ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ
ہر سال قومی بجٹ میں کھربوں کی رقم ترقیاتی پروگراموں کے لیے بھی رکھی جاتی ہے،
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ہر سال قومی بجٹ میں کھربوں کی رقم ترقیاتی پروگراموں کے لیے بھی رکھی جاتی ہے، اس کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے قرضوں اور امداد کی شکل میں اربوں ڈالر حاصل کی جاتے ہیں، لیکن ان بھاری رقوم کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے، اس کا پتہ خرچ کرنے والوں کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔
ترقیاتی پروگرام بلاشبہ ملکوں کی ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن ان ترقیاتی پروگراموں کا فائدہ جوکھربوں روپوں پر مشتمل ہوتے ہیں اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا استعمال ایماندارانہ ہو لیکن ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جانے والی بھاری رقوم کی کوئی مانیٹرنگ نہیں ہوتی۔ آج منتخب اراکین کے علاوہ قومی اداروں میں اربوں روپوں کی جو کرپشن ہو رہی ہے اس کا ازالہ کس طرح ممکن ہے ملک کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جس پر اربوں کی کرپشن کے الزامات نہ ہوں۔
اور ہمارے قانون اور انصاف کے نظام کی سست روی کا عالم یہ ہے کہ ان الزامات کے حوالے سے دائرکیسوں کی سماعت برسوں بلکہ بعض صورتوں میں عشروں تک جاری رہتی ہے، یہی حال اس کرپشن کا ہے جس میں اعلیٰ سطح کے سیاست کار ملوث ہیں ،کیا اس طریقہ کار سے ترقیاتی کام پورے کیے جاسکتے ہیں؟ ابھی پچھلے دنوں آئی ایم ایف سے چالیس کروڑ ڈالر کی ایک قسط ملی ہے، ایسی کئی قسطیں پہلے بھی مل چکی ہیں ،کیا یہ بات وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ ان کھربوں روپوں کا استعمال ایماندارانہ ہوا ہے؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اپنے جمہوری نظام پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔پاکستان سمیت پسماندہ جمہوری ملک میں جو انتخابی نظام رائج ہے اسے سیاسی یا جمہوری کہنا حماقت ہے۔
یہ ایک ایسا بھاری منافع بخش نظام ہے جس میں دو کروڑ کی سرمایہ کاری کرنے والا دس گنا زیادہ منافع حاصل کرتا ہے اور پانچ کروڑ لگانے والا آسانی سے پچاس کروڑ بٹور لیتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سرمایہ دارانہ معیشت کرپشن کے پیروں پر کھڑی ہوئی ہے ،کرپشن کے بغیر یہ معیشت ایک قدم نہیں چل سکتی۔
ہماری حکومت پاورکے منصوبوں، موٹروے، میٹروبس اور نارنجی ٹرانسپورٹ منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن کیا یہ روپیہ درست طریقے سے استعمال ہو رہا ہے؟ اس سوال کا کسی کے پاس تشفی بخش جواب نہیں۔ اس حوالے سے نندی پور پاور پروجیکٹ سمیت کئی منصوبے ہمارے سامنے ہیں جن پر اپوزیشن کی طرف سے کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔موٹر وے، پاور پروجیکٹ وغیرہ ہماری لانگ ٹرم ضرورتیں ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام جن مسائل سے براہ راست دوچار ہیں انھیں حل کرنے کی کسی حکومت کو توفیق نہیں۔ ہمارے محترم وزیر اعظم بار بار فرما رہے ہیں کہ ''ہم نے مہنگائی کی کمر توڑ دی ہے۔''
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی کمر اس قدر مضبوط ہوگئی ہے کہ وہ کئی حکومتوں کو اپنی کمر پر لاد کر بھاگتی رہی ہے۔بے شمار قومی ادارے اربوں کی کرپشن کا شکار ہیں اور اسی الزام کے ساتھ ان اداروں کی نجکاری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اگر صورت حال یہی رہی تو خطرہ ہے کہ ایک دن جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کی بھی نجکاری کردی جائے گی۔ ایک دلچسپ تماشہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ حکومتیں الزام لگاتی ہیں کہ اگر پچھلی حکومتیں بجلی گیس کے حوالے سے اقدامات کرتیں تو آج ان کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ اعتراض بالکل درست ہے لیکن پچھلی حکومتیں کس کی تھیں۔
1988 سے آج تک صرف دو پارٹیاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ باری باری حکومت کر رہی ہیں پھر پچھلی کس حکومت پر نااہلی کا الزام لگایا جا رہا ہے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارے محترم حکمران اقتدار میں آنے کے بعد جس ضروری کام پر اپنا وقت اور صلاحیتیں صرف کرتے رہے وہ ہے قومی دولت کی لوٹ مار اس اہم ترین کام میں یہ معززین اس قدر مصروف رہتے رہے ہیں کہ عوامی مسائل پر سوچنے اور انھیں حل کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہ رہا۔ اقتصادی راہداری کا منصوبہ یقینا بہت بڑا منصوبہ 73ارب ڈالر کا کوئی منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں طے پایا۔ اس منصوبے پر ایمانداری سے عمل کیا جائے تو یقینا پاکستان کی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں لیکن اس 73 ارب ڈالر کے منصوبے کا عوام کو جو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے وہ ہے روزگار کے مواقعے۔ کیا اس فائدے سے غریب عوام کی زندگی میں خوشحالی آسکتی ہے؟ کیا غریب عوام کے دسترخوان پر چائے، پیاز، روٹی کے بجائے انڈے مکھن آسکتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو ایسی ترقی پر عوام لعنت ہی بھیجیں گے۔
ان ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ قومی دولت قوم پر خرچ ہونے کے بجائے اشرافیہ کے بینک بیلنس میں اضافے کا باعث بن رہی ہے یہ نظام نیا نہیں 68 سال پرانا ہے۔ جب تک قومی دولت کی اس لوٹ مار کو سختی سے روکا نہیں جائے گا اور عوام کے روز مرہ کے مسائل کو ترجیح نہیں دی جائے گی صورتحال میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں اور اس لوٹ مار کے نظام کو روکنے اور قومی دولت کے درست استعمال کے لیے قومی دولت کے استعمال کی سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کرے تو کچھ بہتری ممکن ہے۔
ترقیاتی پروگرام بلاشبہ ملکوں کی ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن ان ترقیاتی پروگراموں کا فائدہ جوکھربوں روپوں پر مشتمل ہوتے ہیں اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا استعمال ایماندارانہ ہو لیکن ہماری اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جانے والی بھاری رقوم کی کوئی مانیٹرنگ نہیں ہوتی۔ آج منتخب اراکین کے علاوہ قومی اداروں میں اربوں روپوں کی جو کرپشن ہو رہی ہے اس کا ازالہ کس طرح ممکن ہے ملک کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جس پر اربوں کی کرپشن کے الزامات نہ ہوں۔
اور ہمارے قانون اور انصاف کے نظام کی سست روی کا عالم یہ ہے کہ ان الزامات کے حوالے سے دائرکیسوں کی سماعت برسوں بلکہ بعض صورتوں میں عشروں تک جاری رہتی ہے، یہی حال اس کرپشن کا ہے جس میں اعلیٰ سطح کے سیاست کار ملوث ہیں ،کیا اس طریقہ کار سے ترقیاتی کام پورے کیے جاسکتے ہیں؟ ابھی پچھلے دنوں آئی ایم ایف سے چالیس کروڑ ڈالر کی ایک قسط ملی ہے، ایسی کئی قسطیں پہلے بھی مل چکی ہیں ،کیا یہ بات وثوق سے کی جاسکتی ہے کہ ان کھربوں روپوں کا استعمال ایماندارانہ ہوا ہے؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اپنے جمہوری نظام پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔پاکستان سمیت پسماندہ جمہوری ملک میں جو انتخابی نظام رائج ہے اسے سیاسی یا جمہوری کہنا حماقت ہے۔
یہ ایک ایسا بھاری منافع بخش نظام ہے جس میں دو کروڑ کی سرمایہ کاری کرنے والا دس گنا زیادہ منافع حاصل کرتا ہے اور پانچ کروڑ لگانے والا آسانی سے پچاس کروڑ بٹور لیتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سرمایہ دارانہ معیشت کرپشن کے پیروں پر کھڑی ہوئی ہے ،کرپشن کے بغیر یہ معیشت ایک قدم نہیں چل سکتی۔
ہماری حکومت پاورکے منصوبوں، موٹروے، میٹروبس اور نارنجی ٹرانسپورٹ منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن کیا یہ روپیہ درست طریقے سے استعمال ہو رہا ہے؟ اس سوال کا کسی کے پاس تشفی بخش جواب نہیں۔ اس حوالے سے نندی پور پاور پروجیکٹ سمیت کئی منصوبے ہمارے سامنے ہیں جن پر اپوزیشن کی طرف سے کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔موٹر وے، پاور پروجیکٹ وغیرہ ہماری لانگ ٹرم ضرورتیں ہیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام جن مسائل سے براہ راست دوچار ہیں انھیں حل کرنے کی کسی حکومت کو توفیق نہیں۔ ہمارے محترم وزیر اعظم بار بار فرما رہے ہیں کہ ''ہم نے مہنگائی کی کمر توڑ دی ہے۔''
لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی کمر اس قدر مضبوط ہوگئی ہے کہ وہ کئی حکومتوں کو اپنی کمر پر لاد کر بھاگتی رہی ہے۔بے شمار قومی ادارے اربوں کی کرپشن کا شکار ہیں اور اسی الزام کے ساتھ ان اداروں کی نجکاری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اگر صورت حال یہی رہی تو خطرہ ہے کہ ایک دن جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کی بھی نجکاری کردی جائے گی۔ ایک دلچسپ تماشہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ حکومتیں الزام لگاتی ہیں کہ اگر پچھلی حکومتیں بجلی گیس کے حوالے سے اقدامات کرتیں تو آج ان کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ اعتراض بالکل درست ہے لیکن پچھلی حکومتیں کس کی تھیں۔
1988 سے آج تک صرف دو پارٹیاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ باری باری حکومت کر رہی ہیں پھر پچھلی کس حکومت پر نااہلی کا الزام لگایا جا رہا ہے؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارے محترم حکمران اقتدار میں آنے کے بعد جس ضروری کام پر اپنا وقت اور صلاحیتیں صرف کرتے رہے وہ ہے قومی دولت کی لوٹ مار اس اہم ترین کام میں یہ معززین اس قدر مصروف رہتے رہے ہیں کہ عوامی مسائل پر سوچنے اور انھیں حل کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہ رہا۔ اقتصادی راہداری کا منصوبہ یقینا بہت بڑا منصوبہ 73ارب ڈالر کا کوئی منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں طے پایا۔ اس منصوبے پر ایمانداری سے عمل کیا جائے تو یقینا پاکستان کی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں لیکن اس 73 ارب ڈالر کے منصوبے کا عوام کو جو زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہے وہ ہے روزگار کے مواقعے۔ کیا اس فائدے سے غریب عوام کی زندگی میں خوشحالی آسکتی ہے؟ کیا غریب عوام کے دسترخوان پر چائے، پیاز، روٹی کے بجائے انڈے مکھن آسکتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو ایسی ترقی پر عوام لعنت ہی بھیجیں گے۔
ان ساری خرابیوں کی جڑ یہ ہے کہ قومی دولت قوم پر خرچ ہونے کے بجائے اشرافیہ کے بینک بیلنس میں اضافے کا باعث بن رہی ہے یہ نظام نیا نہیں 68 سال پرانا ہے۔ جب تک قومی دولت کی اس لوٹ مار کو سختی سے روکا نہیں جائے گا اور عوام کے روز مرہ کے مسائل کو ترجیح نہیں دی جائے گی صورتحال میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں اور اس لوٹ مار کے نظام کو روکنے اور قومی دولت کے درست استعمال کے لیے قومی دولت کے استعمال کی سخت مانیٹرنگ کی ضرورت ہے ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کرے تو کچھ بہتری ممکن ہے۔