ہالینڈ کی خاتون سفیر نے دریائے نیل تیر کر عبور کرلیا
اقدام کا مقصدخواتین کی حالت بہتربنانے سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا، ڈچ سفارتخانہ
وہ7 ڈچ اور 7 سوڈانی خواتین پیراکوں کے ہمراہ دریا میں اتریں، کام بہت خوب رہا، سوزن۔ فوٹو: فائل
سوڈان میں ہالینڈ کی خاتون سفیر نے دریائے نیل تیر کرعبور کرنے کی ''مہم'' سر کرلی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا نیٹ ورک فیس بک پرڈچ سفارتخانے نے اعلان کیا تھا کہ 10 ہزار افراد کی جانب سے ''لائیکس'' ملنے پرسفیرہ سوزن بلینک ہارٹ (Susan blankhart) دریائے نیل تیرکرعبورکریں گی۔ اس اقدام کا مقصد ڈوب کرہلاک ہونے کے واقعات اورخواتین کی حالت بہتر بنانے سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 63 سالہ سوزن بلینک ہارٹ نے ہالینڈ میں پیراکی کے لیے مخصوص نارنجی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جس پرسفارتخانے کالوگوبناہواتھا۔ وہ7 ڈچ اور7 سوڈانی خواتین پیراکوں کے ہمراہ دریائے نیل کے پانی میں اتریں۔ دریا کے دونوں کناروں پر موجود افراد ان کی حوصلہ افزائی کیلیے نعرے لگاتے رہے۔ دریائے نیل پار کرنیکی مہم کے دوران سوڈانی پیراک اور غوطہ خور متعدد کشتیوں میں خواتین پیراکوں کے ہمراہ سفر کرتے رہے۔ دریا عبور کرنے پر سوزن بلینک ہارٹ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ 'یہ کام بہت خوب رہا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا نیٹ ورک فیس بک پرڈچ سفارتخانے نے اعلان کیا تھا کہ 10 ہزار افراد کی جانب سے ''لائیکس'' ملنے پرسفیرہ سوزن بلینک ہارٹ (Susan blankhart) دریائے نیل تیرکرعبورکریں گی۔ اس اقدام کا مقصد ڈوب کرہلاک ہونے کے واقعات اورخواتین کی حالت بہتر بنانے سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 63 سالہ سوزن بلینک ہارٹ نے ہالینڈ میں پیراکی کے لیے مخصوص نارنجی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جس پرسفارتخانے کالوگوبناہواتھا۔ وہ7 ڈچ اور7 سوڈانی خواتین پیراکوں کے ہمراہ دریائے نیل کے پانی میں اتریں۔ دریا کے دونوں کناروں پر موجود افراد ان کی حوصلہ افزائی کیلیے نعرے لگاتے رہے۔ دریائے نیل پار کرنیکی مہم کے دوران سوڈانی پیراک اور غوطہ خور متعدد کشتیوں میں خواتین پیراکوں کے ہمراہ سفر کرتے رہے۔ دریا عبور کرنے پر سوزن بلینک ہارٹ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ 'یہ کام بہت خوب رہا۔