بلدیاتی نظام کیخلاف جدو جہد جاری ر کھیں گے قوم پرست
مزاحمت کا ہر راستہ اختیار کریں گے ، پی ایس 21پر این پی پی امیدوار کی حمایت کا اعلان
مزاحمت کا ہر راستہ اختیار کریں گے ، پی ایس 21پر این پی پی امیدوار کی حمایت کا اعلان. فوٹو:فائل
KARACHI:
نیشنل پیپلزپارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی اور عوامی تحریک نے نیا بلدیاتی نظام واپس لیے جانے تک جدوجہد جاری رکھتے ہوئے مزاحمت کا ہر راستہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
جبکہ سندھ ترقی پسند پارٹی نے کنڈیارو کے ضمنی الیکشن میں نیشنل پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کا بھی اعلان کردیا ہے۔ سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جاری جدوجہد کو پراثر بنانے اور نوشہروفیروز کے صوبائی اسمبلی حلقہ 21 کے ضمنی الیکشن میں این پی پی کے امیدوار ابرار شاہ کی حمایت کے حصول کے لیے نیشنل پیپلزپارٹی کے سربراہ ایم این اے غلام مرتضٰی جتوئی نے قادر مگسی سے ملاقات کی اور اس کے بعد نسیم نگر چوک پر لگائے گئے ایس ٹی پی کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے این پی پی کے سربراہ ایم این اے غلام مرتضٰی جتوئی نے کہا کہ سندھ ہماری ماں ہے اور ہمارا جینا اور مرنا سندھ کے ساتھ ہے، ہم نے اس نظام کے خلاف وزارتوں سے استعفے دیے ہیں اور جب تک یہ نظام واپس نہیں لے لیا جاتا ہم اسمبلی کے اندر اور باہر قوم پرستوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔
نیشنل پیپلزپارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی اور عوامی تحریک نے نیا بلدیاتی نظام واپس لیے جانے تک جدوجہد جاری رکھتے ہوئے مزاحمت کا ہر راستہ اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
جبکہ سندھ ترقی پسند پارٹی نے کنڈیارو کے ضمنی الیکشن میں نیشنل پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کا بھی اعلان کردیا ہے۔ سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کے خلاف جاری جدوجہد کو پراثر بنانے اور نوشہروفیروز کے صوبائی اسمبلی حلقہ 21 کے ضمنی الیکشن میں این پی پی کے امیدوار ابرار شاہ کی حمایت کے حصول کے لیے نیشنل پیپلزپارٹی کے سربراہ ایم این اے غلام مرتضٰی جتوئی نے قادر مگسی سے ملاقات کی اور اس کے بعد نسیم نگر چوک پر لگائے گئے ایس ٹی پی کے بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پرمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے این پی پی کے سربراہ ایم این اے غلام مرتضٰی جتوئی نے کہا کہ سندھ ہماری ماں ہے اور ہمارا جینا اور مرنا سندھ کے ساتھ ہے، ہم نے اس نظام کے خلاف وزارتوں سے استعفے دیے ہیں اور جب تک یہ نظام واپس نہیں لے لیا جاتا ہم اسمبلی کے اندر اور باہر قوم پرستوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔