پاک افغان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے معاہدوں کا امکان

دونوں ممالک کے درمیان روڈ اور ریل لنک کے حوالے سے منصوبوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوگا

دونوں ممالک کے درمیان روڈ اور ریل لنک کے حوالے سے منصوبوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوگا فوٹو: فائل

لاہور:
پاکستان اور افغانستان کے درمیان آئندہ ہفتے بجلی کے منصوبے کاسا 1000پر عملدرآمد اور ٹی اے پی، دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے سمیت دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے حوالے سے پیشرفت کا امکان ہے جس کے لیے پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کا دوروزہ دسواں اجلاس پیر سے اسلام آباد میں شروع ہوگا۔

اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان آئندہ ہفتے دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے اورمعلومات کے الیکٹرانیکلی تبادلے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ریلوے لنک کے لیے ریلوے لائن بچھانے کے منصوبوںسمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی جانب سے افغانستان میں نشتر اسپتال و کالج کی تعمیر سمیت دیگر شروع کیے جانے والے منصوبوں کے بارے میں بھی ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوں گے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے درپیش مشکلات دور کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔


دونوں ممالک کے درمیان روڈ اور ریل لنک کے حوالے سے منصوبوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوگا اور پاکستانی مصنوعات کی افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک ریل اور زمینی راستے سے ترسیل کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا جبکہ اس حوالے سے 'ایکسپریس' کو دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کے دسویں اجلاس کی تیاری کیلیے بارہ نومبر کو ہونے والے بین الوزارتی اجلاس میں پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن کے نویں اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کے بارے میں ہونے والی پیشرفت سمیت دیگر اہم ڈویلپمنٹس کے حوالے سے تمام ورکنگ مکمل کی جاچکی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نویں اجلاس میں پاکستان نے افغان حکام کو پاکستانی مصنوعات کی وسط ایشیائی ممالک تک رسائی کیلیے افغان حکام کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر110 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے برابر مالیاتی گارنٹی اور 100 ڈالر فی 25 ٹن کے حساب سے چارجز ختم کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا جسے افغانستان نے ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم جواب میں افغان حکام نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کیلیے اقدامات اٹھانے کا معاملہ اٹھایا تھا اور پاکستان کی کسٹمز اتھارٹیز کی جانب سے یہ مسائل دور کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق پاکستانی مصنوعات کی افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک تک ترسیل کیلیے پاکستانی مصنوعات پر 110فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے برابر مالیاتی گارنٹی اور 100 ڈالر فی پچیس ٹن کے حساب سے چارجز ختم کرنیکا باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکا ہے اور اس بارے میں پاکستانی حکام کو آگاہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے پر بھی اتفاق ہوچکا ہے اور اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلیے پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے کا مسودہ بھی افغان حکام کے حوالے کیا جاچکا ہے اورتوقع ہے کہ پاکستان افغانستان مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہرے ٹیکسوں سے بچاؤ کے معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دیے جانیکا امکان ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں بجلی کے منصوبے کاسا 1000 پر عملدرآمد اور ٹی اے پی کے حوالے سے پیشرفت کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔
Load Next Story