کیا تیسرا ون ڈے ’’مشکوک‘‘ تھا
افسوس اس بات کا ہے کہ ایسا پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے، دوسری ٹیمیں بھی کم رنز پر آؤٹ ہوتی ہیں
افسوس اس بات کا ہے کہ ایسا پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے، دوسری ٹیمیں بھی کم رنز پر آؤٹ ہوتی ہیں. فوٹو: فائل
''ارے یہ کیسے رن آؤٹ ہوا، بغیر دیکھے بھاگ رہا تھا''
''یہ دیکھو اس نے سیدھا ہاتھوں میں کیچ دے دیا''
''پکا فکسڈ میچ ہے، آج تو پاکستان ہارے گا''
یہ وہ چند ریمارکس ہیں جو تیسرے ون ڈے کے دوران میں نے سنے، میں تھوڑی دیر کیلیے قریبی کافی شاپ میں دوست سے ملاقات کیلیے گیا تھا، وہاں ٹی وی پر میچ دیکھ کر ''پڑھے لکھے'' افراد کے یہ تبصرے سنے، پھر واپس آیا تو دفتر میں ساتھیوں کی رائے بھی کچھ اچھی نہ تھی، 1،2 قارئین کے جلے بھنے لہجے میں فون بھی آئے، وہ بھی میچ پر شکوک کا اظہار کر رہے تھے، پھر جب ٹیم بری طرح ہار گئی تب تو سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا۔
سابق انگلش کپتان مائیکل وان کی ٹویٹ چنگاری ثابت ہوئی جس نے آگ بھڑکا دی، افسوس اس بات کا ہے کہ ایسا پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے، دوسری ٹیمیں بھی کم رنز پر آؤٹ ہوتی ہیں مگر کوئی شکوک ظاہر نہیں کرتا مگر ماضی کے بعض کیسز نے ہمیں دنیا کی نظروں میں مشکوک بنایا ہوا ہے، یقیناً تیسرا ون ڈے فکسڈ نہیں تھا مگر ہمارے پلیئرز نے خود اپنے کھیل سے شکوک کو دعوت دی، ایک میچ میں تین رن آؤٹ معمولی بات نہیں تھی، مشکل صورتحال میں بھی بیٹسمینوں نے اونچے شاٹس کھیل کر وکٹیں گنوائیں، جو بولر اچھی گیندیں کر رہا تھا اسے ہٹا کر نان ریگولر بولر کو گیند تھمائی گئی، کیچز بھی ڈراپ ہوئے، ایک میچ میں اتنی غلطیاں ہوں تو لوگ تو باتیں بنائیں گے، یقیناً ان کی وجوہات کرکٹنگ ہوں گی مگر ہمارے کوچ صاحب کیا کر رہے ہیں۔
ماہانہ 16 لاکھ روپے تنخواہ، ہر سیریز کے بعد اپنے اصل ملک ''آسٹریلیا'' جانے کا بزنس کلاس کا ٹکٹ، موبائل فون، گاڑی، پیٹرول و دیگر مراعات ملا کروہ سال میں بورڈ سے 3 کروڑ روپے سے زاید تو وصول کر ہی لیتے ہوں گے مگر ون ڈے میں ٹیم کی کارکردگی کیسی ہے وہ رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن سے ہی پتا چل جاتی ہے، پہلے کوچ نے سرفراز احمد کو مسلسل باہر بٹھا کر اپنی دانست میں ان کا دماغ درست کیا اب احمد شہزاد کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اگر ان کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں تو اسکواڈ میں کیوں رکھا گیا تھا؟ اوپننگ میں مسلسل تجربات اور نئے کھلاڑیوں پر حد سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔
سینئرز کو اس لیے نظر انداز کیا گیا تاکہ وقار یونس کی بادشاہت برقرار رہے، اسی لیے انھوں نے اظہر علی کو بھی کپتان بنوایا، وہ بیچارہ ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتا رہتا ہے،یو اے ای اب ہمارا ''ہوم گراؤنڈ'' ہے، یہاں ماضی میں پاکستانی ٹیم ناقابل تسخیر تھی مگر اب ون ڈے میں انتہائی خراب ریکارڈ ہے، یہ سیریز بھی ہم نہیں جیت سکیں گے، اگر آخری میچ میں فتح ملی تو برابری پر اختتام ہوگا، افسوس کہ بورڈ اب بھی چین کی بانسری بجا رہا ہے۔
اسے ٹیم کی کوئی پروا ہی نہیں ، مائیکل وان نے اتنا بڑا الزام لگا دیا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، عمران خان جیسا کوئی سربراہ ہوتا تو لیگل نوٹس بھیج دیتا ہمارے بورڈ نے ایک پریس ریلیز جاری کرنے کی بھی زحمت نہ کی،اگر ایسا ہی چلتا رہا تو کئی دیگر لوگ بھی اٹھ کر الزامات لگاتے رہیں گے، بورڈ کی خاموشی سے لگتا ہے کہ اسے خود بھی اپنے لوگوں پر بھروسہ نہیں ہے، داغدار ماضی والے وقار یونس اور مشتاق احمد کا تقرر کر کے اس نے خود ہی مسائل کو دعوت دی اب بھگتے، جو لوگ عامر، آصف اور سلمان کو ٹیم میں واپس لانے کی باتیں کرتے ہیں وہ حالیہ صورتحال سے اندازہ لگائیں کہ ان کے آنے پر اگر کسی میچ میں ایسی شکست ہوئی تو کیا ہوگا؟ ہارنا کوئی گناہ نہیں مگر لڑنا تو چاہیے۔
ہماری ٹیم میں یہی خرابی ہے ایسے ہارتی ہے کہ لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا، اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا،پلیئرز کو ذہنی طور پر مضبوط بنانا چاہیے تاکہ وہ مشکل صورتحال میں گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں، رننگ بٹوین دی وکٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسے بھی حال کرنا ہوگا،پہلے شاہد آفریدی کو برا بھلا کہا جاتا تھا گذشتہ میچ میں تو کئی بیٹسمینوں نے انہی کے انداز میں وکٹیں گنوائیں ان کی بھی سرزنش ہونی چاہیے،اسی طرح جونیئرز کو موقع ضرور دیں مگر ٹیم کا توازن برقرار رکھیں، ورنہ آگے مزید خراب نتائج منتظر ہوں گے۔
اب کچھ عمر اکمل کا ذکر کر لیتے ہیں، اس معاملے کا علم ہونے پر مجھے سب سے زیادہ دکھ عبدالقادر کے حوالے سے ہوا، وہ انتہائی شریف الفنس اور اچھے انسان ہیں، مگر اپنے داماد کے تنازع میں الجھنے کی وجہ سے انھیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جس طرح معاملات تبدیل ہو رہے ہیں اب چند روز میں شاید یہ رپورٹس آئیں کہ عمر اکمل روح افزا پیتے ہوئے غزلیں سن رہے تھے، جس طرح معین خان کسینو میں ڈنر کیلیے گئے تھے، وہ بھی حیدرآباد کے مذکورہ گھر ڈنر کیلیے گئے بعد ازاں شادی کی تقریب میں شرکت کی باتیں کیں،خیر اطلاعات کے مطابق انھیں کلیئر قرار دے کر ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
حیدر آباد میں اس کیس سے منسلک ایک بااختیار شخص کو بھی یہ کہتے سنا گیا کہ '' مجھے بدمعاشوں سے ڈر نہیں لگتا پر ''شریفوں'' سے لگتا ہے، میرا بورڈ سے محض یہ سوال ہے کہ اگر عمر اکمل بے قصور تھے تو عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوں انھیں ٹیم سے باہر کیا گیا؟پوری دنیا کے میڈیا میں ان کا مذاق بن گیا،لیکن اگر وہ قصوروار ہیں تو پھر ایک بارکوئی سخت قدم اٹھا لیا تو اس پر ڈٹ جائیں،دیکھتے ہیں اس کیس کا کیا بنتا ہے ویسے پاکستان کرکٹ بڑی نرالی ہے۔
اس سے اسپورٹس کے ساتھ کرائم صفحات کیلیے بھی خبریں ملتی رہتی ہیں،شہریار صاحب نے گذشتہ دنوں اپنے کرکٹرز کو''ان پڑھ''قرار دیا،میرا انھیں مشورہ ہے کہ جس طرح وہ لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی میں ہر ہفتے لیکچر دیتے ہیں ایسے ہی پلیئرز کو بھی دے دیا کریں شاید کچھ بہتری آ جائے، میڈیا میں آکر کسی کی بے عزتی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ابتدا میں انڈر19لیول کے کرکٹرز کو ہی اچھی تربیت دی جائے تو شاید وہ قومی لیول پر آکر جگ ہنسائی کا سبب نہ بنیں، اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنے کا اب وقت آ گیا ہے۔
''یہ دیکھو اس نے سیدھا ہاتھوں میں کیچ دے دیا''
''پکا فکسڈ میچ ہے، آج تو پاکستان ہارے گا''
یہ وہ چند ریمارکس ہیں جو تیسرے ون ڈے کے دوران میں نے سنے، میں تھوڑی دیر کیلیے قریبی کافی شاپ میں دوست سے ملاقات کیلیے گیا تھا، وہاں ٹی وی پر میچ دیکھ کر ''پڑھے لکھے'' افراد کے یہ تبصرے سنے، پھر واپس آیا تو دفتر میں ساتھیوں کی رائے بھی کچھ اچھی نہ تھی، 1،2 قارئین کے جلے بھنے لہجے میں فون بھی آئے، وہ بھی میچ پر شکوک کا اظہار کر رہے تھے، پھر جب ٹیم بری طرح ہار گئی تب تو سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو گیا۔
سابق انگلش کپتان مائیکل وان کی ٹویٹ چنگاری ثابت ہوئی جس نے آگ بھڑکا دی، افسوس اس بات کا ہے کہ ایسا پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے، دوسری ٹیمیں بھی کم رنز پر آؤٹ ہوتی ہیں مگر کوئی شکوک ظاہر نہیں کرتا مگر ماضی کے بعض کیسز نے ہمیں دنیا کی نظروں میں مشکوک بنایا ہوا ہے، یقیناً تیسرا ون ڈے فکسڈ نہیں تھا مگر ہمارے پلیئرز نے خود اپنے کھیل سے شکوک کو دعوت دی، ایک میچ میں تین رن آؤٹ معمولی بات نہیں تھی، مشکل صورتحال میں بھی بیٹسمینوں نے اونچے شاٹس کھیل کر وکٹیں گنوائیں، جو بولر اچھی گیندیں کر رہا تھا اسے ہٹا کر نان ریگولر بولر کو گیند تھمائی گئی، کیچز بھی ڈراپ ہوئے، ایک میچ میں اتنی غلطیاں ہوں تو لوگ تو باتیں بنائیں گے، یقیناً ان کی وجوہات کرکٹنگ ہوں گی مگر ہمارے کوچ صاحب کیا کر رہے ہیں۔
ماہانہ 16 لاکھ روپے تنخواہ، ہر سیریز کے بعد اپنے اصل ملک ''آسٹریلیا'' جانے کا بزنس کلاس کا ٹکٹ، موبائل فون، گاڑی، پیٹرول و دیگر مراعات ملا کروہ سال میں بورڈ سے 3 کروڑ روپے سے زاید تو وصول کر ہی لیتے ہوں گے مگر ون ڈے میں ٹیم کی کارکردگی کیسی ہے وہ رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن سے ہی پتا چل جاتی ہے، پہلے کوچ نے سرفراز احمد کو مسلسل باہر بٹھا کر اپنی دانست میں ان کا دماغ درست کیا اب احمد شہزاد کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اگر ان کی حالیہ کارکردگی اچھی نہیں تو اسکواڈ میں کیوں رکھا گیا تھا؟ اوپننگ میں مسلسل تجربات اور نئے کھلاڑیوں پر حد سے زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔
سینئرز کو اس لیے نظر انداز کیا گیا تاکہ وقار یونس کی بادشاہت برقرار رہے، اسی لیے انھوں نے اظہر علی کو بھی کپتان بنوایا، وہ بیچارہ ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتا رہتا ہے،یو اے ای اب ہمارا ''ہوم گراؤنڈ'' ہے، یہاں ماضی میں پاکستانی ٹیم ناقابل تسخیر تھی مگر اب ون ڈے میں انتہائی خراب ریکارڈ ہے، یہ سیریز بھی ہم نہیں جیت سکیں گے، اگر آخری میچ میں فتح ملی تو برابری پر اختتام ہوگا، افسوس کہ بورڈ اب بھی چین کی بانسری بجا رہا ہے۔
اسے ٹیم کی کوئی پروا ہی نہیں ، مائیکل وان نے اتنا بڑا الزام لگا دیا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، عمران خان جیسا کوئی سربراہ ہوتا تو لیگل نوٹس بھیج دیتا ہمارے بورڈ نے ایک پریس ریلیز جاری کرنے کی بھی زحمت نہ کی،اگر ایسا ہی چلتا رہا تو کئی دیگر لوگ بھی اٹھ کر الزامات لگاتے رہیں گے، بورڈ کی خاموشی سے لگتا ہے کہ اسے خود بھی اپنے لوگوں پر بھروسہ نہیں ہے، داغدار ماضی والے وقار یونس اور مشتاق احمد کا تقرر کر کے اس نے خود ہی مسائل کو دعوت دی اب بھگتے، جو لوگ عامر، آصف اور سلمان کو ٹیم میں واپس لانے کی باتیں کرتے ہیں وہ حالیہ صورتحال سے اندازہ لگائیں کہ ان کے آنے پر اگر کسی میچ میں ایسی شکست ہوئی تو کیا ہوگا؟ ہارنا کوئی گناہ نہیں مگر لڑنا تو چاہیے۔
ہماری ٹیم میں یہی خرابی ہے ایسے ہارتی ہے کہ لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا، اس مسئلے سے نمٹنا ہوگا،پلیئرز کو ذہنی طور پر مضبوط بنانا چاہیے تاکہ وہ مشکل صورتحال میں گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں، رننگ بٹوین دی وکٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسے بھی حال کرنا ہوگا،پہلے شاہد آفریدی کو برا بھلا کہا جاتا تھا گذشتہ میچ میں تو کئی بیٹسمینوں نے انہی کے انداز میں وکٹیں گنوائیں ان کی بھی سرزنش ہونی چاہیے،اسی طرح جونیئرز کو موقع ضرور دیں مگر ٹیم کا توازن برقرار رکھیں، ورنہ آگے مزید خراب نتائج منتظر ہوں گے۔
اب کچھ عمر اکمل کا ذکر کر لیتے ہیں، اس معاملے کا علم ہونے پر مجھے سب سے زیادہ دکھ عبدالقادر کے حوالے سے ہوا، وہ انتہائی شریف الفنس اور اچھے انسان ہیں، مگر اپنے داماد کے تنازع میں الجھنے کی وجہ سے انھیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جس طرح معاملات تبدیل ہو رہے ہیں اب چند روز میں شاید یہ رپورٹس آئیں کہ عمر اکمل روح افزا پیتے ہوئے غزلیں سن رہے تھے، جس طرح معین خان کسینو میں ڈنر کیلیے گئے تھے، وہ بھی حیدرآباد کے مذکورہ گھر ڈنر کیلیے گئے بعد ازاں شادی کی تقریب میں شرکت کی باتیں کیں،خیر اطلاعات کے مطابق انھیں کلیئر قرار دے کر ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
حیدر آباد میں اس کیس سے منسلک ایک بااختیار شخص کو بھی یہ کہتے سنا گیا کہ '' مجھے بدمعاشوں سے ڈر نہیں لگتا پر ''شریفوں'' سے لگتا ہے، میرا بورڈ سے محض یہ سوال ہے کہ اگر عمر اکمل بے قصور تھے تو عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیوں انھیں ٹیم سے باہر کیا گیا؟پوری دنیا کے میڈیا میں ان کا مذاق بن گیا،لیکن اگر وہ قصوروار ہیں تو پھر ایک بارکوئی سخت قدم اٹھا لیا تو اس پر ڈٹ جائیں،دیکھتے ہیں اس کیس کا کیا بنتا ہے ویسے پاکستان کرکٹ بڑی نرالی ہے۔
اس سے اسپورٹس کے ساتھ کرائم صفحات کیلیے بھی خبریں ملتی رہتی ہیں،شہریار صاحب نے گذشتہ دنوں اپنے کرکٹرز کو''ان پڑھ''قرار دیا،میرا انھیں مشورہ ہے کہ جس طرح وہ لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی میں ہر ہفتے لیکچر دیتے ہیں ایسے ہی پلیئرز کو بھی دے دیا کریں شاید کچھ بہتری آ جائے، میڈیا میں آکر کسی کی بے عزتی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ابتدا میں انڈر19لیول کے کرکٹرز کو ہی اچھی تربیت دی جائے تو شاید وہ قومی لیول پر آکر جگ ہنسائی کا سبب نہ بنیں، اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنے کا اب وقت آ گیا ہے۔