عالی جی سوہنی دھرتی اداس ہے
جمیل الدین عالی پاکستان رائٹرز گلڈ کے اعلیٰ عہدوں پر رہنے کے علاوہ انجمن ترقی اردو سے ایک طویل عرصہ تک وابستہ رہے
ہم مصطفوی مصطفوی ہیں اور ایسے ہی بے شمار معرکۃ الارآ یادگار ملی نغموں کو قوم کبھی نہیں بھلاسکے گی ۔فوٹو: فائل
FAISALABAD:
بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، نقاد، دانشور، کالم نگار اور ادیب جمیل الدین خان عالی طویل علالت کے بعد کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے، ان کی عمر90سال تھی ۔ جمیل الدین عالی پاکستان رائٹرز گلڈ کے اعلیٰ عہدوں پر رہنے کے علاوہ انجمن ترقی اردو سے ایک طویل عرصہ تک وابستہ رہے ۔ وہ ادبی فعالیت کے حوالہ سے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتے رہے،ان کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وہ پاکستان کے معروف اخبارات میں کئی دہائیوں تک باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے،انجمن آرائی ان پر ختم تھی، بلا کے بزلہ سنج اور تخلیقی عمل میں عمیق طرز استدلال ان کا طرہ امتیاز تھا۔سوئیڈن کے عالمی شہرت یافتہ ادیب و محقق گنار مرڈال کی کتاب''ایشین ڈرامہ'' پر ان کے کالم فکرانگیزی کا شاہکار تھے، اسی طرح ایک کالم میں انھوں نے ایک معاصر شاعر کے مقالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ نسائی جمالیات پر میں نے اس سے بہتر مضمون کبھی نہیں پڑھا۔
ان کی لکھی ہوئی کتابوں میں اے میرے دشت سخن، جیوے جیوے پاکستان، لاحاصل، نئی کرن ، دعا کر چلے اور صدا کر چلے شامل ہیں جب کہ ان کے مشہور سفر ناموں میں دنیا میرے آگے، تماشا میرے آگے، شنگھائی کی عورتیں، ایشین ڈرامہ، بس ایک گوشہ، مہر ماہ وطن، اصلاحات بنکاری قابل ذکر ہیں، مرحوم کے دوہوں نے بھی زبردست شہرت حاصل کی، وہ پاکستان میں دوہوں کے خالق جانے جاتے ہیں۔عالی جی کی ایک شاہکار تخلیق ''انسان'' ہے جو 7800 مصرعوں پر مشتمل نظم ہے جس میں مذاہب عالم، نفسیات، فلسفہ، ادب ، اخلاقیات، جمالیات، سائنس، اور تاریخ جیسے اہم موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔
عمر کے آخری حصہ تک وہ ادب و تخلیق سے کنارہ کش نہیں ہوئے۔عالی ان کا تخلص تھا۔ وہ 20 جنوری1925کو دہلی میں پیدا ہوئے اور پاکستان بننے کے فوراً بعد کراچی آگئے اور یہاں سکونت اختیار کرلی، جمیل الدین عالی کا نسب علمی اور ادبی خانوادے سے تھا، ان کے والد نوابزادہ امیرالدین خان مرزا غالب کے خانوادے جب کہ والدہ سیدہ جمیلہ بیگم خواجہ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں،جمیل الدین عالی کی شادی30ستمبر 1944 میں طیبہ بانو سے ہوئی، ان کے 3 بیٹے اور 2بیٹیاں ہیں۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم اینگلو عربک اسکول دریا گنج دہلی سے 1944 تک حاصل کی، 1951میں سی ایس ایس،1961 میں یونیسکو فیلو شپ، 1976 میں ایل ایل بی، 1978میں جامعہ کراچی سے ڈپلومہ کارپوریٹ پلاننگ میں کیا، جمیل الدین عالی مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں اہم عہدوں پر بھی فائز رہے، 1988 میں نیشنل بینک سے بطور وائس پریذیڈنٹ ریٹائر ہوئے، سیاست سے بھی ان کو گہرا لگاؤ رہا، 1965 کی جنگ میں جمیل الدین عالی کے ملی نغموں نے قوم میں ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا کیا، ان کا ملی نغمہ 'جیوے جیوے پاکستان' ہر عہد میں مقبول رہا، عوام ان کے ملی نغموں وطن کی محبت سے سرشار ہوگئے۔
جیوے جیوے پاکستان، اے وطن کے سجیلے جوانو، میرا پیغام پاکستان، جو نام ہے وہی پہچان، اے دیس کی ہواؤسرحد کے پار جاؤ، ہم تابا ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں، ہم مصطفوی مصطفوی ہیں اور ایسے ہی بے شمار معرکۃ الارآ یادگار ملی نغموں کو قوم کبھی نہیں بھلاسکے گی ۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، نقاد، دانشور، کالم نگار اور ادیب جمیل الدین خان عالی طویل علالت کے بعد کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے، ان کی عمر90سال تھی ۔ جمیل الدین عالی پاکستان رائٹرز گلڈ کے اعلیٰ عہدوں پر رہنے کے علاوہ انجمن ترقی اردو سے ایک طویل عرصہ تک وابستہ رہے ۔ وہ ادبی فعالیت کے حوالہ سے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کرتے رہے،ان کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وہ پاکستان کے معروف اخبارات میں کئی دہائیوں تک باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے،انجمن آرائی ان پر ختم تھی، بلا کے بزلہ سنج اور تخلیقی عمل میں عمیق طرز استدلال ان کا طرہ امتیاز تھا۔سوئیڈن کے عالمی شہرت یافتہ ادیب و محقق گنار مرڈال کی کتاب''ایشین ڈرامہ'' پر ان کے کالم فکرانگیزی کا شاہکار تھے، اسی طرح ایک کالم میں انھوں نے ایک معاصر شاعر کے مقالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ نسائی جمالیات پر میں نے اس سے بہتر مضمون کبھی نہیں پڑھا۔
ان کی لکھی ہوئی کتابوں میں اے میرے دشت سخن، جیوے جیوے پاکستان، لاحاصل، نئی کرن ، دعا کر چلے اور صدا کر چلے شامل ہیں جب کہ ان کے مشہور سفر ناموں میں دنیا میرے آگے، تماشا میرے آگے، شنگھائی کی عورتیں، ایشین ڈرامہ، بس ایک گوشہ، مہر ماہ وطن، اصلاحات بنکاری قابل ذکر ہیں، مرحوم کے دوہوں نے بھی زبردست شہرت حاصل کی، وہ پاکستان میں دوہوں کے خالق جانے جاتے ہیں۔عالی جی کی ایک شاہکار تخلیق ''انسان'' ہے جو 7800 مصرعوں پر مشتمل نظم ہے جس میں مذاہب عالم، نفسیات، فلسفہ، ادب ، اخلاقیات، جمالیات، سائنس، اور تاریخ جیسے اہم موضوعات پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔
عمر کے آخری حصہ تک وہ ادب و تخلیق سے کنارہ کش نہیں ہوئے۔عالی ان کا تخلص تھا۔ وہ 20 جنوری1925کو دہلی میں پیدا ہوئے اور پاکستان بننے کے فوراً بعد کراچی آگئے اور یہاں سکونت اختیار کرلی، جمیل الدین عالی کا نسب علمی اور ادبی خانوادے سے تھا، ان کے والد نوابزادہ امیرالدین خان مرزا غالب کے خانوادے جب کہ والدہ سیدہ جمیلہ بیگم خواجہ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں،جمیل الدین عالی کی شادی30ستمبر 1944 میں طیبہ بانو سے ہوئی، ان کے 3 بیٹے اور 2بیٹیاں ہیں۔
انھوں نے ابتدائی تعلیم اینگلو عربک اسکول دریا گنج دہلی سے 1944 تک حاصل کی، 1951میں سی ایس ایس،1961 میں یونیسکو فیلو شپ، 1976 میں ایل ایل بی، 1978میں جامعہ کراچی سے ڈپلومہ کارپوریٹ پلاننگ میں کیا، جمیل الدین عالی مختلف سرکاری اور نجی اداروں میں اہم عہدوں پر بھی فائز رہے، 1988 میں نیشنل بینک سے بطور وائس پریذیڈنٹ ریٹائر ہوئے، سیاست سے بھی ان کو گہرا لگاؤ رہا، 1965 کی جنگ میں جمیل الدین عالی کے ملی نغموں نے قوم میں ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا کیا، ان کا ملی نغمہ 'جیوے جیوے پاکستان' ہر عہد میں مقبول رہا، عوام ان کے ملی نغموں وطن کی محبت سے سرشار ہوگئے۔
جیوے جیوے پاکستان، اے وطن کے سجیلے جوانو، میرا پیغام پاکستان، جو نام ہے وہی پہچان، اے دیس کی ہواؤسرحد کے پار جاؤ، ہم تابا ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں، ہم مصطفوی مصطفوی ہیں اور ایسے ہی بے شمار معرکۃ الارآ یادگار ملی نغموں کو قوم کبھی نہیں بھلاسکے گی ۔