بیرون ملک اثاثے بنانے والوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم پر غور

بیرون ممالک اثاثہ جات رکھنے والے پاکستانیوں کےلیےالگ سے قانون اور رولز متعارف کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ایف بی آر

بیرون ممالک اثاثہ جات رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے الگ سے قانون اور رولز متعارف کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ایف بی آر فوٹو: فائل

ٹیکس اصلاحات کمیشن نے ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بنانے والوں کے لیے ایک مرتبہ ایمنسٹی کی تجویز دے دی ہے جس کے تحت بیرون ممالک اربوں روپے کی جائیدادیں خریدنے والوں کو 10 سے 15 فیصد ٹیکس دے کر بیرون ملک اپنے غیرقانونی اثاثہ جات کوقانونی حیثیت دینے کا موقع دینے پر غور ہو رہا ہے تاہم حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کریں گے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ٹیکس اصلاحات کمیشن کے درمیان جن تجاویز پر اتفاق رائے ہوا ہے ان میں سے ایک تجویز پاکستانیوں کے غیرملکی اثاثہ جات کی ڈکلیئریشن سے متعلق ہے۔

جس میں ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے زور دیا گیا ہے کہ پاکستانیوں کو بیرون ممالک اثاثہ جات اپنے انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کرنے کا ایک موقع دیا جائے اور انہیں ایک مرتبہ کے لیے ایمنسٹی دینے کے ساتھ ساتھ نیا قانون بھی متعارف کرانے کا کہا گیا تھا البتہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک اثاثہ جات رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے الگ سے قانون اور رولز متعارف کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔


کیونکہ پاکستان کے موجودہ ٹیکس قوانین میں شہریوں کی ملکی و غیرملکی ذرائع سے حاصل ہونے والی مجموعی عالمی آمدنی سے متعلق شقیں موجود ہیں جبکہ غیرملکیوں پر پاکستانی ذرائع سے کمائی جانے والی آمدنی پر بھی ٹیکس کے قوانین اور شقیں موجود ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اپنے ریمارکس میں کہا گیا کہ پاکستانی ٹیکس دہندگان کے لیے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ جمع کرائی جانے والی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اپنے ملکی و غیرملکی تمام اثاثہ جات کو ظاہر کرنا لازمی ہے۔

اس بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے لیکن بیرون ممالک غیرقانونی اثاثہ جات کے لیے ایمنسٹی اسکیم لانے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس اصلاحات کمیشن کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ پاکستانیوں نے چونکہ بیرون ملک پراپرٹی میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رکھی ہے لہٰذا اگر لوگوں کو 10 سے 15 فیصد ٹیکس ادا کر کے اسے ظاہر کرنے کا موقع دیا جاتا ہے تو اس سے ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ ان پراپرٹیز کے ڈکلیئر ہونے سے فارمل اکانومی کو بھی فروغ ملے گا جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئے گی۔
Load Next Story