مخدوم امین فہیم کا انتقال
امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر بھی تھے
2008ء کے انتخابات کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سے ان کے اختلافات کھل کر سامنے آئے تاہم انھوں نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن مخدوم امین فہیم طویل علالت کے بعد 21 نومبر کی صبح کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے، انھیں بلڈ کینسر جیسا جان لیوا مرض لاحق تھا۔ مخدوم فہیم کا انتقال پیپلز پارٹی کا عظیم نقصان ہے کیونکہ وہ نہ صرف شہید بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد وفادار ساتھیوں میں سے ایک تھے بلکہ تادم مرگ پیپلز پارٹی کے ساتھ عہد وفا نبھاتے رہے۔
انھوں نے 76 برس کی عمر پائی۔ ان کی نماز جنازہ ہالا میں ادا کی گئی، جب کہ تدفین ان کے آبائی علاقے ہالا میں مخدوم سروری نوح میں کی گئی ہے۔ امین فہیم سروری جماعت کے روحانی پیشوا تھے، جس کے مریدوں کی تعداد نو لاکھ سے زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کو ''نولکھی گدی'' کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ سروری جماعت کی جانب سے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
مخدوم امین فہیم 4 اگست 1939ء کو ضلع مٹیاری کے علاقے ہالہ میں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم 1955ء میں ہالہ سے ہی حاصل کی، 1957ء میں میٹرک کیا، 1961ء میں سندھ یونیورسٹی سے سیاسیات میں گریجویشن کی اور پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انھیں سیاست کے علاوہ شاعری سے بھی شغف تھا، وہ اکثر کہتے تھے کہ انھوں نے مولانا رومی، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی شاعری سے محبت اور وفا کا درس سیکھا ہے۔
یہ محبت اور وفا وہ آخری دم تک پیپلزپارٹی کے ساتھ نبھاتے رہے۔ امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر بھی تھے۔ یہ ان کی مقبولیت تھی کہ انھوں نے 1977ء سے 2013 ء تک مسلسل آٹھ بار انتخابات میں حصہ لیا اور ناقابل شکست رہے۔
1970ء کے عام انتخابات میں ٹھٹھہ کے حلقے سے کامیاب ہو کر سندھ اسمبلی کے رکن بنے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انھوں نے مختلف قلمدانوں کے لیے بطور وفاقی وزیر خدمات سر انجام دیں۔ 1988ء سے 1990ء تک اطلاعات و مواصلات اور 1994ء سے 1996ء تک ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کے وفاقی وزیر رہے جب کہ 2008ء میں وفاقی وزیر صنعت و تجارت کا قلمدان سونپا گیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دور میں امین فہیم پارٹی کے تمام امور دیکھتے تھے۔
2008ء کے انتخابات کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سے ان کے اختلافات کھل کر سامنے آئے تاہم انھوں نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ مخدوم امین فہیم نے چار شادیاں کی تھیں۔ علاج کی غرض سے طویل عرصے تک بیرون ملک بھی رہے۔ ان کا انتقال پیپلز پارٹی کے لیے عظیم نقصان ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر کارکن مخدوم امین فہیم طویل علالت کے بعد 21 نومبر کی صبح کراچی کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے، انھیں بلڈ کینسر جیسا جان لیوا مرض لاحق تھا۔ مخدوم فہیم کا انتقال پیپلز پارٹی کا عظیم نقصان ہے کیونکہ وہ نہ صرف شہید بے نظیر بھٹو کے قابل اعتماد وفادار ساتھیوں میں سے ایک تھے بلکہ تادم مرگ پیپلز پارٹی کے ساتھ عہد وفا نبھاتے رہے۔
انھوں نے 76 برس کی عمر پائی۔ ان کی نماز جنازہ ہالا میں ادا کی گئی، جب کہ تدفین ان کے آبائی علاقے ہالا میں مخدوم سروری نوح میں کی گئی ہے۔ امین فہیم سروری جماعت کے روحانی پیشوا تھے، جس کے مریدوں کی تعداد نو لاکھ سے زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کو ''نولکھی گدی'' کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ سروری جماعت کی جانب سے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
مخدوم امین فہیم 4 اگست 1939ء کو ضلع مٹیاری کے علاقے ہالہ میں پیدا ہوئے، انھوں نے ابتدائی تعلیم 1955ء میں ہالہ سے ہی حاصل کی، 1957ء میں میٹرک کیا، 1961ء میں سندھ یونیورسٹی سے سیاسیات میں گریجویشن کی اور پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انھیں سیاست کے علاوہ شاعری سے بھی شغف تھا، وہ اکثر کہتے تھے کہ انھوں نے مولانا رومی، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست کی شاعری سے محبت اور وفا کا درس سیکھا ہے۔
یہ محبت اور وفا وہ آخری دم تک پیپلزپارٹی کے ساتھ نبھاتے رہے۔ امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر بھی تھے۔ یہ ان کی مقبولیت تھی کہ انھوں نے 1977ء سے 2013 ء تک مسلسل آٹھ بار انتخابات میں حصہ لیا اور ناقابل شکست رہے۔
1970ء کے عام انتخابات میں ٹھٹھہ کے حلقے سے کامیاب ہو کر سندھ اسمبلی کے رکن بنے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں انھوں نے مختلف قلمدانوں کے لیے بطور وفاقی وزیر خدمات سر انجام دیں۔ 1988ء سے 1990ء تک اطلاعات و مواصلات اور 1994ء سے 1996ء تک ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کے وفاقی وزیر رہے جب کہ 2008ء میں وفاقی وزیر صنعت و تجارت کا قلمدان سونپا گیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دور میں امین فہیم پارٹی کے تمام امور دیکھتے تھے۔
2008ء کے انتخابات کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری سے ان کے اختلافات کھل کر سامنے آئے تاہم انھوں نے پیپلز پارٹی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ مخدوم امین فہیم نے چار شادیاں کی تھیں۔ علاج کی غرض سے طویل عرصے تک بیرون ملک بھی رہے۔ ان کا انتقال پیپلز پارٹی کے لیے عظیم نقصان ہے۔