روس کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن تعمیر کریگا

پاکستان نے زیادہ ٹھوس قدم اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے روس کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ کا دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ منصوبہ 1100 کلومیٹر کی پائپ لائن پر مشتمل ہے جو کراچی سے لاہور تک ایل این جی کو لائیگا۔ فوٹو : فائل

ایران سے گیس پائپ لائن کی تعمیر کا منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا حالانکہ امریکا کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے کے بعد توقع تھی اس پر عائد عالمی پابندیاں نرم ہو جائیں گی اور پاکستان کے لیے ایرانی توانائی کا حصول ممکن ہو سکے گا مگر لگتا ہے کہ اس راہ میں اور بھی رکاوٹیں حائل ہیں تاہم ''تاپی'' کے نام سے ایک متبادل منصوبہ تجویز ہوا جس کا مقصد قدرتی گیس تاجکستان سے براستہ افغانستان پاکستان لا کر اسے آگے بھارت تک پہنچانا تھا مگر افغانستان میں امن و امان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔

اب پاکستان نے زیادہ ٹھوس قدم اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے روس کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ کا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور روس کے مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کے چوتھے اجلاس میں گیارہ سو کلومیٹر طویل مجوزہ ''شمال جنوب پائپ لائن'' کی تعمیر اگلے دو برسوں مکمل کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں جس کے تحت یہ منصوبہ دسمبر2017ء تک مکمل کرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔


اس حوالے سے سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ پائپ لائن کی تعمیر روس خود کرے گا جس سے اس کی تکمیل یقینی محسوس ہونے لگی ہے۔ دونوں ملک اس منصوبے کی تکمیل کے لیے دس نکاتی ایجنڈے پر متفق ہو گئے ہیں۔ نیز پاکستان اور روس کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو گیارہ کروڑ ستر لاکھ ڈالر کا تنازع موجود تھا اس کے حل ہونے کی بھی خوش خبری دی گئی ہے۔ دونوں ملکوں نے بین الحکومتی کمیشن کے تحت توانائی کے علاوہ صنعت و زراعت، بینکاری، تجارت اور اقتصادیات کے پانچ مشترکہ ورکنگ گروپ بھی قائم کر دیے ہیں۔

پاک روس بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے روس کے وزیر انسداد منشیات وکٹر ایوانوف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں چوتھے پاک روس بین الحکومتی اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا۔ ادھر وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شمال جنوب پائپ لائن منصوبہ پر کام دو ماہ کے اندر شروع ہو جائے گا۔ یہ منصوبہ 1100 کلومیٹر کی پائپ لائن پر مشتمل ہے جو کراچی سے لاہور تک ایل این جی کو لائیگا۔ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات میں اضافہ دونوں ملکوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ہو گا اور اس سے یہاں جاری دہشت گردی کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
Load Next Story