یہ انتخاب کیوں لڑتے ہیں
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران ایوان میں صرف 27 ارکان اور ایک وزیر موجود تھے
قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران ایوان میں صرف 27 ارکان اور ایک وزیر موجود تھے تو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کورم نہ ہونے کی نشاندہی سے گریز کیا اور کہا کہ میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی نہیں کروں گا، اگرچہ صورتحال افسوسناک ہے اور ارکان اسمبلی ایوان میں نہیں آتے تو وزیروں کی غیر حاضری کا قومی اسمبلی کے اسپیکر کو چیئرمین سینیٹ کی طرح نوٹس لینا چاہیے۔
قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 345 ہے اور ایوان میں جب صرف 27 ارکان ہی موجود ہوں اور خالی ایوان کے باوجود اگر کارروائی جاری رہے تو ایسی جمہوریت کو کون جمہوریت قرار دے گا اور ایسی جمہوریت کی کون حمایت کرے گا۔ یہ بات قومی اسمبلی کی اہمیت اور موجودگی پر ایسا سوالیہ نشان ہے کہ ایسی قومی اسمبلی کا کیا فائدہ جس کے وجود پر ہر ماہ عوام کے دیے گئے ٹیکسوں سے کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور ہر رکن اسمبلی کو ماہانہ ایک لاکھ کے قریب الاؤنسز مل رہے ہوں اور ملک و قوم پر بوجھ ان ارکان اسمبلی کا ایوان میں انتظار ہوتا رہے اور کورم کی نشاندہی سے گریز کیا جائے۔ ارکان اسمبلی کیفے ٹیریا میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہوں اور کورم پورا کرنے کے لیے ایوان سے گھنٹی بجا کر ارکان اسمبلی کو متوجہ کیا جائے کہ حضور! آپ ایوان میں شرکت کے لیے منتخب کیے گئے تھے ایوان میں آ کر اپنا قومی فریضہ بھی ادا کر لیں۔
حال ہی میں لاہور میں قومی اسمبلی کی خالی قرار دی جانے والی نشست پر انتخاب ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں سخت مقابلہ ہوا۔ ملک بھر کی نظریں اس نشست پر تھیں جہاں الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور حکمران جماعت کا امیدوار بمشکل 24 سو ووٹوں کی اکثریت سے جیت پایا اور اب کہا جا رہا ہے کہ اس حلقے میں دھاندلی نہیں فراڈ ہوا ہے۔
1989ء میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن حاجی مولا بخش سومرو کے انتقال پر تعزیت کے لیے میرے آبائی شہر شکارپور آئے تھے اور میری موجودگی میں مرحوم کے صاحبزادے الٰہی بخش سومرو اور مولانا فضل الرحمن میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا اب آسان نہیں رہا ہے اور کامیاب ہونے کے لیے اخراجات اب ایک کروڑ روپے سے زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔
ہر عام انتخابات کے موقعے پر الیکشن کمیشن امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی حد مقرر کرتا ہے جو صرف لاکھوں میں ہوتی ہے جب کہ انتخابی اخراجات اب کروڑوں تک پہنچ چکے ہیں اور الیکشن میں کامیاب ہونے والے تمام امیدوار انتخابی اخراجات کی غلط تفصیلات پیش کرتے ہیں اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی الیکشن کمیشن نے کبھی کسی ایک رکن اسمبلی کے خلاف غلط اخراجات ظاہر کرنے کی کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ارکان اسمبلی نے بھی الیکشن کمیشن سے محفوظ رہنے کے مختلف طریقے ڈھونڈ رکھے ہیں اور وہ انتخابی اخراجات مقررہ رقم کے مطابق ہی ظاہر کرتے ہیں اور اضافی اخراجات کا اگر کبھی الیکشن کمیشن پوچھے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے دوستوں اور حمایتیوں نے کیے ہیں۔
اس دور میں کوئی کسی کے لیے الیکشن کے لیے خوامخواہ لاکھوں روپے خرچ نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو وہ بھی رکن اسمبلی کی سوچ کی طرح اس امید پر کرتا ہے کہ ان کا امیدوار اگر وزیر بن گیا تو وہ اپنی رقم سود سمیت اور اگر رکن اسمبلی ہی رہا تو اس کے ذریعے کام نکلوا کر اپنی رقم پوری کر ہی لے گا۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں اپنی شرکت کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے توڑنے کا تو وزیر اعظم نواز شریف تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا قومی اسمبلی میں حاضری کا تناسب صرف 16 فیصد ہے اور ان کا ایک افسوسناک ریکارڈ بھی ہے کہ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک سینیٹ کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور سینیٹ میں کڑی تنقید کے بعد ہی وزیر اعظم سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔
وزیر اعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کے ذریعے ہوتا ہے اور منتخب ہو کر نواز شریف قومی اسمبلی کے اجلاسوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ جب وزیر اعظم کی عدم دلچسپی کا یہ حال ہو گا تو ان کے وزیروں کو کیا پڑی کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی شرکت کا تناسب 58 فیصد، وزیر داخلہ چوہدری نثار کا 55 فیصد اور وزیر مملکت عابد شیر علی کا 52 فیصد رہا جب کہ باقی وزیر تو بادشاہ لوگ ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف صرف دھرنوں کے دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدگی سے آئے تو ان کی آمد کا تناسب 16 فیصد بنا اور دھرنوں کے بعد تو وزیر اعظم صرف منہ دکھائی کے لیے قومی اسمبلی آتے ہیں اور کسی اہم موقعے پر ہی وہ قومی اسمبلی آنا گوارا کرتے ہیں جب کہ سینیٹ وہ کیوں جائیں وہاں تو چیئرمین بھی جیالا ہے اور (ن) لیگ کی اکثریت بھی نہیں ہے۔ جب وزیر اعظم اور وزیروں کی حاضری کا یہ حال ہو تو ارکان اسمبلی سے کیا شکوہ اور کورم نہ ہونے پر صرف 27 ارکان کی موجودگی میں ہی اہم فیصلے بھی ہو جاتے ہیں اور آرمی ایکٹ کا وہ ترمیمی بل منظور کر لیا جاتا ہے جو سینیٹ قومی اسمبلی سے بھی پہلے منظور کر چکی ہوتی ہے۔
حکومت کو قومی اسمبلی سے اپنی مرضی کا فیصلہ منظور کرانا ہو اور اپوزیشن کی مخالفت کا خطرہ ہو تو ارکان اسمبلی حکومتی دباؤ پر آ جاتے ہیں وگرنہ ارکان اسمبلی کے پاس اسلام آباد آ کر ایوان میں آنے کی فرصت نہیں ہوتی اور اپنے الاؤنس پکے کرنے کے لیے حاضری رجسٹر پر دستخط کر دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اجلاس میں ارکان کسی مجبوری ہی میں شرکت کرتے ہیں اور ان میں ایوان میں کچھ نہ بولنے والوں کی تعداد ہر دور میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔
ارکان اسمبلی اسلام آباد آئیں یا اپنے حلقوں سے کراچی لاہور، پشاور یا کوئٹہ آئیں ان کا زیادہ وقت وزیروں اور سرکاری دفاتر میں اپنے ذاتی کاموں میں زیادہ گزرتا ہے۔ ارکان اسمبلی وزیروں کے پاس بیٹھ کر اٹھنے کا نام نہیں لیتے اور باہر موجود لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اندر اہم اجلاس ہو رہا ہے جب کہ اندر خوش گپیاں اور چائے چل رہی ہوتی ہے۔
ارکان اسمبلی کو اگر وزیر اعظم یا وزرائے اعلیٰ کے اجلاسوں میں آنے کا یقین ہو تو وہ اپنے کام کے لیے ضرور آئیں گے وگرنہ ایوانوں سے دور رہنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اب عوام ان سے کیسے پوچھیں کہ حضور آپ ان ایوانوں میں آنے کے لیے انتخاب ہی کیوں لڑتے ہیں جہاں منتخب ہو کر وہ وہاں مستقل نہیں آتے۔
قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد 345 ہے اور ایوان میں جب صرف 27 ارکان ہی موجود ہوں اور خالی ایوان کے باوجود اگر کارروائی جاری رہے تو ایسی جمہوریت کو کون جمہوریت قرار دے گا اور ایسی جمہوریت کی کون حمایت کرے گا۔ یہ بات قومی اسمبلی کی اہمیت اور موجودگی پر ایسا سوالیہ نشان ہے کہ ایسی قومی اسمبلی کا کیا فائدہ جس کے وجود پر ہر ماہ عوام کے دیے گئے ٹیکسوں سے کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور ہر رکن اسمبلی کو ماہانہ ایک لاکھ کے قریب الاؤنسز مل رہے ہوں اور ملک و قوم پر بوجھ ان ارکان اسمبلی کا ایوان میں انتظار ہوتا رہے اور کورم کی نشاندہی سے گریز کیا جائے۔ ارکان اسمبلی کیفے ٹیریا میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہوں اور کورم پورا کرنے کے لیے ایوان سے گھنٹی بجا کر ارکان اسمبلی کو متوجہ کیا جائے کہ حضور! آپ ایوان میں شرکت کے لیے منتخب کیے گئے تھے ایوان میں آ کر اپنا قومی فریضہ بھی ادا کر لیں۔
حال ہی میں لاہور میں قومی اسمبلی کی خالی قرار دی جانے والی نشست پر انتخاب ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے امیدواروں میں سخت مقابلہ ہوا۔ ملک بھر کی نظریں اس نشست پر تھیں جہاں الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور حکمران جماعت کا امیدوار بمشکل 24 سو ووٹوں کی اکثریت سے جیت پایا اور اب کہا جا رہا ہے کہ اس حلقے میں دھاندلی نہیں فراڈ ہوا ہے۔
1989ء میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن حاجی مولا بخش سومرو کے انتقال پر تعزیت کے لیے میرے آبائی شہر شکارپور آئے تھے اور میری موجودگی میں مرحوم کے صاحبزادے الٰہی بخش سومرو اور مولانا فضل الرحمن میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا اب آسان نہیں رہا ہے اور کامیاب ہونے کے لیے اخراجات اب ایک کروڑ روپے سے زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔
ہر عام انتخابات کے موقعے پر الیکشن کمیشن امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی حد مقرر کرتا ہے جو صرف لاکھوں میں ہوتی ہے جب کہ انتخابی اخراجات اب کروڑوں تک پہنچ چکے ہیں اور الیکشن میں کامیاب ہونے والے تمام امیدوار انتخابی اخراجات کی غلط تفصیلات پیش کرتے ہیں اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی الیکشن کمیشن نے کبھی کسی ایک رکن اسمبلی کے خلاف غلط اخراجات ظاہر کرنے کی کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ ارکان اسمبلی نے بھی الیکشن کمیشن سے محفوظ رہنے کے مختلف طریقے ڈھونڈ رکھے ہیں اور وہ انتخابی اخراجات مقررہ رقم کے مطابق ہی ظاہر کرتے ہیں اور اضافی اخراجات کا اگر کبھی الیکشن کمیشن پوچھے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ ہمارے دوستوں اور حمایتیوں نے کیے ہیں۔
اس دور میں کوئی کسی کے لیے الیکشن کے لیے خوامخواہ لاکھوں روپے خرچ نہیں کرتا اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو وہ بھی رکن اسمبلی کی سوچ کی طرح اس امید پر کرتا ہے کہ ان کا امیدوار اگر وزیر بن گیا تو وہ اپنی رقم سود سمیت اور اگر رکن اسمبلی ہی رہا تو اس کے ذریعے کام نکلوا کر اپنی رقم پوری کر ہی لے گا۔
سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں اپنی شرکت کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے توڑنے کا تو وزیر اعظم نواز شریف تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا قومی اسمبلی میں حاضری کا تناسب صرف 16 فیصد ہے اور ان کا ایک افسوسناک ریکارڈ بھی ہے کہ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک سینیٹ کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور سینیٹ میں کڑی تنقید کے بعد ہی وزیر اعظم سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔
وزیر اعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کے ذریعے ہوتا ہے اور منتخب ہو کر نواز شریف قومی اسمبلی کے اجلاسوں کو اہمیت نہیں دیتے۔ جب وزیر اعظم کی عدم دلچسپی کا یہ حال ہو گا تو ان کے وزیروں کو کیا پڑی کہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی شرکت کا تناسب 58 فیصد، وزیر داخلہ چوہدری نثار کا 55 فیصد اور وزیر مملکت عابد شیر علی کا 52 فیصد رہا جب کہ باقی وزیر تو بادشاہ لوگ ہیں۔
وزیر اعظم نواز شریف صرف دھرنوں کے دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں باقاعدگی سے آئے تو ان کی آمد کا تناسب 16 فیصد بنا اور دھرنوں کے بعد تو وزیر اعظم صرف منہ دکھائی کے لیے قومی اسمبلی آتے ہیں اور کسی اہم موقعے پر ہی وہ قومی اسمبلی آنا گوارا کرتے ہیں جب کہ سینیٹ وہ کیوں جائیں وہاں تو چیئرمین بھی جیالا ہے اور (ن) لیگ کی اکثریت بھی نہیں ہے۔ جب وزیر اعظم اور وزیروں کی حاضری کا یہ حال ہو تو ارکان اسمبلی سے کیا شکوہ اور کورم نہ ہونے پر صرف 27 ارکان کی موجودگی میں ہی اہم فیصلے بھی ہو جاتے ہیں اور آرمی ایکٹ کا وہ ترمیمی بل منظور کر لیا جاتا ہے جو سینیٹ قومی اسمبلی سے بھی پہلے منظور کر چکی ہوتی ہے۔
حکومت کو قومی اسمبلی سے اپنی مرضی کا فیصلہ منظور کرانا ہو اور اپوزیشن کی مخالفت کا خطرہ ہو تو ارکان اسمبلی حکومتی دباؤ پر آ جاتے ہیں وگرنہ ارکان اسمبلی کے پاس اسلام آباد آ کر ایوان میں آنے کی فرصت نہیں ہوتی اور اپنے الاؤنس پکے کرنے کے لیے حاضری رجسٹر پر دستخط کر دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اجلاس میں ارکان کسی مجبوری ہی میں شرکت کرتے ہیں اور ان میں ایوان میں کچھ نہ بولنے والوں کی تعداد ہر دور میں زیادہ دیکھی گئی ہے۔
ارکان اسمبلی اسلام آباد آئیں یا اپنے حلقوں سے کراچی لاہور، پشاور یا کوئٹہ آئیں ان کا زیادہ وقت وزیروں اور سرکاری دفاتر میں اپنے ذاتی کاموں میں زیادہ گزرتا ہے۔ ارکان اسمبلی وزیروں کے پاس بیٹھ کر اٹھنے کا نام نہیں لیتے اور باہر موجود لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ اندر اہم اجلاس ہو رہا ہے جب کہ اندر خوش گپیاں اور چائے چل رہی ہوتی ہے۔
ارکان اسمبلی کو اگر وزیر اعظم یا وزرائے اعلیٰ کے اجلاسوں میں آنے کا یقین ہو تو وہ اپنے کام کے لیے ضرور آئیں گے وگرنہ ایوانوں سے دور رہنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اب عوام ان سے کیسے پوچھیں کہ حضور آپ ان ایوانوں میں آنے کے لیے انتخاب ہی کیوں لڑتے ہیں جہاں منتخب ہو کر وہ وہاں مستقل نہیں آتے۔