بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی مشکلات
پاکستان دہشت گردانہ واقعات کی روک تھام کا حامی اور اس سلسلے میں مکمل سرگرم ہے
دہشت گردی کے واقعات پرامن بقائے باہمی کے مشترکہ اہداف کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔فوٹو: فائل
نائن الیون سانحے کے بعد مسلمانوں خاص کر پاکستانیوں کو بیرون ملک جو ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑی حالیہ پیرس واقعے کے بعد اس کی جھلک دوبارہ دکھائی دینا شروع ہوگئی ہے، نیویارک کے شہریوں نے مسلمان ڈرائیوروں کی ٹیکسیوں میں بیٹھنا چھوڑ دیا ہے، ایسے واقعات کے مضمرات بے قصور خاندانوں پر لامحالہ پڑیں گے۔
اس پیرائے میں وزارت داخلہ کی جانب سے تمام سفارتخانوں کو جاری کردہ مراسلہ بالکل صائب ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی پاکستانی کو دہشت گردی کے الزام میں ڈی پورٹ کرنا مقصود ہے تو حکومت پاکستان کو ثبوت فراہم کیے جائیں۔ نائن الیون واقعے کے بعد پاکستانیوں کے ساتھ جو ناروا سلوک اختیار کیا گیا اور بلاتخصیص انخلا کیا گیا اس سے نہ صرف سیکڑوں طلبا کا مستقبل بلکہ بیرون ملک کاروبار کے سلسلے میں مقیم خاندانوں کی معاشی حالت بالکل تباہ ہوگئی تھی۔
اگرچہ ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ (یورا) کیا گیا تھا لیکن وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹیز کے حوالے سے معاہدہ میں موجود تضادات اور اس کے عملدرآمد میں پائی جانے والی بے قاعدگیاں یورا کی معطلی کا باعث بنیں۔ وزارت داخلہ کی ہدایات قابل عمل اور مستحسن ہیں جس کے مطابق آیندہ کسی ڈی پورٹی کو وزارت داخلہ کی اجازت اور پاکستانی سفری دستاویزات کے بغیر پاکستان لانے والی ایئرلائن کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو انسانی اسمگلرز کے خلاف اندرون اور بیرون ملک فوری کریک ڈاؤن کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک شناخت کیے گئے 300 انسانی اسمگلرز اور ان کے ایجنٹس کے پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ، شناختی کارڈ بلاک اور بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے جائیں، انٹرپول کے ذریعے مفرور انسانی اسمگلرز کے ریڈ وارنٹ حاصل کرکے ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔
پاکستان دہشت گردانہ واقعات کی روک تھام کا حامی اور اس سلسلے میں مکمل سرگرم ہے، یہی وجہ ہے کہ دفتر خارجہ کی جانب سے سرحد پار حملوں کی روک تھام یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت کو تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے، دہشت گردی کے واقعات پرامن بقائے باہمی کے مشترکہ اہداف کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
اس پیرائے میں وزارت داخلہ کی جانب سے تمام سفارتخانوں کو جاری کردہ مراسلہ بالکل صائب ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی پاکستانی کو دہشت گردی کے الزام میں ڈی پورٹ کرنا مقصود ہے تو حکومت پاکستان کو ثبوت فراہم کیے جائیں۔ نائن الیون واقعے کے بعد پاکستانیوں کے ساتھ جو ناروا سلوک اختیار کیا گیا اور بلاتخصیص انخلا کیا گیا اس سے نہ صرف سیکڑوں طلبا کا مستقبل بلکہ بیرون ملک کاروبار کے سلسلے میں مقیم خاندانوں کی معاشی حالت بالکل تباہ ہوگئی تھی۔
اگرچہ ڈی پورٹ کرنے کے حوالے سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ (یورا) کیا گیا تھا لیکن وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹیز کے حوالے سے معاہدہ میں موجود تضادات اور اس کے عملدرآمد میں پائی جانے والی بے قاعدگیاں یورا کی معطلی کا باعث بنیں۔ وزارت داخلہ کی ہدایات قابل عمل اور مستحسن ہیں جس کے مطابق آیندہ کسی ڈی پورٹی کو وزارت داخلہ کی اجازت اور پاکستانی سفری دستاویزات کے بغیر پاکستان لانے والی ایئرلائن کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو انسانی اسمگلرز کے خلاف اندرون اور بیرون ملک فوری کریک ڈاؤن کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک شناخت کیے گئے 300 انسانی اسمگلرز اور ان کے ایجنٹس کے پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ، شناختی کارڈ بلاک اور بینک اکاؤنٹ منجمد کردیے جائیں، انٹرپول کے ذریعے مفرور انسانی اسمگلرز کے ریڈ وارنٹ حاصل کرکے ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔
پاکستان دہشت گردانہ واقعات کی روک تھام کا حامی اور اس سلسلے میں مکمل سرگرم ہے، یہی وجہ ہے کہ دفتر خارجہ کی جانب سے سرحد پار حملوں کی روک تھام یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت کو تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے، دہشت گردی کے واقعات پرامن بقائے باہمی کے مشترکہ اہداف کے لیے براہ راست خطرہ ہیں، ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔