سرمایہ دارانہ نظام کی خامیاں

نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک رشوت ہمارے معاشروں میں وباء کی طرح پھیلی ہوئی ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

PESHAWAR:
دنیا میں ایک ہزار ایک برائیاں خرابیاں ہوں گی جن کا علاج ہمارے اکابرین علیحدہ علیحدہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی مدبر یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ یہ ٹہنیاں، یہ پتے کس پیڑ کے عطا کردہ ہیں۔

غربت دنیا کا بہت بڑا اجتماعی مسئلہ ہے، ہمارے سیاسی حکما اور معاشی ماہرین غربت کے خاتمے کے لیے پسماندہ ملکوں کی بھاری امداد سمیت بے شمار اقدامات کرتے ہیں لیکن غربت میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوتا رہتا ہے، کرپشن بھی دنیا کا سب سے بڑا اجتماعی مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے بے شمار جتن کیے جاتے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ بد عنوانیاں بھی ہمارے معاشروں کی بڑی بیماریوں میں سے ایک ہیں لیکن یہ عنصر ہمارے معاشروں کے لوازمات میں سے ایک ہے اس کے خاتمے کے لیے بھی قانون اور انصاف میں بڑی بڑی سزائیں موجود ہیں لیکن یہ بیماری لا علاج ہے۔

نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک رشوت ہمارے معاشروں میں وباء کی طرح پھیلی ہوئی ہے لیکن اس کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا جا سکا۔ منافع خوری ہمارے معاشرے کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہے، لیکن کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ یہ ساری لعنتیں سرمایہ دارانہ نظام کی مرہون منت ہیں۔برطانیہ میں پچھلے دنوں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ''ملین ماسک مارچ'' کا اہتمام کیا گیا جس کے خلاف اس نظام کی غلام پولیس نے پُر تشدد کارروائی کی۔

جس میں 3 پولیس اہلکاروں کے ساتھ کئی مظاہرین بھی زخمی ہوئے، 50 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا، اس سے قبل امریکا میں وال اسٹریٹ تحریک بھی بڑے منظم انداز میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف چلائی گئی اور یہ تحریک دنیا کے کئی ملکوں تک پھیل گئی لیکن منصوبہ بندی اور نظم و ضبط کی کمی کی وجہ سے یہ تحریک راستے ہی میں رک گئی، وال اسٹریٹ تحریک سے پہلے بھی اس ظالمانہ استحصالی نظام کے خلاف تحریکیں چلتی رہیں لیکن اس نظام کے شاطر رکھوالوں نے ان تحریکوں کو طاقت اور بے پناہ دولت کے ذریعے ابھرنے نہیں دیا۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جو محاذ بنا، جو تحریکیں چلیں وہ سب ترقی پسند طاقتوں کی رہنمائی میں چلیں۔ نہ صرف اس ظالمانہ غیر انسانی استحصالی نظام کے خلاف سوشلسٹ ملکوں میں سخت مزاحمت ہوئی بلکہ مارکس اور اینجلز نے اس استحصالی نظام کے خلاف ایک منصفانہ نظام بھی پیش کیا جو صرف 50 سالوں کے اندر اندر روس کو دنیا کی دوسری سپر طاقت بنا دیا، اگر سوشلسٹ نظام میں کچھ خامیاں تھیں اور وہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت نہیں رکھ پا رہا تھا، تو اسے حالات حاضرہ کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی۔ یہ کام کسی فرد واحد یا محض حکومتوں کا نہیں تھا بلکہ یہ ذمے داری دنیا بھر کی کمیونسٹ پارٹیوں کی تھی کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھتیں اور اگر سوشلسٹ نظام معیشت میں کچھ خامیاں تھیں تو انھیں دور کرتیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔


اگرچہ سوشلسٹ بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے لیکن دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیاں موجود ہیں۔ یہ ان پارٹیوں کی نظریاتی ذمے داری ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے خلاف ساری دنیا میں تحریکیں منظم کریں لیکن اسے ہم بد قسمتی کہیں یا ان پارٹیوں کی مجرمانہ غیر ذمے داری کے وہ نان ایشوز پر تو ہلکے پھلکے انداز میں آواز اٹھاتی نظر آتی ہیں، لیکن دنیا کے سب سے بڑے ایشو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف منہ بند کیے بیٹھے ہیں ۔

جب کہ پاکستان سمیت ساری دنیا کے 7 ارب غریب عوام اس نظام کے مظالم تلے دب کر سسک رہے ہیں اگر کوئی منظم اور منصوبہ بند تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف چلتی ہے تو دنیا کے 7 ارب مفلوک الحال انسان اس کی پشت پر کھڑے نظر آئیں گے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے سوشلزم کو عام انسانوں میں بدنام کرنے کے لیے اسے لادینیت کا نام دیا لیکن سوشلسٹ نظام کے داعی اس لغو پروپیگنڈے کا موثر جواب تک نہ دے سکے، سوشلسٹ نظام کی ناکامی کی ایک اہم وجہ یہ بھی رہی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ کیا دنیا میں کسی حلقے، کسی فرد، کسی جماعت کی طرف سے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کوئی قابل عمل منصفانہ متبادل نظام پیش کیا گیا؟ ایسا نہیں ہوا، اس صورتحال میں ان تمام لوگوں سے دنیا کے 7 ارب انسان یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ سوشلسٹ نظام معیشت کی حامی جماعتیں کہاں ہیں اور کیا کر رہی ہیں؟ سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی نا انصافیوں کا شکار محض کوئی ایک ملک، ایک کمیونٹی یا کسی ایک مذہب کے پیروکار نہیں بلکہ یہ سفاکانہ نظام بلا امتیاز مذہب و ملت دنیا کے تمام انسانوں کو روند رہا ہے۔

آج دنیا کے پسماندہ ملکوں میں رہنے والے 50 فی صد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جن میں ہندو بھی ہیں، مسلمان بھی، سکھ بھی ہیں عیسائی بھی، شیعہ بھی ہیں سنی بھی، ہندوستانی بھی ہیں، پاکستانی بھی، انڈونیشی بھی ہیں،بنگلہ دیشی بھی ہیں، سری لنکن بھی، نیپالی بھی ہیں، بھوٹانی بھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیوں کا لیبل لگا کر بیٹھنے والے محترم حضرات کیا سرمایہ دارانہ نظام کی قہر مانیوں اور اس نظام سے عوام کی بیزاری اور نفرت سے واقف نہیں، اگر واقف ہیں تو پھر وال اسٹریٹ کی تحریک ساری دنیا میں کیوں نہ پھیل سکی، برطانیہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھائی جانے والی آواز کی بازگشت ساری دنیا میں کیوں سنائی نہیں دی؟

دنیا کے لگ بھگ تمام ملکوں میں کسی نہ کسی نام سے سرمایہ دارانہ نظام کی مخالف جماعتیں موجود ہیں لیکن افسوس ہی نہیں شرم کی بات ہے کہ یہ جماعتیں اپنے آفسوں پر اور اپنی پیشانیوں پر ترقی پسندی کے محض لیبل سجائے بیٹھی ہیں۔ یہ لیبل ان کی نظریاتی قبروں کے کتبے بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ افراد یہ جماعتیں زندہ ہوتیں تو وال اسٹریٹ اور برطانیہ کی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اٹھنے والی آواز کی باز گشت سے ساری دنیا گونج اٹھتی۔
Load Next Story