تجربات کے ’’سائیڈ ایفیکٹس‘‘ پاکستان کو سیریز بچانے کے لالے پڑ گئے

فتح کی صورت میں اظہرعلی کو بھی ٹرافی تھام کر مورگن کے ساتھ تصویر بنوانے کا موقع مل جائے گا

ہماری غلطیوں کی وجہ سے حریف کو حاوی ہونے کا موقع ملا، اظہر۔ فوٹو: فائل

تجربات کے ''سائیڈ ایفیکٹس'' سے پاکستان کو سیریز بچانے کے لالے پڑ گئے، مشکلات میں گھری ٹیم جمعے کو انگلینڈ سے چوتھا ون ڈے کھیلے گی، فتح کی صورت میں اظہر کو بھی ٹرافی تھام کر مورگن کے ساتھ تصویر بنوانے کا موقع مل جائے گی، انوکھے فیصلے کرنے والی مینجمنٹ بیٹنگ آرڈر کے بارے میں بدستور تذبذب کا شکار ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے انگلینڈ کیخلاف پہلا ایک روزہ میچ 6 وکٹ سے جیتا تو شائقین نے امیدیں وابستہ کرلیںکہ ٹیم ٹیسٹ فتوحات کا تسلسل ون ڈے میں برقرار رکھتے ہوئے 10سال بعد پہلی سیریز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ مگرمورگن الیون نے پلٹ کر ایسا وار کیا کہ گرین شرٹس کیلیے سنبھلنا مشکل ہوگیا، دوسرے میچ میں95 رنز اور تیسرے میں 6وکٹ سے فتح کے بعد انگلش ٹیم 4میچزکی سیریز ہار نہیں سکتی، البتہ آخری معرکے میں کامیابی پاکستان کو برابری پر لا کھڑا کرے گی جسے موجودہ حالات میں بڑی غنیمت سمجھا جائے گا، آخری دونوں میچز میں بیٹنگ لائن نے مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

 


دوسری جانب انگلینڈ نے پاکستان کی پے درپے غلطیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ناموافق کنڈیشنز میں بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام حربے ناکام بنائے ہیں۔

فتوحات نے نو آموز کپتان ایون مورگن کے اعتماد میں اضافہ کردیا،دبئی میں گذشتہ 3میچز میں ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیمیں کامیاب رہیں،لہٰذا مصنوعی روشنی میں بیٹنگ کا کوئی مسئلہ ہونے کا امکان نہیں۔ پاکستانی کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ ہماری غلطیوں کی وجہ سے انگلینڈ کو سیریز میں حاوی ہونے کا موقع ملا، مہمان ٹیم اچھا کھیلی، ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکے، البتہ مجھے اعتماد ہے کہ ہم آخری ون ڈے جیت کر سیریز برابر کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سری لنکا کیخلاف سیریز میں بھی ہماری ٹیم پر چیمپئنز ٹرافی کیلیے کوالیفائی کرنے کا سخت دبائو تھا، مگر کھلاڑیوں نے اس چیلنج کو مثبت انداز میں لیا اور کامیابی حاصل کی، اس بار بھی ایسے ہی فتح کوگلے لگانا ہوگا، رن آئوٹس کا مسئلہ قابل تشویش ضرور ہے تاہم اس پر قابو پالیںگے۔ دوسری جانب انگلش کپتان ایون مورگن نے کہاکہ سیریز میں کامیابی صرف ایک فتح کی دوری پر ہے،گذشتہ 2فتوحات سے ملنے والے اعتماد کے بعد منزل زیادہ دور نہیں دکھائی دیتی، تمام کھلاڑی کسی بھی چیلنج کیلیے تیار ہیں۔
Load Next Story