پیرس کے بعد کیا ہوگا میڈیا میں بازگشت

اس سانحہ کے بعد مسلم ممالک کا میڈیا سامراجی، استعماری اور نوآبادیاتی طرز عمل کو زیر بحث لارہا ہے

پیرس میں دہشتگرد حملوں کے بعد سوگ کا سماں ہے ۔ فوٹو : اے ایف پی

ISLAMABAD:
پیرس سانحہ کو مہذب دنیا پر ایک اور نائن الیون حملہ سے تعبیر کیا جارہا ہے، جی20ممالک کی سربراہ کانفرنس سخت سیکیورٹی میں ترکی کے شہر انطالیہ میں شروع ہوگئی، دوسری جانب امریکی صدر اوباما نے داعش کے خلاف فوجی کارروائیوں کو دگنا کرنے کا اعلان کیا ہے، کانفرنس میں امریکا ، روس، چین کے صدور سمیت اہم عالمی رہنما شرکت کر رہے ہیں، سرکاری عشائیہ اور میوزک کنسرٹ بھی منسوخ کردیے گئے ۔

دریں اثنا وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے فرانس میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد کی صورتحال اور معاملہ کی سنگینی کے تناظر میں پاکستانیوں کو بلاوجہ مسائل سے بچانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کا حکم دیدیا ہے ، گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ پیرس حملے سمیت دنیا میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات سے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لیے مشکلات اور مسائل میں اضافہ ہوگا۔

اس سلسلے میں وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اورایف آئی اے سے ملکر ایسی پالیسی اور لائحہ عمل وضع کرے جس میں غیرممالک میں بسنے والے پاکستانیوں سے کسی غیرقانونی سلوک پر ان کی فوری مدد کی جائے۔ ادھر پیرس بدستور دہشتگردی کے مضمرات کی زد میں ہے، اس سانحہ کے بعد مسلم ممالک کا میڈیا سامراجی، استعماری اور نوآبادیاتی طرز عمل کو زیر بحث لارہا ہے، کچھ لوگ اسے صلیبی جنگوں کا رد عمل اور مسلم دشمنی کا نتیجہ اور مکافات عمل قرار دے رہے ہیں ۔


نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریئے میں سوال اٹھایا ہے کہ پیرس کے بعد کیا ہوگا؟ تاہم اس اخبار نے عالمی ضمیر سے اپیل کی کہ داعش کئی ممالک کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور اس نے اپنی جنگی صلاحیت و طاقت کا عراق، شام ، لیبیا میں مظاہرہ کیا ہے، مگر اہل یورپ سے مسلمانوں کو عفریت یا بلائے ناگہانی بناکر پیش کرنے سے گریز اور صبر و رواداری کی تلقین کی ہے۔دریں اثنا وسطی علاقے میں دہشتگرد حملوں کی جگہ پر پھول رکھنے کے دوران دھماکوں کی آواز پر بھگدڑ مچ گئی جس سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ دھماکا کریکر پھٹنے سے ہوا۔ پیرس میں دہشتگرد حملوں کے بعد سوگ کا سماں ہے ۔

برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹرز پر تمام رکن ممالک کے جھنڈے سرنگوں رہے۔ یورپی یونین میں سوگ منایا جا رہا ہے ۔ یورپی کمیشن کے سربراہ یان کلاڈ ینکر نے تنبیہہ کی کہ یورپی ممالک پیرس حملوں کے ردعمل میں مہاجرین کی درخواستیں مسترد نہ کریں، پریس کانفرنس میں کلاڈ ینکر نے کہا کہ ہمیں یورپ آنے والے مختلف قسم کے لوگوں کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھنا چاہیے، مہاجروں اور مجرموں میں تفریق کرنا ہوگی ۔

یہ انداز نظر مستحسن ہے، مشتعل ممالک کو بطور خاص جب کہ بلاکوں میں بٹی ہوئی مسلم دنیا کوباالعموم داعش سمیت دہشتگردی میں ملوث ہر انتہا پسند تنظیم کے ہمہ جہتی خطرات سے بچنے کی مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
Load Next Story