فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی پیرس حملے میں بال بال بچ گئے
فرانس کودنیا بھرمیں فیشن اورخوشبوکا گھرکہاجاتا ہےدہشتگردی کے اس واقعہ کے بعد دنیا بھر کے لوگ افسردہ ہیں، محمود بھٹی
فرانس کودنیا بھرمیں فیشن اورخوشبوکا گھرکہاجاتا ہےدہشتگردی کے اس واقعہ کے بعد دنیا بھر کے لوگ افسردہ ہیں، محمود بھٹی۔ فوٹو: فائل
KABUL:
پاکستانی نژاد بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی پیرس میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے میں بال بال بچ گئے۔
وہ ایک دوست کے ہمراہ پیرس کے ایک معروف ہوٹل میں موجود تھے کہ اچانک سے فائرنگ ہونے پربھگدڑ مچ گئی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی چیختے ہوئے لوگ ہوٹل سے باہر نکلے توایسے میں محمود بھٹی کومعمولی چوٹ لگی لیکن ان کی دوست کی ٹانگ فریکچر ہوگئی۔ اس موقع پرانھیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال لیجایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ محمود بھٹی نے دہشتگردی کے اس واقعہ پر ''ایکسپریس'' کوبتایا کہ میں ایک قریبی دوست کے ہمراہ ہوٹل میں موجود تھا اور گفتگو کررہا تھا کہ اچانک فائرنگ ہونے لگی اوردیکھتے ہی دیکھتے ہوٹل میں ایسی بھگدڑ مچی کہ پھر ہرکوئی اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقام کی تلاش میں بھاگنے لگا۔
ایسے میں دھکم پیل کی وجہ سے مجھے بھی چوٹ آئی لیکن دوست کواس قدر شدید چوٹ لگی کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اوراسے ڈاکٹروں نے دو ماہ تک مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے بتایاکہ میں اپنی گاڑی میں ہوٹل گیا تھا لیکن ابھی تک میری گاڑی اسی ہوٹل کی پارکنگ میں موجود ہے۔ انھوں نے بتایاکہ فرانس کودنیا بھر میں فیشن اورخوشبوکا گھرکہا جاتا ہے میں دہشتگردی کے اس واقعہ کے بعد دنیا بھر کے لوگ افسردہ ہیں۔ دہشتگردوں نے بڑی سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ کام انجام دیا ہے جس کا مقصد فی الحال تولوگوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے لیکن اس کے نتائج کچھ ٹھیک نہیں دکھائی دے رہے۔
پاکستانی نژاد بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی پیرس میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے میں بال بال بچ گئے۔
وہ ایک دوست کے ہمراہ پیرس کے ایک معروف ہوٹل میں موجود تھے کہ اچانک سے فائرنگ ہونے پربھگدڑ مچ گئی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی چیختے ہوئے لوگ ہوٹل سے باہر نکلے توایسے میں محمود بھٹی کومعمولی چوٹ لگی لیکن ان کی دوست کی ٹانگ فریکچر ہوگئی۔ اس موقع پرانھیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال لیجایا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ محمود بھٹی نے دہشتگردی کے اس واقعہ پر ''ایکسپریس'' کوبتایا کہ میں ایک قریبی دوست کے ہمراہ ہوٹل میں موجود تھا اور گفتگو کررہا تھا کہ اچانک فائرنگ ہونے لگی اوردیکھتے ہی دیکھتے ہوٹل میں ایسی بھگدڑ مچی کہ پھر ہرکوئی اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقام کی تلاش میں بھاگنے لگا۔
ایسے میں دھکم پیل کی وجہ سے مجھے بھی چوٹ آئی لیکن دوست کواس قدر شدید چوٹ لگی کہ اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی اوراسے ڈاکٹروں نے دو ماہ تک مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے بتایاکہ میں اپنی گاڑی میں ہوٹل گیا تھا لیکن ابھی تک میری گاڑی اسی ہوٹل کی پارکنگ میں موجود ہے۔ انھوں نے بتایاکہ فرانس کودنیا بھر میں فیشن اورخوشبوکا گھرکہا جاتا ہے میں دہشتگردی کے اس واقعہ کے بعد دنیا بھر کے لوگ افسردہ ہیں۔ دہشتگردوں نے بڑی سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ کام انجام دیا ہے جس کا مقصد فی الحال تولوگوں کو سمجھ نہیں آرہا ہے لیکن اس کے نتائج کچھ ٹھیک نہیں دکھائی دے رہے۔