زندہ مویشیوں کی ایران و افغانستان برآمد سے گوشت کی ایکسپورٹ کو نقصان
سرخ گوشت مہنگا ہونے کے باعث صارفین کا مرغی کے گوشت پر انحصار بڑھنے لگا
سرخ گوشت مہنگا ہونے کے باعث صارفین کا مرغی کے گوشت پر انحصار بڑھنے لگا۔ فوٹو: فائل
RAWALPINDI:
افغانستان اور ایران کو زندہ مویشیوں کی ایکسپورٹ پاکستان میں گوشت کی ایکسپورٹ کی صنعت کو نقصان پہنچارہی ہے۔ زندہ مویشیوں کی بڑھتی ہوئی ایکسپورٹ سے مقامی سطح پر مویشیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، دوسری جانب سرخ گوشت مہنگا ہونے کی وجہ سے مقامی صارفین کا مرغی کے گوشت پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگری کلچر کریڈٹ اینڈ مائکروفنانس ڈپارٹمنٹ کی پاکستان میں بیف ویلیو چین سے متعلق تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان 1.769 ملین میٹرک ٹن بیف اور 6لاکھ 29ہزار ٹن مٹن کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں گوشت کی طلب کی حامل بڑی منڈیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں گوشت کے کاروبار کی مالیت 1300ارب روپے ہے۔ مجموعی پیداوار کا ایک فیصد گوشت بیرون ملک ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ گوشت کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھنے کے باوجود پاکستان میں گوشت کی فی کس سالانہ کھپت 42کلو گرام کے عالمی اوسط کے مقابلے میں 18کلو گرام فی کس تک محدود ہے۔
حلال گوشت کی عالمی منڈی کا حجم ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے گوشت کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھنے اور گوشت کی ایکسپورٹ میں بے تحاشہ پوٹینشل کے باوجود پاکستان میں فارم کی سطح پر روایتی فرسودہ طریقے رائج ہونے، انٹرنیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ہائی جین معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے پاکستان سے گوشت کی ایکسپورٹ محدود ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے گوشت کی ایکسپورٹ کے لیے کوٹہ مخصوص کیا جاتا ہے تاہم پاکستان سے بڑے پیمانے پر مویشیوں کی ایران اور افغانستان اسمگلنگ اور گوشت کی ایکسپورٹ پاکستانی انڈسٹری کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ مویشیوں کی ایکسپورٹ اور اسمگلنگ کی وجہ سے دیگر متعلقہ صنعتوں بالخصوص لیدر انڈسٹری کو بھی خام مال دستیاب نہیں ہوتا بلکہ مویشیوں کے دیگر اندرونی اعضا سے متعلق کاروبار بھی متاثر ہورہے ہیں۔
افغانستان اور ایران کو زندہ مویشیوں کی ایکسپورٹ پاکستان میں گوشت کی ایکسپورٹ کی صنعت کو نقصان پہنچارہی ہے۔ زندہ مویشیوں کی بڑھتی ہوئی ایکسپورٹ سے مقامی سطح پر مویشیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، دوسری جانب سرخ گوشت مہنگا ہونے کی وجہ سے مقامی صارفین کا مرغی کے گوشت پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگری کلچر کریڈٹ اینڈ مائکروفنانس ڈپارٹمنٹ کی پاکستان میں بیف ویلیو چین سے متعلق تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان 1.769 ملین میٹرک ٹن بیف اور 6لاکھ 29ہزار ٹن مٹن کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں گوشت کی طلب کی حامل بڑی منڈیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں گوشت کے کاروبار کی مالیت 1300ارب روپے ہے۔ مجموعی پیداوار کا ایک فیصد گوشت بیرون ملک ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ گوشت کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھنے کے باوجود پاکستان میں گوشت کی فی کس سالانہ کھپت 42کلو گرام کے عالمی اوسط کے مقابلے میں 18کلو گرام فی کس تک محدود ہے۔
حلال گوشت کی عالمی منڈی کا حجم ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے گوشت کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھنے اور گوشت کی ایکسپورٹ میں بے تحاشہ پوٹینشل کے باوجود پاکستان میں فارم کی سطح پر روایتی فرسودہ طریقے رائج ہونے، انٹرنیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ہائی جین معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے پاکستان سے گوشت کی ایکسپورٹ محدود ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے گوشت کی ایکسپورٹ کے لیے کوٹہ مخصوص کیا جاتا ہے تاہم پاکستان سے بڑے پیمانے پر مویشیوں کی ایران اور افغانستان اسمگلنگ اور گوشت کی ایکسپورٹ پاکستانی انڈسٹری کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ مویشیوں کی ایکسپورٹ اور اسمگلنگ کی وجہ سے دیگر متعلقہ صنعتوں بالخصوص لیدر انڈسٹری کو بھی خام مال دستیاب نہیں ہوتا بلکہ مویشیوں کے دیگر اندرونی اعضا سے متعلق کاروبار بھی متاثر ہورہے ہیں۔