وزن کی زیادتی مہلک امراض کا پیش خیمہ ہےڈاکٹر مسعود حمید
دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب لوگ موٹاپے یا وزن کی زیادتی کا شکار ہیں
موٹاپے کا مرض پاکستان میں سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فوٹو: ثناء
KARACHI:
ڈائومیڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں 22فیصد مرد اور 27فیصد خواتین موٹاپے کے امراض کا شکار ہیں ۔
دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب لوگ موٹاپے یا وزن کی زیادتی کا شکار ہیں ،ان خیا لات کا اظہار انھوں نے پریس کلب میں پاکستان اوبیسٹی سوسائٹی اور دوا ساز ادارے کے اشتراک سے موٹاپے کے عالمی دن کی مناسبت سے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا، اس مو قع پر عباسی شہید اسپتال کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر عبد الرشید ، معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شبین ناز ،ڈاکٹر زاہد میاں ، ڈاکٹر نعیم الحق اوردیگر موجودتھے ، پروفیسر ڈاکٹر مسعودحمید نے کہا کہ اگر مردوں کی کمر 36انچ سے زائد اور خواتین کی کمر 32انچ سے زائد ہے تو یہ موٹاپے کی نشانی ہے ۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں شعور کی کمی ہے جس کیوجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ،انھوں نے کہا کہ وزن کی زیادتی بہت سے مہلک امراض کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ روزانہ ورزش کو معمول بنایا جائے اور 5سے 10فیصدوزن میں کمی آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے وزن میں کمی کے سبب ذیابطیس میں 58فیصد کمی ، بلڈ پریشر کے خطرات سے چھٹکارہ ، کولیسٹرول میں کمی ،مردوں میں امراض قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات 48فیصد اور عورتوں میں 40فیصد تک کمی ، جوڑوں کے درد کے عارضے میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی ہو سکتی ہے، ڈاکٹر شبین ناز نے کہا کہ پاکستان میں 1980 میں موٹاپا منظر عام پر آیا لیکن اب موٹاپے کا مرض پاکستان میں سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
ڈائومیڈیکل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود حمید خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں 22فیصد مرد اور 27فیصد خواتین موٹاپے کے امراض کا شکار ہیں ۔
دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب لوگ موٹاپے یا وزن کی زیادتی کا شکار ہیں ،ان خیا لات کا اظہار انھوں نے پریس کلب میں پاکستان اوبیسٹی سوسائٹی اور دوا ساز ادارے کے اشتراک سے موٹاپے کے عالمی دن کی مناسبت سے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیا، اس مو قع پر عباسی شہید اسپتال کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر عبد الرشید ، معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر شبین ناز ،ڈاکٹر زاہد میاں ، ڈاکٹر نعیم الحق اوردیگر موجودتھے ، پروفیسر ڈاکٹر مسعودحمید نے کہا کہ اگر مردوں کی کمر 36انچ سے زائد اور خواتین کی کمر 32انچ سے زائد ہے تو یہ موٹاپے کی نشانی ہے ۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں شعور کی کمی ہے جس کیوجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ،انھوں نے کہا کہ وزن کی زیادتی بہت سے مہلک امراض کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ روزانہ ورزش کو معمول بنایا جائے اور 5سے 10فیصدوزن میں کمی آپ کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے وزن میں کمی کے سبب ذیابطیس میں 58فیصد کمی ، بلڈ پریشر کے خطرات سے چھٹکارہ ، کولیسٹرول میں کمی ،مردوں میں امراض قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات 48فیصد اور عورتوں میں 40فیصد تک کمی ، جوڑوں کے درد کے عارضے میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی ہو سکتی ہے، ڈاکٹر شبین ناز نے کہا کہ پاکستان میں 1980 میں موٹاپا منظر عام پر آیا لیکن اب موٹاپے کا مرض پاکستان میں سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔