افغان مہاجرین کی واپسی جلد ممکن بنائی جائے

2002 سے جاری رضاکارانہ واپسی کے تحت اب تک پاکستان سے 39 لاکھ افغان پناہ گزین اپنے ملک واپس جاچکے ہیں،

افغانیوں کی اپنے وطن واپسی پاکستان کے سیاسی و سماجی استحکام کے لیے ازحد ضروری ہے فوٹو: فائل

غیرملکی مہاجرین و پناہ گزین کسی بھی ریاست پر اضافی بوجھ ہوتے ہیں، گزشتہ صدی افغانستان میں شورش کے بعد افغان مہاجرین کی بے دریغ پاکستان آمد سے بے پناہ مسائل ابھر کر سامنے آئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 2012ء میں پاکستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے ڈیڈ لائن 31 دسمبر 2015ء مقرر کی گئی تھی تاہم اطلاعات ہیں کہ حکومت پاکستان میں رہائش پذیر 14 لاکھ 50 ہزار سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی مقررہ تاریخ تک مکمل کرنے میں ناکام ہوگئی، جس کے بعد 2 سال مزید قیام کے لیے پلان منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

واضح رہے 2002 سے جاری رضاکارانہ واپسی کے تحت اب تک پاکستان سے 39 لاکھ افغان پناہ گزین اپنے ملک واپس جاچکے ہیں، رواں سال بھی اب تک 60 ہزار افغان مہاجرین کی واپسی ممکن ہوئی۔ ذرایع کے مطابق افغان حکومت، یو این ایچ سی آر اور وزارت سیفران کے سہ فریقی کمیشن نے پاکستان میں قیام پذیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا نیا پلان تیار کیا ہے جس پر وزارت سیفران نے چاروں صوبوں کے حکام سے مشاورت کے بعد مہاجرین کی وطن واپسی کا نیا دو سالہ پلان حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا ہے اور وفاقی کابینہ کے آیندہ اجلاس میں پلان کی منظوری دی جائے گی۔


مناسب ہوگا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے موثر حکمت عملی مرتب کی جائے، افغانیوں کی اپنے وطن واپسی پاکستان کے سیاسی و سماجی استحکام کے لیے ازحد ضروری ہے کیونکہ پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، سندھ اور خصوصاً کراچی میں ان مہاجرین کے عدم انخلا کے باعث سیاسی و سماجی مسائل بڑھ گئے ہیں۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق افغان مہاجرین کی آبادیوں میں دہشت گردوں کے خفیہ نیٹ ورک پناہ لیتے ہیں، جس کے باعث دہشت گردانہ واقعات کے بعد ان کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ دوسری جانب افغان صدر، چیف ایگزیکٹو اور کابینہ مسلسل پاکستان کے خلاف الزام تراشی کررہے ہیں۔ رجسٹرڈ مہاجرین کے علاوہ ان گنت غیر رجسٹرڈ مہاجرین بھی ملک میں پناہ گزین ہیں۔ ان حالات میں راست اقدام ہوگا کہ افغان مہاجرین کی جلد از جلد اپنے وطن واپسی کو ممکن بنایا جائے۔
Load Next Story