں بخشا گیا جہاں درماندہ نصیب لوگ انصاف کے لیے دستک دیتے ہیں وہاں بھی وکلا اور عدلیہ کے مابین تناؤ دیکھا گیا چنانچہ ہر موقع پر عدلیہ کے فاضل جج صاحبان نے وکلا برادری سے اعلیٰ پیشہ ورانہ طرز عمل اور عدالتی پروسیس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنے پر زور دیا، چیف جسٹس نے اسی پس منظر میں یہ کہا ہے کہ عدلیہ اور وکلاء میں خود احتسابی کا عمل شروع ہونا چاہیے، اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی شفاف طریقے سے کی جائے گی۔
یہ چیف جسٹس کی دوراندیشی اور تدبر و حکمت پر مبنی تلقین ہے، ٰ انھوں نے درست کہا کہ وکلا کی جانب سے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کا خمیازہ ججوں اور سائلین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نظام کی تبدیلی کے لیے کوئی باہر سے نہیں آئیگا، ہمیں خود کوشش کرنا ہو گی۔ انھوں نے وکلاء کو یقین دلایا کہ عدلیہ میں ہر سطح پر تقرریاں میرٹ پر کی جائینگی اور اعلیٰ عدالتوں میں وکلا کے 40 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔