ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی کوششیں
ماہرین کا کہنا ہےکہ دنیا کو گلوبل وارمنگ سےبچانے کے لیے ایک ہزار سے زیادہ سی سی ایس پلانٹس کے قائم کرنے کی ضرورت ہے
ماہرین کے مطابق اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں سب سے زیادہ زہریلی گیسیں خارج کرتی ہیں۔ فوٹو:فائل
زہریلی گرین ہاؤس گیسوں کے مضر اثرات سے بچاؤ اور کرہ ارض پر صنعتی ترقی کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے گرین انرجی ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے جس کو اصطلاح میں ''کاربن کیچر اینڈ اسٹوریج'' کا نام دیا گیا ہے جس کا مخفف ''سی سی ایس'' بن بنتا ہے۔ لیکن اس طریق کار کے عملی استعمال میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جا سکا۔ سی سی ایس کے استعمال کے لازم ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جو گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ غالب حیثیت رکھتی ہے اور جس کے بڑے ذرایع پاور پلانٹس اور اسٹیل ملز ہوتی ہیں اس گیس کو پکڑ کر زمین میں اتنی گہرائی میں پہنچا دیا جائے کہ زمین کے بیرونی ماحول پر اس کے اثرات مرتب نہ ہو سکیں۔
اس سی سی ایس طریق کار کو استعمال میں لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس پر خرچہ بے تحاشا ہو گا جو کسی ایک ملک کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہو گا خواہ وہ امریکا جیسا مالدار ملک ہی کیوں نہ ہو۔ گویا اس مقصد کی خاطر کثیرالملکی کنسورشیم درکار ہو گا جیسا کہ دنیا پر عسکری غلبے کے لیے نیٹو کے نام سے تو قائم کیا جا سکتا ہے مگر فلاحی مقاصد کے لیے اس طرح کے عالمگیر اشتراک کا فی الحال امکان نظر نہیں آتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو گلوبل وارمنگ سے بچانے کے لیے ایک ہزار سے زیادہ سی سی ایس پلانٹس کے قائم کرنے کی ضرورت ہے جب کہ اب تک اس کے صرف 22 لارج اسکیل پلانٹ ہی قائم کیے جا سکے ہیں۔
سی سی ایس کی کارکردگی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بہت زیادہ دباؤ کے ساتھ مایہ کی شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جسے بعد ازاں زمین کے اندر پمپ کے ذریعے بہت زیادہ گہرائی میں پہنچا دیا جائے۔ لیکن اس صورت میں بھی ایک خطرہ موجود رہتا ہے کہ یہ زہریلی گیس کہیں زیر زمین جا کر زلزلوں میں اضافہ کا موجب نہ بن جائے۔ ماہرین کے مطابق اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں سب سے زیادہ زہریلی گیسیں خارج کرتی ہیں جن کی تعداد امریکا میں سب سے زیادہ ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں اور ملک کے لیے سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کے علاوہ سب سے زیادہ دولت بھی ملک کے لیے کماتی ہیں لہذا انھیں ماحولیاتی قوانین کی پابندی کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔
اس سی سی ایس طریق کار کو استعمال میں لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اس پر خرچہ بے تحاشا ہو گا جو کسی ایک ملک کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں ہو گا خواہ وہ امریکا جیسا مالدار ملک ہی کیوں نہ ہو۔ گویا اس مقصد کی خاطر کثیرالملکی کنسورشیم درکار ہو گا جیسا کہ دنیا پر عسکری غلبے کے لیے نیٹو کے نام سے تو قائم کیا جا سکتا ہے مگر فلاحی مقاصد کے لیے اس طرح کے عالمگیر اشتراک کا فی الحال امکان نظر نہیں آتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو گلوبل وارمنگ سے بچانے کے لیے ایک ہزار سے زیادہ سی سی ایس پلانٹس کے قائم کرنے کی ضرورت ہے جب کہ اب تک اس کے صرف 22 لارج اسکیل پلانٹ ہی قائم کیے جا سکے ہیں۔
سی سی ایس کی کارکردگی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بہت زیادہ دباؤ کے ساتھ مایہ کی شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جسے بعد ازاں زمین کے اندر پمپ کے ذریعے بہت زیادہ گہرائی میں پہنچا دیا جائے۔ لیکن اس صورت میں بھی ایک خطرہ موجود رہتا ہے کہ یہ زہریلی گیس کہیں زیر زمین جا کر زلزلوں میں اضافہ کا موجب نہ بن جائے۔ ماہرین کے مطابق اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں سب سے زیادہ زہریلی گیسیں خارج کرتی ہیں جن کی تعداد امریکا میں سب سے زیادہ ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں اور ملک کے لیے سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کے علاوہ سب سے زیادہ دولت بھی ملک کے لیے کماتی ہیں لہذا انھیں ماحولیاتی قوانین کی پابندی کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔