بلدیاتی الیکشن اور خواتین کے ووٹ
اخباری اطلاع کے مطابق اس وارڈ میں 296 رجسٹرڈ ووٹ ہیں لیکن ایک بھی خاتون کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔
ضروری ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کے الیکشن میں خواتین کے ووٹ کاسٹ کرانے کو یقینی بنایا جائے۔ فوٹو : فائل
پاکستان میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں یا بلدیاتی الیکشن کئی علاقوں میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔ عموماً فاٹا اور خیبرپختونخوا سے ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں لیکن حالیہ بلدیاتی الیکشن میں پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کی ایک یونین کونسل کی ایک وارڈ میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیے گئے۔
اخباری اطلاع کے مطابق اس وارڈ میں 296 رجسٹرڈ ووٹ ہیں لیکن ایک بھی خاتون کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے اور عدالت عالیہ نے چیف الیکشن کمشنر سے وضاحت طلب کر لی ہے اور یہاں سے کامیاب ہونے والوں کا نوٹیفکیشن روک لیا ہے۔
بظاہر یہ ایک وارڈ کا معاملہ ہے لیکن اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ننکانہ صاحب کوئی پسماندہ علاقہ نہیں ہے بلکہ کاروباری اور زرعی دونوں اعتبار سے متمول ضلع ہے۔ یہ لاہور سے ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ ننکانہ شہر کی بابا گرونانک کی جائے پیدائش کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت ہے، ایسے ضلع میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا عمل قابل مذمت ہے' الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔
بہر حال الیکشن کمیشن' حکومت اور سیاسی جماعتوں کے امید واروں کو چاہیے کہ وہ الیکشن کے دوران خواتین کے ووٹ کاسٹ کرانے کے کلچر کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ملک میں جمہوریت کی کامیابی اور ملکی ترقی کے لیے خواتین کا ہرمیدان میں آگے بڑھنا ضروری ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کے الیکشن میں خواتین کے ووٹ کاسٹ کرانے کو یقینی بنایا جائے۔
اخباری اطلاع کے مطابق اس وارڈ میں 296 رجسٹرڈ ووٹ ہیں لیکن ایک بھی خاتون کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے اور عدالت عالیہ نے چیف الیکشن کمشنر سے وضاحت طلب کر لی ہے اور یہاں سے کامیاب ہونے والوں کا نوٹیفکیشن روک لیا ہے۔
بظاہر یہ ایک وارڈ کا معاملہ ہے لیکن اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ننکانہ صاحب کوئی پسماندہ علاقہ نہیں ہے بلکہ کاروباری اور زرعی دونوں اعتبار سے متمول ضلع ہے۔ یہ لاہور سے ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے۔ ننکانہ شہر کی بابا گرونانک کی جائے پیدائش کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت ہے، ایسے ضلع میں خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا عمل قابل مذمت ہے' الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔
بہر حال الیکشن کمیشن' حکومت اور سیاسی جماعتوں کے امید واروں کو چاہیے کہ وہ الیکشن کے دوران خواتین کے ووٹ کاسٹ کرانے کے کلچر کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ملک میں جمہوریت کی کامیابی اور ملکی ترقی کے لیے خواتین کا ہرمیدان میں آگے بڑھنا ضروری ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کے الیکشن میں خواتین کے ووٹ کاسٹ کرانے کو یقینی بنایا جائے۔