نظامِ عدل اور عوام

نظامِ عدل سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو انتشار پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا۔

tauceeph@gmail.com

QUETTA:
آئین کی بالادستی عدلیہ کی ذمے داری ہے۔ نظامِ عدل سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا تو انتشار پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا۔ تمام اداروں کو آئینی حدوں میں رہ کر مسائل پر قابو پانا چاہیے۔ وکلاء مقدمات میں غیرضروری تاخیر سے گریزکریں۔ امن و امان کا قیام حکومت کا کام ہے۔ بدعنوانی کی شکایت پر 11 ججوں کو فارغ کیا گیاہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس فیصل عرب نے سندھ ہائی کورٹ بار کے سالانہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ معزز چیف جسٹس صاحبان نے آئین کی بالادستی، نظامِ عدل اور عوام کے اعتماد کی اہمیت کو اپنی تقاریر میں واضح طور پر اجاگرکیا۔

ملک کی سیاسی تاریخ اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پاکستان میں سویلین آمروں کی بالادستی اور فوجی حکومتوں کو آئینی جواز فرام کرنے میں اعلیٰ عدالتوں کا اہم کردار رہا ہے مگر فوجی آمریتوں کو للکارنے میں معزز ججز اور وکلاء نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جب تیسرے گورنر جنرل غلام محمد نے 50 ء کی دہائی میں مسلم لیگ کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برطرف کیا اور پھر آئین ساز اسمبلی کو توڑ دیا تو اس وقت کے چیف جسٹس منیر نے اس غیر آئینی اقدام کو قانونی قرار دیا۔

اسی طرح جب فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لاء نافذ کیا تو پھر جسٹس منیر نے ڈوسوکیس میں فوجی مارشل لاء کو قانونی کہا مگر ایوب خان کو مغربی پاکستان کے ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس کیانی کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل یحییٰ خان کے فوجی مارشل لاء کو انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جیلانی (موجودہ عاصمہ جہانگیر) نے اپنے والد ملک غلام جیلانی کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے مارشل لاء کے جواز کو چیلنج کیا تو جسٹس حمود الرحمن پر مشتمل فل بینچ نے مارشل لاء کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا۔ مگر جب ستمبر 1978 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کو پیپلز پارٹی کی قائم مقام چیئرپرسن نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو اس وقت کے چیف جسٹس انوار الحق جنرل ضیاء الحق کے ہمنوا بن گئے۔

اس وقت عبوری آئینی حکم ( P.C.O) کو تسلیم نہ کرنے پر جسٹس دراب پٹیل، جسٹس فخر الدین جی ابراہیم اور جسٹس خدا بخش مری سمیت کئی ججوں کو برطرف کردیا گیا۔ پاکستان کی عدلیہ کی فوجی حکومت کے خلاف مزاحمت کی یہ پہلی روایت تھی۔ اس روایت کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی، جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس رشید رضوی وغیرہ نے پاسداری کی اور جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ عبوری آئینی حکم کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے۔

2007 میں جنرل پرویز مشرف نے جسٹس افتخار چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے سے معزول کیا تو اعلیٰ عدالتوں کے جج اور وکلاء متحد ہوئے، یوں جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ نافذ کردہ عبوری آئینی حکم کو تسلیم نہ کرنے پر سپریم کورٹ اور چاروں ہائی کورٹس کے ججوں کی غالب اکثریت اپنے عہدوں سے محروم ہوگئی۔ جسٹس دراب پٹیل کی مزاحمت کی روایت نے ایک تحریک کی شکل اختیارکرلی۔ وکلاء نے ججوں کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ اس جدوجہد میں سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کراچی اور اسلام آباد میں اس تحریک کو جلا دینے کے لیے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔


وکلاء تحریک عدلیہ کی آزادی کی تحریک تھی جس میں ملک بھر کے عوام نے بھرپور حصہ لیا۔ ملک بھر میں عوام جسٹس افتخار چوہدری اور ان کے ساتھیوں کے استقبال کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ ایم کیو ایم نے 12 مئی 2007کو جسٹس افتخار چوہدری کے جلوس کو روکنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا، جس میں قیمتی جانیں ضایع ہوئیں اور ایم کیو ایم کا تشخص بری طرح متاثر ہوا۔ تاریخ کی سچائی یہ ہے کہ 12 مئی کو ایم کیو ایم کے رہنما عاصمہ جہانگیر اور ان کے ساتھیوں کو کراچی شہر میں داخلے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھے اور آج عاصمہ جہانگیر کے علاوہ کوئی اور وکیل ان کے قائد کی داد رسی کے لیے تیار نہیں ہے۔

عوام وکلاء کی تحریک کی اس لیے حمایت کررہے تھے کہ وہ عدالتی نظام سے مایوس تھے اور انھیں یہ امید تھی کہ جسٹس افتخار چوہدری اور دیگر ججوں کی بحالی کے بعد انصاف کا حصول آسان اور سستا ہوجائے گا مگر پاکستان کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری اپنے عہدے پر بحالی کے بعد اپنی ذات کی پروجیکشن میں لگ گئے۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے ازخود نوٹس (Suo Moto Notice) کے اختیار کے تحت اخبارات اور ٹی وی چینلز پر روزانہ اپنے لیے جگہ تو مختص کرلی مگر مقدمات کے جلد فیصلوں اور انصاف سستا کرنے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات پر توجہ نہیں دی، پھر وکلاء میں تشدد اور بالادستی کا ایک خطرناک رجحان پیدا ہوا۔ وکلاء نے پورے ملک میں ضلعی عدالتوں کے ججوں کو ڈرایا دھمکایا۔ پ

ولیس اور میڈیا والوں پر تشدد بھی کیا گیا۔ وکلاء میں ہڑتالوں کا کلچر مضبوط ہوا۔ ہڑتالوں کے کلچر سے عام سائلین کے لیے مسائل بڑھ گئے۔ سپریم کورٹ تو خاصی حد تک وکلاء کی ہڑتالوں کے کلچر سے محفوظ ہے مگر ضلع عدالتوں میں ہڑتالیں عام سی بات ہیں۔ ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے اساتذہ اور ڈاکٹروں کی ہڑتالوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ معزز ججوں کو وکلاء کی ہڑتالوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ بعض وکلاء میں انتہاپسندی کے رجحانات بھی ہیں۔ ملتان کے انسانی حقوق کے کارکن اور سینئر وکیل راشد رحمن کو دھمکیاں دی گئیں۔ اسی طرح عاصمہ جہانگیر نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے لاہور ہائی کورٹ میں تقریر پر پابندی کے مقدمے میں دفاع کا فیصلہ کیا تو ایک گروہ نے ان پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے گئے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی اس بات میں واضح حقیقت ہے کہ آئین کی بالادستی کی ذمے داری عدلیہ پر ہے۔

اس ضمن میں گراں قدر فیصلے کیے ہیں اور قربانیاں بھی دی ہیں۔ جسٹس جمالی ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے پرویز مشرف کے غیر آئینی عبوری حکم کو ماننے سے انکار کیا تھا اور عوام کو یہ امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کی بالادستی پر کبھی بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ مگر بنیادی سوال نظامِ عدل پر عوام کے اعتماد کا ہے۔ اس وقت عام آدمی عدالتوں سے رجوع کرنے سے گریزکرتا ہے۔ اس کی وجہ انصاف کا مہنگا ہونا اور کئی برسوں بعد میسر آنا ہے۔

انصاف کے حصول کو آسان اور سستا بنا کر ہی اچھی طرز حکومت کا مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ اور ضلع عدالتوں کے ججوں کی تعداد میں کئی سو گنا اضافہ، پولیس کے تفتیشی نظام اور پراسیکیوشن کے نظام میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کے نظام کو قبول کر کے انتظامیہ کے بیانیہ کی توثیق کی ہے کہ عام عدالتوں میں دہشت گرد محفوظ رہے ہیں مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس کا حل عدلیہ کے نظام کی خرابیوں کو دورکرنا ہی ہے۔ اگر عدالتی اور پولیس کا نظام بہتر ہوجائے تو عام آدمی کی زندگی پر اس کے بہتر نتائج مرتب ہونگے۔ عوام میں آئین، قوانین اور عدالتوں کی اہمیت کے بارے میں شعور بلند ہوگا اور صرف عدالتیں تنہا آئین کا تحفظ نہیں کریں گی بلکہ عوام بھی ان کے پشت پر ہونگے۔
Load Next Story