پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اسے دہشت گردوں پر غلبہ بھی حاصل ہے

پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے لہٰذا امریکا اور مغرب کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان دشمن لابی یہ الزام بھی لگاتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ دنیا میں خواہ کسی بھی جگہ رونما ہو اس کے ڈانڈے بالآخر پاکستان تک پہنچتے ہیں اور اب یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں داعش موجود ہے۔

جس کے جواب میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انتہاپسند تنظیم داعش کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی پاکستانی سرزمین پر داعش کا سایہ برداشت کیا جائے گا۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان پوری طرح داعش کے خطرے سے آگاہ ہے اور ہمارے سیکیورٹی ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں تاہم دہشتگردی کو ختم کرنا تمام ملکوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔


ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیا کہ دہشتگردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنا درست نہیں۔ اسلام امن اور یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ عالمی برادری کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری جنوبی ایشیا میں جوہری معاملات پر امتیازی رویہ ترک کرے کیونکہ اس کے علاقائی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کی وضاحت بروقت اور مناسب ہے' دہشت گردی کا معاملہ ہو' ایٹمی ایشو ہو یا بھارت کے ساتھ تعلقات کی بات 'امریکا اور مغربی ممالک کے میڈیا اور سرکاری حکام کا رویہ یکطرفہ رہا ہے' امریکا اور یورپ کو بخوبی معلوم ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اسے دہشت گردوں پر غلبہ بھی حاصل ہے حالانکہ عراق' شام اور یمن کی حکومتیں دہشت گردوں کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہیں۔

نائیجیریا بھی بوکوحرام کا خاتمہ نہیں کر سکا جب کہ امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان میں طالبان کا خاتمہ نہیں کر سکے۔ بھارت کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی کردار نہیں ہے' یہ وہ حقائق ہیں جن کا امریکا اور مغربی ممالک کی حکومتوں کو ادراک ہونا چاہیے۔ پاکستان میں داعش کا وجود نہیں ہے لہٰذا امریکا اور مغرب کو اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
Load Next Story