بانیٔ پاکستان کا پاکستان

چند دنوں پہلے وزیراعظم کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ ملک کو ایک لبرل اور جمہوری ریاست بنانے کے خواہاں ہیں

zahedahina@gmail.com

چند دنوں پہلے وزیراعظم کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ ملک کو ایک لبرل اور جمہوری ریاست بنانے کے خواہاں ہیں، اس کے ساتھ ہی انھوں نے دہشت گردوں سے نجات حاصل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا یہ بیان پڑھ کر لوگوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا ۔ یہ لوگ جن کی زندگی عرصۂ دراز سے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے، انھوں نے یہ دیکھا ہے کہ نفرت، تعصب اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والوں کے باہم دست و گریباں ہونے کے سبب ان کی پُر سکون زندگی تہس نہس ہوگئی ہے۔

ان کے بچے کسی نہ کسی بہانے موت کا نوالہ بن رہے ہیں، ان میں سے بہت سے شدت پسند گروہوں سے وابستہ ہورہے ہیں۔ اسی کے بعد انھیں احساس ہوا کہ وہ دین کے نام پر کس طرح یر غمال ہوچکے ہیں، یہ لوگ جو ملک کی بھاری اکثریت ہیں وہ خوف سے آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ اکثریت ہے جو روکھی سوکھی کھا کر اور موٹا جھوٹا پہن کر اپنی اگلی نسلوں کے لیے ایک بہتر پاکستان کے خواب دیکھتی ہے۔

وزیراعظم کے اس بیان نے اس چھوٹے سے گروہ کو شدید اضطراب میں گرفتار کردیا ہے جواب سے ستر پچھتر برس پہلے آلۂ صوت المکبر ( لاؤڈ اسپیکر) کو شیطانی آلہ کہہ کر اس کے خلاف فتوے دیتا تھا۔ اور اب وہی نفرت اور تعصبات پھیلانے کے لیے اس شیطانی آلے کا سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے۔ لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر غلط خبروں پر گھروں کو اور کاروبار کو آگ لگوانے کا فریضہ اسی 'شیطانی آلے 'کے ذریعے انجام دیتا ہے۔

یہ چھوٹا سا گروہ اپنی دکانداری کو خطرے میں دیکھ کر متحد ہوگیا ہے اور اس نے یہ بیانات دینے شروع کردیے ہیں کہ ''ہم پاکستان کو سیکولر اور لبرل ریاست بننے نہیں دیں گے'۔ 23نومبر کو روزنامہ ایکسپریس میں ایک مذہبی اور سیاسی رہنما کا یہ بیان چھپا کہ ' وزیراعظم کو لبرل ازم اور سکیولر ازم پسند ہے تو وہ بھارت چلے جائیں''۔ ان کا کہنا تھا کہ '' قائد اعظم نے متعدد بار اسلامی ریاست کا وعدہ کیا تھا وزیراعظم بتائیں کہ قائداعظم سچے تھے یا وہ سچے ہیں''۔

انھوں نے او ر بھی بہت کچھ کہا لیکن حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جو لوگ سچ اور صرف سچ بولنے کے دعویدار ہیں انھوں نے وزیراعظم کے اس بیان میں 'سکیولر' کا لفظ کیسے اور کہاں سے ٹانک دیا؟

آج نواز شریف پر تنقید کرنے والے وہ ہیں جو تقسیم سے پہلے ' قائداعظم ' کو ' کافر اعظم' کہا کرتے تھے اور پاکستان کے قیام کے مخالف تھے ، وہ قیام پاکستان کے فوراً بعد پاکستان آگئے ۔ انھوں نے ملک کا قبلہ درست کرنے کے لیے جو کام کیے ، اس کے نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس حلقے کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ جناح صاحب نے متعد دبار مذہبی ریاست کا وعدہ کیا تھا جب کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ، جناح صاحب مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کی بات کرتے تھے تاکہ ان کے معاشی اور سیاسی حقوق کی حفاظت ہوسکے۔

'اسلامی ریاست' کے حوالے سے ان کے اور راجہ صاحب محمود آباد کے درمیان ہونے والی تلخی شاید لوگ بھول چکے ہیں۔ یہ وہی بحث تھی جس کے بعد ان کے اور راجہ صاحب کے درمیان اتنی دوری ہوئی کہ جب کراچی میں آزادی کا جشن منایا جارہا تھا تو راجہ صاحب پاکستان کی کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں شرکت کے بجائے ایران کا رخ کررہے تھے۔

جناح صاحب نے اپنی مختلف تقریروں میں یہ بات کھل کر کہی کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی اور وہاں پارلیمانی طرز حکومت اختیار کیا جائے گا۔ یہ بات انھوں نے بہ طور خاص اس لیے بھی کہی کہ مختلف حلقے انھیں ' امیر المومنین' بنانے پر تلے ہوئے تھے اور چند ایسے تھے جن کا کہنا تھا کہ جمعہ کے خطبے میں ان کا نام بہ طور امیر المومنین لیا جائے۔ جناح صاحب جن کی ساری زندگی پارلیمانی جمہوریت پر ایمان رکھتے اور جدید طرز زندگی گزارتے ہوئے کٹی تھی، وہ پاکستان کو ' اسلامی ریاست' بنانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ جو گندر ناتھ ، منڈل اور سرظفر اللہ کی کابینہ میں شمولیت ان کے اسی رجحان کے غمازی کرتی ہے۔


پاکستان بننے سے پہلے کی، ان کی تقریریں ان کے خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔ قائد اعظم نے اپنی تقریروں میں اس کی وضاحت کردی تھی کہ پاکستان میں نہ تو شخصی حکومت ہوگی اور نہ تھیوکریٹک بلکہ جمہوری اور پارلیمانی حکومت ہو گی۔ چنانچہ 15 جنوری 1945 کو احمد آباد مسلم اسٹوڈنٹس یونین کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا :

'' ہندو اور مسلمان ' اکبر ' اور نگزیب یا چندر گپت کے انداز کی حکومت نہیں بنانا چاہتے خواہ وہ حکومتیں کتنی ہی اچھی رہی ہوں۔ ہم تو ایک عوامی نمایندہ حکومت بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ پاکستان یا ہندوستان کی حکومت ایک فرد کی شخصی حکومت نہیں ہوسکتی ۔ اس کی اساس تو فقط ایک جمہوری اور عوام کی نمایندہ حکومت ہی ہوسکتی ہے''۔ قائد اعظم تھیوکریٹک ریاست کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ 11 اپریل 1946 کو مسلم لیگ کنونشن دہلی میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا:

'' ہم کس چیز کے لیے لڑرہے ہیں۔ ہمارا مقصد کیا ہے، وہ تھیو کریسی نہیں ہے اور نہ ہی تھیو کریٹک اسٹیٹ ہے۔ مذہب کے وجود سے کون انکار کرسکتا ہے اور مذہب ہمیں بھی عزیز ہے۔ چنانچہ جب ہم مذہب کی بات کرتے ہیں تو دنیاوی چیزوں کو کوئی وقعت نہیں دیتے۔ لیکن اور چیزیں بھی ہیں جو زندگی کے لیے ازبس ضروری ہیں مثلاً ہماری معاشرتی زندگی، ہماری معاشی زندگی اور بغیر سیاسی اقتدار کے آپ اپنے عقیدے یا معاشی زندگی کی حفاظت کیسے کرسکیں گے''۔

یہ بات قائد اعظم اس سے پہلے بھی کہہ چکے تھے، مثلاً مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے 2نومبر 41 کو کہا کہ :

'' ان کو بتادو( ہندوؤں اور سکھوں کو) کہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ پاکستان کوئی مذہبی ریاست ہوگی ، جس میں ان کو کوئی اختیار نہ ہوگا ۔ ہندو اور سکھ ہمارے بھائیوں کی طرح ہیں اور وہ ریاست کے شہری بن کر رہیں گے''۔

جب پاکستان کی تحریک نے زور پکڑا اور پاکستان کی تشکیل کے امکانات روشن ہونے لگے تو لوگوں نے قائداعظم سے اس نئی ریاست کے آئینی نظام کے بارے میں سوالات پوچھنے شروع کیے مگر قائد اعظم کا جواب عام طور پر یہی ہوتا تھا کہ پاکستان کا آئین ، پاکستان کی آئین ساز اسمبلی بنائے گی۔ پھر بھی انھوں نے کبھی اپنے سیاسی عقائد پر مصلحت کی بنا پر پر وہ نہیں ڈالا بلکہ اعلانیہ کہا کہ میں پاکستان میں ایک جمہوری اور عوام کے چنے ہوئے نمایندوں کی حکومت چاہتا ہوں۔

قائداعظم نے مذہب کو کبھی بھی سیاسی تحریک کا حصہ بنانا پسند نہیں کیا۔ وہ آئینی جدوجہد میں یقین رکھتے تھے اور انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ہمیشہ آئینی دائرے تک محدود رکھا۔ مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے زبردست حامی ہونے کے باوجود انھوں نے تحریک خلافت کی حمایت نہیں کی۔ حتیٰ کہ خلافت کمیٹی کے پروگرام کو ایک مذہبی جنون قرار دیتے ہوئے کہا کہ '' سیاست میں جذباتی فضولیات اور جذبات کو کوئی دخل نہیں ہوتا''۔

درج بالا سطریں احمد سلیم کی کتاب ' پاکستان اور اقلیتیں ' سے لی گئی ہیں۔ اس بار ے میں سید سبط حسن کی کتاب ' نوید فکر' کے دو طویل مضامین 'تھیوکریسی' اور سکیولر ازم ' نہایت اہم ہیں لیکن یہ ممکن نہیں کہ اس مختصر کالم میں اس کے حوالے پیش کیے جائیں۔ آج وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ انتہاپسند قوتیں ہی پاکستان کو بچائیں گی ، وہ حالیہ پندرہ برسوں کے ان واقعات پر دبیز پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جنہوں نے اس ملک کو خون میں نہلا دیا۔

آج کون نہیں جانتا کہ ' مذہب' کے نام پر اس ملک کو کتنا شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ ملک انسانوں کے حقوق کی حفاظت اور انھیں ایک معیاری طرز زندگی گزارنے کے لیے قائم ہوا تھا لیکن اگست 1947 سے ہی اس پر جس طرح ایک چھوٹی اقلیت نے نرغہ کیا اس کا بانی پاکستان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مسلک کی بنیاد پر لوگوں کا بے محابہ قتل، بچوں کوقتل کرنا اور فوجیوں کو ذبح کرنا مذہب کی توہین کے مترادف ہے۔ پاکستان کے لوگ ایک جمہوری اور لبرل پاکستان کے حامی ہیں۔ یہی وہ پاکستان تھا جس کا خواب بانیٔ پاکستان نے دیکھا تھا۔ یہی عوام کا خواب بھی ہے۔
Load Next Story