دہشت گردی کیخلاف جنگ میں افغان حکومت کا کردار

ایک عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بظاہر بہتر دکھائی دینے کے ساتھ ساتھ الجھاؤ کا شکار چلے آ رہے ہیں

اگر افغان حکومت نے اپنا رویہ اب بھی نہ بدلا اور دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع نہ کی تو خدشہ ہے کہ صورت حال میں بہتری نہیں آئے گی فوٹو: فائل

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے واشنگٹن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا کے حوالے سے اتوار کو میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں اقدامات نہیں کیے، افغانستان اوراتحادی فوج کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ضرب عضب سے بچنے کے لیے دہشت گرد افغانستان میں فرار ہوں گے ، دہشت گردوں کو روکنے کے لیے افغانستان کو بھی اقدامات کرنے چاہیں، دہشت گردوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے سرحد پر سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔

آپریشن ضرب عضب سے سرحدوں کے دونوں جانب صورتحال بہترہوئی اور پاکستان خلوص کے ساتھ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ دوسری جانب افغان صدر کے نائب ترجمان نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ثابت کرنا ہو گا کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اگر پاکستان افغانستان کے امن عمل میں اس کا اچھا دوست بننا چاہتا ہے تو یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ اپنے علاقوں میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔

ایک عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بظاہر بہتر دکھائی دینے کے ساتھ ساتھ الجھاؤ کا شکار چلے آ رہے ہیں' دونوں ممالک کے عوام کے آپس میں گہرے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن حکومتی سطح پر دوستانہ اور قریبی تعلقات کے اظہار کے باوجود افغان حکومت کی جانب سے ایسے بیانات ایک بار پھر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔

جس سے الجھاؤ اور کشیدگی پیدا ہو رہی ہے۔ جہاں تک دہشت گردوں کا تعلق ہے تو یہ افغانستان ہی سے پاکستان میں آئے ہیں لیکن پاکستانی حکومت اور فوج نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جس کا واضح اظہار آپریشن ضرب عضب سے ہوتا ہے لیکن افغان حکومت کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی منظر عام پر نہیں آئی بلکہ وہ اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی رہتی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان میں آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں' پاکستان کے بار بار حوالگی کے مطالبہ کے باوجود افغان حکومت نے ان مفرور دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔


ترجمان آئی ایس پی آر نے یہ انکشاف کیا کہ افغانستان میں آپریشن ضرب عضب کی حمایت میں کوئی اقدامات بھی نہیں کیے۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے قبل افغان حکومت کو سرحدوں پر نگرانی کا انتظام سخت کر دینا چاہیے تھا تاکہ فرار ہونے والے دہشت گردوں کو گرفتار کیا جا سکے لیکن افغان حکومت نے اس سلسلے میں انتہائی غیرذمے داری اور تساہل کا مظاہرہ کیا جس کا آج نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں ۔

اگر افغان حکومت اسی وقت سرحدوں پر نگرانی کا انتظام سخت کر دیتی تو یقیناً فرار ہونے والے دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد پکڑی جاتی اور آج امن و امان کی صورت حال بہتر ہوتی۔ آج بھی سرحدی صورت حال میں بہتری نہیں آئی اور افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کے پاکستان پر حملے جاری ہیں جو افغان حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جب کہ پاکستان نے سرحدوں پر مداخلت اور دہشت گردی روکنے کے لیے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کر رکھے ہیں۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ افغان حکومت نہ تو خود ہی دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہی ہے اور نہ پاکستان ہی سے تعاون کر رہی ہے' الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق وہ پاکستان کے بارے میں کہہ رہی ہے کہ وہ افغانستان کے دشمن کو اپنا دشمن قرار دے۔ افغان حکومت کا یہ بیان انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان تو طالبان کے خلاف پہلے ہی بڑے پیمانے پر کارروائی کر رہا ہے جب کہ افغان حکومت کا کردار یہ ہے کہ وہ طالبان سے امن کی بھیک مانگنے کے لیے ان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا اور آج بھی وہ افغان حکومت کو اپنے تعاون کا ہر ممکن یقین دلا رہا ہے۔

افغان حکومت کے مخالفانہ بیانات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ افغان اداروں اور انتظامیہ میں پاکستان مخالف لابی بہت مضبوط اور سرگرم ہے اور افغان حکومت بھی اس لابی کے دباؤ میں آ کر اس کی زبان بول رہی ہے۔ افغان حکومت کو پاکستان کے خلاف الزام تراشی کرنے کے بجائے چاہیے کہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے کیونکہ دہشت گردوں کے گروہ کافی مستحکم اور متحرک ہیں ان سے تنہا نمٹنے کے بجائے مشترکہ کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

اگر افغان حکومت نے اپنا رویہ اب بھی نہ بدلا اور دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع نہ کی تو خدشہ ہے کہ صورت حال میں بہتری نہیں آئے گی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
Load Next Story