بنگلہ دیشی حکومت سہ فریقی معاہدے کی پاسداری کرے
دونوں ممالک کے عوام ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی اور بھائی چارے سے تعلقات آگے بڑھانا چاہتے ہیں
بنگلہ دیش کے اندر ایک بڑا گروہ جہاں حسینہ واجد کا حامی ہے وہاں اتنا ہی بڑا گروہ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے فوٹو؛فائل
پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے بنگلہ دیش میں دو بزرگ سیاستدانوں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما صلاح الدین قادر چوہدری اور جماعت اسلامی کے رہنما علی احسن مجاہد کو سزائے موت دینے پر گہری تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے 9 اپریل1974ء میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونیوالے سمجھوتے کی روح کے مطابق مفاہمت پر عملدر آمد کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاہدے میں 1971ء کے سانحے کو بھلا کر آگے بڑھنے کی سوچ اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ان پھانسیوں پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی ہے، انصاف کے قتل پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی حیران کن ہے، انسانیت کے قتل اور پاکستانیت سے انتقام کی آگ کو اب ٹھنڈا ہونا چاہیے، پاکستانی اور بنگلہ دیشی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے عوام ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی اور بھائی چارے سے تعلقات آگے بڑھانا چاہتے ہیں مگر بنگلہ دیش میں ایک گروہ دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کی فضا کو بحال ہوتے نہیں دیکھ سکتا، ہمیں اندازہ ہے کہ اس گروہ کے پیچھے کون ہے اور1971ء کے واقعات کے پیچھے اس کا کیا کردار تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کو قریب آنے سے کونسی طاقتیں روک رہی ہیں اور اس کے پیچھے کن عناصر کی سازشیں کارفرما ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انتہائی رنجیدہ ہوں کہ ہم ان لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ انھوں نے آج سے45 سال پہلے اپنے وطن پاکستان سے وفاداری نبھائی اور اس وقت کی ایک آئینی اور قانونی حکومت کا ساتھ دیا۔ کابینہ کے آیندہ اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھاؤں گا تاکہ بنگلہ دیش حکومت کے انتقام کی آگ کے آگے دیوار کھڑی کی جا سکے۔
بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر 2010ء میں دو مختلف ٹربیونل قائم کیے گئے جس کا مقصد 1971ء کی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران ہونے والے جنگی جرائم کا جائزہ لینا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد پاکستان کے بارے میں انتہائی متعصبانہ رویے کا اظہار کرتی چلی آ رہی ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے 1971ء میں پاکستان سے وفاداری نبھاتے ہوئے وطن کی حفاظت کی، آج وہ ان کو نام نہاد عدالتوں کے ذریعے تختہ دار پر لٹکا رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے معمر سربراہ غلام اعظم کو بھی نہ بخشا گیا اور ان پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کر کے انھیں 90 برس قید کی سزا سنائی گئی، دسمبر 2013ء کو جماعت اسلامی کے اہم رہنما عبدالقادر ملا کو بھی پھانسی دے دی گئی' نومبر 2014ء میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما میر قاسم علی کو بھی سزائے موت سنائی گئی' اپریل 2015ء میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب سیکریٹری قمر الزمان کو ڈھاکا میں پھانسی دے دی گئی ان پر بھی 1971ء کی نام نہاد جنگ آزادی میں جنگی جرائم میں مرتکب ہونے کا الزام تھا کہ انھوں نے 120 غیر مسلح کسانوں کو ہلاک کیا تھا۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے ان تمام مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر انتقام قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ شیخ حسینہ واجد بھارت کے ساتھ ہمدردی اور دوستی کا اظہار کرتی رہتی ہیں گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر برملا اعتراف کیا کہ انھوں نے 1971ء کی جنگ میں پاکستان توڑنے میں کردار ادا کیا جس پر خوش ہو کر شیخ حسینہ واجد نے نریندر مودی کو اعلیٰ اعزاز سے نوازا۔ جب سے شیخ حسینہ واجد برسراقتدار آئی ہیں پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
کبھی عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں پاکستان کو زک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کرکٹ میچ کے دوران پاکستان سے اظہار محبت کرنے والے بنگالی نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے ان منفی اقدامات کے جواب میں پاکستان نے ہمیشہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوشش کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کی تلخیاں بھلا کر تعلقات بہتر بنایا جائے لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا۔ حیران کن امر ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی ان پھانسیوں کے خلاف بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی مکمل خاموش ہیں اور کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کر رہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں لہٰذا وہ پاکستان کے خلاف شیخ حسینہ واجد کے متعصبانہ اقدامات کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے اندر ایک بڑا گروہ جہاں حسینہ واجد کا حامی ہے وہاں اتنا ہی بڑا گروہ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت 1974کے سہ فریقی معاہدے کی پاسداری کرے اور تکلیف دہ ماضی کے بجائے مستقبل کو اچھا اور بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
علاوہ ازیں ان پھانسیوں پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی ہے، انصاف کے قتل پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی حیران کن ہے، انسانیت کے قتل اور پاکستانیت سے انتقام کی آگ کو اب ٹھنڈا ہونا چاہیے، پاکستانی اور بنگلہ دیشی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے عوام ماضی کی تلخیاں بھلا کر دوستی اور بھائی چارے سے تعلقات آگے بڑھانا چاہتے ہیں مگر بنگلہ دیش میں ایک گروہ دونوں ممالک کے مابین بھائی چارے کی فضا کو بحال ہوتے نہیں دیکھ سکتا، ہمیں اندازہ ہے کہ اس گروہ کے پیچھے کون ہے اور1971ء کے واقعات کے پیچھے اس کا کیا کردار تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کو قریب آنے سے کونسی طاقتیں روک رہی ہیں اور اس کے پیچھے کن عناصر کی سازشیں کارفرما ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ انتہائی رنجیدہ ہوں کہ ہم ان لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ انھوں نے آج سے45 سال پہلے اپنے وطن پاکستان سے وفاداری نبھائی اور اس وقت کی ایک آئینی اور قانونی حکومت کا ساتھ دیا۔ کابینہ کے آیندہ اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھاؤں گا تاکہ بنگلہ دیش حکومت کے انتقام کی آگ کے آگے دیوار کھڑی کی جا سکے۔
بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر 2010ء میں دو مختلف ٹربیونل قائم کیے گئے جس کا مقصد 1971ء کی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران ہونے والے جنگی جرائم کا جائزہ لینا ہے۔ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد پاکستان کے بارے میں انتہائی متعصبانہ رویے کا اظہار کرتی چلی آ رہی ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے 1971ء میں پاکستان سے وفاداری نبھاتے ہوئے وطن کی حفاظت کی، آج وہ ان کو نام نہاد عدالتوں کے ذریعے تختہ دار پر لٹکا رہی ہیں۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے معمر سربراہ غلام اعظم کو بھی نہ بخشا گیا اور ان پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کر کے انھیں 90 برس قید کی سزا سنائی گئی، دسمبر 2013ء کو جماعت اسلامی کے اہم رہنما عبدالقادر ملا کو بھی پھانسی دے دی گئی' نومبر 2014ء میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما میر قاسم علی کو بھی سزائے موت سنائی گئی' اپریل 2015ء میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب سیکریٹری قمر الزمان کو ڈھاکا میں پھانسی دے دی گئی ان پر بھی 1971ء کی نام نہاد جنگ آزادی میں جنگی جرائم میں مرتکب ہونے کا الزام تھا کہ انھوں نے 120 غیر مسلح کسانوں کو ہلاک کیا تھا۔
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے ان تمام مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر انتقام قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ شیخ حسینہ واجد بھارت کے ساتھ ہمدردی اور دوستی کا اظہار کرتی رہتی ہیں گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر برملا اعتراف کیا کہ انھوں نے 1971ء کی جنگ میں پاکستان توڑنے میں کردار ادا کیا جس پر خوش ہو کر شیخ حسینہ واجد نے نریندر مودی کو اعلیٰ اعزاز سے نوازا۔ جب سے شیخ حسینہ واجد برسراقتدار آئی ہیں پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
کبھی عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں پاکستان کو زک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کرکٹ میچ کے دوران پاکستان سے اظہار محبت کرنے والے بنگالی نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے ان منفی اقدامات کے جواب میں پاکستان نے ہمیشہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوشش کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ماضی کی تلخیاں بھلا کر تعلقات بہتر بنایا جائے لیکن ایسا نہیں ہو پا رہا۔ حیران کن امر ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی ان پھانسیوں کے خلاف بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی مکمل خاموش ہیں اور کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کر رہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں لہٰذا وہ پاکستان کے خلاف شیخ حسینہ واجد کے متعصبانہ اقدامات کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے اندر ایک بڑا گروہ جہاں حسینہ واجد کا حامی ہے وہاں اتنا ہی بڑا گروہ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت 1974کے سہ فریقی معاہدے کی پاسداری کرے اور تکلیف دہ ماضی کے بجائے مستقبل کو اچھا اور بہتر بنانے کی کوشش کرے۔