ابتدائی تحقیقات مکمل تیسرے ون ڈے پر شکوک مسترد
آئی سی سی چیف نے غیرروایتی پیٹرنزکی رپورٹس کے باوجود پاک انگلینڈ مقابلے کے صاف ستھرا ہونے پراعتماد ظاہرکردیا
پاکستانی پلیئرزمشکوک رابطوں کی رپورٹ کرنے میں پیش پیش رہے،یقینی طور پرکچھ نہیں کہا جا سکتا مگر آثاراچھے ہی ہیں فوٹو:فائل
KABUL:
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ابتدائی تحقیقات کے بعد پاک انگلینڈ تیسرے ون ڈے پر شکوک مسترد کر دیئے۔
تفصیلات کے مطابق ماضی میں فکسنگ کے گڑھ سمجھے جانے والے وینیو شارجہ میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی شرمناک شکست اور خاص طور پر بیٹنگ پرفارمنس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شکوک کا اظہار کیا گیا مگر انگلینڈ کا میڈیا اس میں آگے رہا، جلتی پر تیل کا کام سابق انگلش کپتان مائیکل وان کے ٹویٹس نے کیا جس میں انھوں نے مقابلہ فکسڈ ہونے کا براہ راست شبہ ظاہر کردیا۔
برطانوی میڈیا میں گذشتہ روز رپورٹس آئیں کہ جوئے کے غیرروایتی پیٹرنز نے آئی سی سی کو بھی چونکا دیا اور اس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، اب معلوم ہوا ہے کہ کونسل نے واقعی اس حوالے سے ابتدائی تحقیقات کیں مگر مطمئن ہوکر تیسرے ون ڈے کو کلین چٹ دے دی، چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے اعتماد ظاہر کیا کہ شارجہ میں کھیلے گئے ون ڈے میں کوئی غلط حرکت نہیں ہوئی۔
انھوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہا کہ پاکستانی پلیئرز ہر مشکوک رابطے کی بڑھ چڑھ کر رپورٹ کررہے ہیں،اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو کبھی شک نہ کرتا، یہ درست ہے کہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ میچ کلین ہے لیکن جو آثار ظاہر ہوئے وہ کافی اچھے ہیں۔ واضح رہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن آفیسرز ہر انٹرنیشنل مقابلے کے دوران پولیس کا کردار ادا کرتے ہیں۔
یواے ای میں ہونے والے پاک انگلش مقابلوں کے دوران بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، ایسے تماشائیوں کو بھی وینیوز سے نکال باہر کیا گیا جو بطور بکیز مخبر کھیل کی تازہ ترین معلومات موبائل فونز سے افشا کرنے میں مصروف تھے تاکہ بکیز براہ راست نشریات میں 15 سیکنڈزکی تاخیر سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انگلینڈ میں بھی بیٹنگ انڈسٹری مشکوک قسم کے پیٹرنز پر گہری نظر رکھتی اور معلومات نہ صرف آئی سی سی بلکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ بھی شیئر کرتی ہے۔
گذشتہ روز ایک انگلش اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ قانونی طور پر شرطوں کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی میں پاک انگلینڈ میچ پر 20 ملین پاؤنڈکا جوا کھیلا گیا جو غیرروایتی پیٹرنز پر دو گنا زیادہ تھا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ابتدائی تحقیقات کے بعد پاک انگلینڈ تیسرے ون ڈے پر شکوک مسترد کر دیئے۔
تفصیلات کے مطابق ماضی میں فکسنگ کے گڑھ سمجھے جانے والے وینیو شارجہ میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی شرمناک شکست اور خاص طور پر بیٹنگ پرفارمنس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شکوک کا اظہار کیا گیا مگر انگلینڈ کا میڈیا اس میں آگے رہا، جلتی پر تیل کا کام سابق انگلش کپتان مائیکل وان کے ٹویٹس نے کیا جس میں انھوں نے مقابلہ فکسڈ ہونے کا براہ راست شبہ ظاہر کردیا۔
برطانوی میڈیا میں گذشتہ روز رپورٹس آئیں کہ جوئے کے غیرروایتی پیٹرنز نے آئی سی سی کو بھی چونکا دیا اور اس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، اب معلوم ہوا ہے کہ کونسل نے واقعی اس حوالے سے ابتدائی تحقیقات کیں مگر مطمئن ہوکر تیسرے ون ڈے کو کلین چٹ دے دی، چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن نے اعتماد ظاہر کیا کہ شارجہ میں کھیلے گئے ون ڈے میں کوئی غلط حرکت نہیں ہوئی۔
انھوں نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں کہا کہ پاکستانی پلیئرز ہر مشکوک رابطے کی بڑھ چڑھ کر رپورٹ کررہے ہیں،اگر میں آپ کی جگہ ہوتا تو کبھی شک نہ کرتا، یہ درست ہے کہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ میچ کلین ہے لیکن جو آثار ظاہر ہوئے وہ کافی اچھے ہیں۔ واضح رہے کہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن آفیسرز ہر انٹرنیشنل مقابلے کے دوران پولیس کا کردار ادا کرتے ہیں۔
یواے ای میں ہونے والے پاک انگلش مقابلوں کے دوران بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، ایسے تماشائیوں کو بھی وینیوز سے نکال باہر کیا گیا جو بطور بکیز مخبر کھیل کی تازہ ترین معلومات موبائل فونز سے افشا کرنے میں مصروف تھے تاکہ بکیز براہ راست نشریات میں 15 سیکنڈزکی تاخیر سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انگلینڈ میں بھی بیٹنگ انڈسٹری مشکوک قسم کے پیٹرنز پر گہری نظر رکھتی اور معلومات نہ صرف آئی سی سی بلکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ساتھ بھی شیئر کرتی ہے۔
گذشتہ روز ایک انگلش اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ قانونی طور پر شرطوں کا کاروبار کرنے والی ایک کمپنی میں پاک انگلینڈ میچ پر 20 ملین پاؤنڈکا جوا کھیلا گیا جو غیرروایتی پیٹرنز پر دو گنا زیادہ تھا۔