جمہوریت زندہ باد… لبرل ازم پایندہ باد

ہمارے وزیر اعظم میاں نوازشریف نے فرمایا ہے کہ جمہوریت اور لبرل ازم ہماری ریاستی پالیسی ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ISLAMABAD:
ہمارے وزیر اعظم میاں نوازشریف نے فرمایا ہے کہ جمہوریت اور لبرل ازم ہماری ریاستی پالیسی ہے۔کسی ملک کے وزیر اعظم کا ریاستی پالیسی پر اظہار خیال بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ خاص کر ایسے ماحول میں جہاں مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہو اور انتہا پسند طاقتیں جمہوریت اور لبرل ازم کو مذہب دشمنی کا نام دیتی ہوں۔

وزیر اعظم کا کھلے عام جمہوریت اور لبرل ازم کو ریاستی پالیسی کی اساس قرار دینا یقینا بڑی جرأت کی بات ہے لیکن ہم جس نفسیاتی فضا میں زندہ ہیں، اس میں جمہوریت اور لبرل ازم یقینا ایک آئیڈیل تصور کی حیثیت رکھتی ہیں لیکن جو اہل فکر سرمایہ دارانہ نظام کے حربوں سے واقف ہیں وہ ان رنگین غباروں سے متاثر اس لیے نہیں ہوتے کہ یہ دونوں وہ خوبصورت نقاب ہیں، جنھیں سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے اس نظام کے بدصورت چہرے کو چھپانے کے لیے اس پر ڈال رکھے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ دانشوروں نے اس نظام کی بدصورتی کو چھپانے کے لیے پہلے جمہوریت کا حسین نقاب اس کے چہرے پر ڈالا اس کے باوجود جب اس نظام کا چہرہ چھپ نہ سکا تو اسے اہل دانش کی طرف سے قابل قبول بنانے کے لیے لبرل ازم کا ایک اور خوبصورت نقاب ڈال دیا۔ آئیے پہلے اس جمہوریت پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس کی تعریف میں زمین اور آسمان ایک کردیے جاتے ہیں۔

شخصی اورخاندانی حکومتوں کو برا کہنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس نظام میں اختیارات کل کا مالک فرد واحد ہوتا تھا اور اس فرد واحد کو پوری قوم کی تقدیرکے فیصلے کرنے کا حق حاصل تھا، اسے اختیار میں نہ عوام کی مشاورت ہوتی تھی نہ اس کے فیصلوں میں عوام شریک ہوتے تھے۔ اس کمزوری کو دورکرنے کے لیے جس نظام کو متعارف کرایا گیا، اسے جمہوریت کا نام دیا گیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس نظام کو متعارف کرانے والے اس نظام کی سرشت سے کس قدر واقف تھے لیکن اس نظام سے ان کی نیک نیتی کا اندازہ ان کی طرف سے اس نظام کی تشریح سے بہرحال ہوتا ہے کہ اس نظام کا مطلب ''عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے'' ہوگا۔

اب آئیے! ذرا اس نظام کی تعریف کے حوالے سے اس نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس نیابتی نظام کا سب سے بڑا فراڈ یہ ہے کہ اس کی تعریف کا پہلا ہی حصہ یعنی عوام کی حکومت ایک ایسا دھوکا ہے جس سے غریب اور ناخواندہ عوام تو دھوکا کھا سکتے ہیں لیکن اہل عقل بہرحال اس کے اسرارو رموز سے پوری طرح واقف ہیں۔

ترقی یافتہ ملکوں میں بھی اس نظام کے پردے میں بڑے بڑے سرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیاں عالمی مالیاتی ادارے اصل طاقت بنے ہوئے ہیں اوراگر ان کی کارکردگی کا 5 فیصد حصہ عوام کے حق میں ہوتا ہے تو 95 فیصد حصہ سرمایہ داروں اور ان کے طبقاتی بھائیوں کے حق میں ہوتا ہے۔ مثلاً دنیا کے 7 ارب انسانوں میں 90 فیصد کا حال یہ ہے کہ ان کی ساری محنت اور توجہ روٹی کپڑے کے حصول پر ہوتی ہے اور ایک چھوٹی سی اشرافیائی اقلیت ہاتھ پیر ہلائے بغیر اس نظام کی خوبیوں سے کروڑ پتی اور ارب پتی بن جاتی ہے۔ اس اقلیت کی زندگی جنت کا نمونہ ہوتی ہے اور 90 فیصد انسانوں کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہوتی ہے۔


اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام میں قانون سازی کا اختیار یا تو اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے یا پھر ان کے معصوم ہمنواؤں کے ہاتھوں میں ہمارے ملک ہی کی مثال لے لیجیے۔ قانون ساز اداروں میں کسانوں کے نمایندوں کی تعداد کتنی ہے،مزدوروں کے نمایندوں کی تعداد کتنی ہے؟ کسان ہماری آبادی کا 60 فیصد حصہ ہیں مزدوروں کی تعداد ساڑھے چارکروڑ بتائی جاتی ہے کیا اس بھاری اکثریت کی نمایندگی پارلیمنٹ میں ہے؟

مزدوروں،کسانوں اورغریب طبقات کے نام پر جومعززین قانون ساز اداروں میں پہنچتے ہیں، ان کا مزدوروں، کسانوں،غریبوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ ہمارا انتخابی نظام ہے جس میں انتخابات لڑنے کے لیے کروڑ پتی ہونا ضروری ہوتا ہے جب کہ مزدور،کسان اور ان کے حقیقی نمایندے دو وقت کی روٹی سے محتاج ہوتے ہیں، ہماری جمہوریت تو اس قدر پسماندہ ہے کہ یہاں ابھی تک سیاسی طاقت کے مالک وڈیرے جاگیردار ہیں، یہاں ابھی تک جمہوریت سرمایہ داروں کے قبضے میں بھی نہیں آسکی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے اس ملغوبے کا نام جمہوریت رکھ دیا گیا ۔

ہمارے مفکرین کا ارشاد ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری جمہوریت کسی حادثے میں لولی لنگڑی ہوگئی ہے جس کے صحت مند ہونے کے امکانات ہیں یا یہ جمہوریت پیدائشی پولیو زدہ ہے جس کے بہتر ہونے کی امید کرنا حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ جمہوریت کی دوسری خوبی یا وصف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ جمہوریت عوام کے لیے ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں جمہوریت کو آئے ہوئے سیکڑوں سال ہو رہے ہیں اگر جمہوریت عوام کے لیے ہوتی تو بھوکے عوام لائنوں میں لگ کر لنگر خانوں سے روٹی نہیں کھاتے۔ ان کے دسترخوان بھی مناسب اورصحت مند غذاؤں سے بھرے رہتے بھارت میں اس محترمہ کو آئے ہوئے 68 سال ہو رہے ہیں اور یہاں کی آبادی کا 53 فیصد حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بھارت کی 36 لاکھ ناریاں جسم فروشی کا کاروبار کر رہی ہیں۔

پاکستان میں بھی 53 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور سخی لوگوں کی تنظیموں کی طرف سے کھولے گئے لنگر خانوں میں بھوکوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ ثواب کما رہے ہیں جب کہ بہت سے لوگ ندامت کما رہے ہیں۔

لبرل ازم کا مطلب نظریاتی اعتدال پسندی ہے۔ بلاشبہ حکام نے اعتدال پسندی کی تعریف کی ہے لیکن جس ملک میں میڈیا پر انتہا پسندوں کا قبضہ ہے جس ملک میں مذہبی انتہا پسندی قدم قدم پر اپنے جلوے دکھا رہی ہے، جس ملک میں لبرل ازم کے سرپرست اور حامی اپنے سیاسی مفادات کے لیے مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے مدد لیتے ہوں اور جس ملک کا دستور ریاست کو مذہبی قرار دیتا ہے اور حقیقی لبرل خوف کے مارے لبرل ازم کا مطلب کیا ہوسکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ظلم اور ناانصافی کے ان معاشروں میں لبرل ازم کے ذریعے معاشی معاشرتی اور سیاسی ناانصافیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ بھوکا انسان انتہا پسند ہوجاتا ہے جو فطری بات ہے کیا سرمایہ دارانہ جمہوریت میں لبرل ازم کا مطلب مشتعل عوام کے گلے میں رسی ڈالنے کے علاوہ اور کچھ ہوسکتا ہے؟ جمہوریت زندہ باد لبرل ازم پایندہ باد۔
Load Next Story