دیوالی نواز شریف اقبال اور جناح کے نقش قدم پر

ہر اک مکان میں جلا دیا پھر دوالی ک

zahedahina@gmail.com

ٹیلی وژن پر رنگوں اور روشنیوں کے جلو میں وزیر اعظم نواز شریف ہنس ہنس کر کہہ رہے ہیں کہ مجھے ہولی کے دنوں میں بلانا مت بھولیے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ مجھ پر رنگ پھینکیں اور میں آپ لوگوں کو رنگوں میں نہلا دوں۔

مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہیں آیا۔ پاکستان کی 68 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک کا وزیر اعظم کسی اقلیت کے تہوار میں اس خوش دلی کے ساتھ شریک ہوا ہے۔ اردو کے سب سے بڑے عوامی شاعر نظیر اکبر آبادی کی نظم 'دیوالی' یاد آتی ہے جس کی شروعات کچھ یوں ہوئی ہے کہ:

ہر اک مکان میں جلا دیا پھر دوالی کا... ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا ...سب ہی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا... کسی کے دل کو مزہ خوش لگا دوالی کا...عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا۔

کہیں دور سے علامہ اقبال کی گنگناہٹ سنائی دیتی ہے کہ:

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز

اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند

اور یہ بھی کسی اور کی نہیں اقبال ہی کی آواز ہے کہ :سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی...آ' اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں...دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ...دامانِ آسماں سے اس کا کلس ملا دیں۔

یہ بھی اقبال تھے جنھوں نے کہا تھا مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا۔ بانی پاکستان کی 11 اگست 1947ء کی تقریر کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ وہ مشہور تقریر جسے طاقتور بیورو کریسی نے سنسر کرنے بلکہ اسے غائب کر دینے میں ہی ملک کا بھلا چاہا تھا۔ یہ تو ڈان کے مرحوم ایڈیٹر الطاف حسین تھے جنھوں نے اس حکم نامے، کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور اب پاکستان کو ایک لبرل اور جمہوری ملک بنانے کے خواہش مند اس تقریر کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ اسی تقریر میں جناح صاحب نے کہا تھا:

'' پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہونگے۔ میں پاکستان کی اقلیتوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے تعاون کے جذبے سے کام لیا، ماضی کو فراموش کر دیا، تنازعات اور باہمی اختلافات کو بھلا دیا تو آپ میں سے ہر ایک چاہے وہ کسی رنگ ذات یا عقیدے سے متعلق ہو اور اس کا تعلق کسی فرقے سے ہی کیوں نہ ہو، اول و آخر اس ریاست کا باشندہ ہو گا۔

آپ کے حقوق، مراعات اور ذمے داریاں مشترک ہوں گی اور آپ اس میں برابر کے حصے دار ہوں گے۔ اگر آپ نے تعاون اور اشتراک کے جذبے سے کام کیا تو تھوڑے ہی عرصے میں اکثریت اور اقلیت ، صوبہ پرستی اور فرقہ بندی اور دوسرے تعصبات کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔

'' آپ آزاد ہیں... آپ آزاد ہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں... آپ آزاد ہیں کہ اپنی مسجدوں میں جائیں یا پاکستان کی حدود میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں، آپ کا تعلق کسی مذہب ، کسی عقیدے یا کسی ذات سے ہو، اس کا مملکت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ بات بطور نصب العین اپنے سامنے رکھنی چاہیے اور آپ یہ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ ہندو، ہندو رہے گا نہ مسلمان ، مسلمان۔ مذہبی مفہوم میں نہیں کیونکہ یہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے، بلکہ سیاسی مفہوم میں ۔۔۔ اس مملکت کے ایک شہری کی حیثیت سے ۔۔۔۔''۔

ایک طرف 11 اگست 1947ء کی یہ تقریر ہے جسے پاکستان کا '' میگنا کارٹا'' کہنا چاہیے، دوسری طرف سے وہ عناصر ہیں جنھوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور جب پاکستان بن گیا تو وہ اسے ایک جمہوری ریاست کی بجائے کٹر مذہبی ریاست بنانے پر تل گئے تھے اور یہی لوگ تھے جن کی کوششوں سے قرارداد مقاصد لکھی گئی اور منظور ہوئی۔


یہ کام جناح صاحب کے انتقال کے بعد ہوا کیونکہ یہ ان کی زندگی میں ممکن نہ تھا۔ وہ اقلیتوں کے بارے میں جس طرح محسوس کرتے تھے اس کا اندازہ 1954ء میں شایع ہونے والی ایس ایم شرما کی کتاب '' Peeps into Pakistan'' کی ان سطروں سے ہوتا ہے کہ

''کراچی کے انگریزی اخبار '' ڈیلی گزٹ''' نے 18 دسمبر 1947ء کو اپنے افتتاحیہ میں مسلم لیگ کونسل کے اس فیصلے پر سخت اظہار افسوس کیا کہ پاکستان نیشنل لیگ کی بجائے مسلم لیگ کا فرقہ وارانہ رنگ برقرار رکھا گیا ہے۔

اخبار کی رائے یہ تھی کہ یہ فیصلہ رجعت پسند عناصر کی فتح ہے اور اس فیصلہ میں کوئی معقولیت دکھائی نہیں دیتی۔ سندھ کے سابق مسلم لیگی لیڈر جی ایم سید کی رائے یہ تھی کہ پاکستان نیشنل لیگ کا قیام ضروری ہے جس میں تمام قوموں اور جماعتوں کے ارکان شامل ہوں۔ حسین شہید سہروردی کو بھی جی ایم سید کی اس رائے سے پورا اتفاق تھا اور انھیں حیرت تھی کہ مسلم لیگ کے اعلیٰ سطح کے لیڈروں میں اس کے مخالف نظریہ فروغ پا رہا ہے''۔

جناح صاحب کی گلوگیر آواز بھی ہم تک آتی ہے جس میں وہ کراچی کے سابق میئر اور اپنے عزیز اور قدیمی دوست جمشید نسروان جی سے کراچی میں ہونے والے فسادات پر اپنے دکھ اور اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان مسلم لیگ کو پاکستان نیشنل لیگ کا نام دینے کی کوشش کی جس میں مسلمانوں کے علاوہ پارسی، ہندو، سکھ اور مسیحی بھی شامل ہوں اور یوں اس کا ایک اجتماعی رنگ ابھر کر سامنے آئے۔ سندھ سے جی ایم سید اور مشرقی بنگال سے حسین شہید سہروردی اور بعض دوسرے سیاستدان بھی اس بات کے حق میں تھے لیکن ان کی ایک نہ چل سکی۔

'' قیام پاکستان کے بعد جناح ایک مرتبہ پھر ہندو۔ مسلم اتحاد کے سفیر کا اپنا پرانا مشہور کردار ادا کرنے کے متمنی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں ہندو اقلیت کا پروٹیکٹر جنرل بن کر رہوں گا۔

جناح کو کراچی میں سکھوں کی خونریزی کے المیہ پر بے انتہا صدمہ ہوا تھا۔ انھوں نے ایک مرتبہ جب ہندو شرنارتھیوں کے کیمپوں کا معائنہ کیا تو یہ مرد آہن اپنے اعصاب پر قابو نہ رکھ سکا اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جناح نے مسلم لیگ کو ایک غیر فرقہ وارانہ قومی جماعت بنانے کی بہت کوشش کی تھی۔ وہ اس جماعت کی رکنیت کے دروازے بلا لحاظ ذات، مسلک ، نسل اور مذہب پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے کھلے رکھنا چاہتے تھے''۔

اس تمام تاریخی پس منظر میں اور اس کے ساتھ ہی گذشتہ دہائیوں سے زیادہ کے عرصے پر محیط فرقہ وارانہ سیاست پر نگاہ ڈالیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے پاکستان کے وجود کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان تاریخی حقائق کو سمجھتے ہوئے اگر وزیر اعظم نے کراچی میں دیوالی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا تو کیا غلط کیا کہ ''ہم اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، ظالم مسلمان کے خلاف ایکشن ہو گا، مظلوم ہندو کا ساتھ دینگے۔

پاکستان میں رہنے والے ہر شخص کو یکساں اور مساوی حقوق حاصل ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی ترقی میں ہندو برادری نے بڑی خدمات انجام دی ہیں۔ میں کسی ایک کا نہیں بلکہ سب کا وزیر اعظم ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ ظالم کے خلاف ایکشن لوں گا اور مظلوموں کا ہمیشہ ساتھ دوں گا۔ قوم میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنا میرا مشن ہے۔ اقلیتی برادری کے لوگ پاکستان کا حصہ ہیں۔ اقلیتی برادری اپنے مذہبی تہوار اور خوشیوں میں تمام مذاہب کے لوگوں کو شریک کریں۔

تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ اگر ہم ایک دوسرے کے غم بانٹیں گے اور خوشیوں میں شریک ہوں گے تو بھائی چارہ، اخوت اور امن کا پیغام عام ہو گا ۔'' وزیر اعظم نے کہا کہ آپ سب کو دیوالی کی خوشیاں مبارک ہوں۔ آج ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار منا رہی ہے۔ میں آپ کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ اسلام سمیت تمام مذاہب مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ حکومت مظلوم کے ساتھ ہے اور ظالم کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی اسی ملک کا حصہ ہیں۔ اقلیتی برادری نے تعلیم، صحت، کھیل اور عدلیہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

نامور لوگوں کا تعلق ان شعبوں سے رہا ہے ، اقلیتی برادری نے فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑا حصہ لیا ہے۔ نامور ادارے قائم کیے ہیں۔ دیوالی کا تہوار اندھیرے سے روشنی کا پیغام ہے۔

انھوں نے کہا کہ دل کا رشتہ تمام رشتوں میں اہم ہوتا ہے کیونکہ اس رشتے سے لوگوں میں بھائی چارہ بڑھتا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگی رہنما کھئیل داس کوہستانی میرے اچھے دوست ہیں اور ہر اچھے برے وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ انھوں نے گوردوارہ ننکانہ صاحب کی تزئین و آرائش اور حیدر آباد بھگت رام میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ میں اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ایک ساتھ اس میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

فرقہ واریت سے بھائی چارے اور نفرت سے محبت کی طرف کا یہ سفر میاں نواز شریف کی ایک شاندار جست ہے۔ جناح صاحب کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ میاں صاحب کی بصیرت کا غماز ہے۔ یہ دیکھ کر مزید حوصلہ بڑھا کہ بلاول بھٹو، عمران خان اور ایم کیو ایم نے بھی دیوالی کے تہوار پر غیر مسلم پاکستانیوں کو دل کھول کر مبارک باد دی۔ پاکستان اس وقت جن بلاؤں میں گھرا ہوا ہے، ان سے نکلنے کے لیے ایسے ہی تخلیقی اور بے دھڑک اقدامات کی ضرورت ہے۔
Load Next Story