نیا ناپرسان پرانا ناپرسان
ایک ’’چشم دید‘‘ آنکھیں کم زور ہونے کی وجہ سے چونکہ وہ آنکھوں کے بجائے عینک سے دیکھتا ہے،
barq@email.com
ABBOTABAD:
کئی مہینوں بلکہ سالوں بلکہ صدیوں سے سن رہے تھے کہ مملکت اللہ داد ناپرسان میں ''کچھ'' ہو رہا ہے۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے تھے کہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ بلکہ بہت بہت کچھ کچھ ہو رہا ہے۔
ایک ''چشم دید'' آنکھیں کم زور ہونے کی وجہ سے چونکہ وہ آنکھوں کے بجائے عینک سے دیکھتا ہے، اس لیے تکنیکی طور پر چشم دید نہیں بلکہ ''چشمہ دید گواہ'' بن سکتا ہے تو اس ''چشمہ دید'' گواہ نے تو مملکت اللہ داد ناپرسان کی تاج دھانی، انعام آباد، اکرام آباد میں بہت سارے کنٹینروں کو شہر پر حملہ آور دیکھا تھا کیونکہ وہاں اب ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کی جنگیں متروک ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ کنٹینروں اور لاؤڈ اسپیکروں سے جنگی معرکے سر کیے جاتے ہیں۔
بموں کی جگہ افواہیں اور گولیوں کی جگہ بیانات استعمال کیے جاتے ہیں، تو اس چشمہ دید نے بچشمہ خود اکرام آباد انعام آباد میں کچھ کچھ ہوتے دیکھا جس میں کچھ اور ملا کر اس نے یہاں کچھ کا کچھ کر دیا تھا، ایسے میں ضروری ہو گیا تھا کہ چینل ہیاں سے ہواں اصلی صورت حال کا پتہ لگا کر اپنے دیکھنے پڑھنے سننے والوں کو اشتہارات میں لپیٹ لپیٹ کر پہنچائے، چینل کے پڑھنے سننے اور دیکھنے والوں نے صاف انکار کر دیا تھاکہ خالص اشتہارات دیکھ کر ان کے دماغوں میں فوڈ پوائزنگ ہونے لگا ہے کم از کم نمک برابر ہی سہی کچھ اور بھی تو ان میں ملانا چاہیے۔
مملکت اللہ داد ناپرسان کے بارے میں کچھ کچھ کا سن کر چینل نے فوراً اپنے خصوصی نمایندے ''بک بک بکول'' کو وہاں بھیجا تاکہ انعام آباد اکرام آباد کی صحیح صورت حال معلوم کر کے آئے، یاد رہے کہ بک بک بکول کو کثافت میں روبل پرائز ملا ہوا ہے کیوں کہ کئی سال سے کئی ماہرین لگے ہوئے ہیں لیکن بک بک بکول کی رپورٹنگ میں ''سچ'' کا شمہ بھر سراغ بھی لگا نہیں پائے ہیں چنانچہ خالص رپورٹنگ کی بناء پر اسے ''رپورٹر اعظم'' اور گوسپ کبیر کے خطابات بھی ملے ہوئے ہیں۔
جناب بک بک بکول نے جو رپورٹ دی ہے وہ اتنی حیران کن پریشان کن بے دم کن اور بے حس کن ہے کہ ہم اسے بریکنگ یا ان بریکنگ نیوز کے بجائے اپنے خصوصی ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ''کے ذریعے پیش کر رہے ہیں، دل و جگر تھام لیجیے اور اگر ہو سکے تو بیٹھ یا لیٹ جایئے، پروگرام میں بک بک بکول کے ساتھ ہمارے مشہور و معروف طوطے بھی اپنی چونچوں سمیت حصہ لے رہے ہیں۔
اینکر : ہاں تو جناب بک بک بکول صاحب ارشادیے کہ مملکت اللہ داد ناپرسان میں کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا؟
بک بک : وہ ایسا ہوا کہ جب مملکت اللہ داد ناپرسان وجود میں آیا تو اس کا جو معمار اعظم تھا وہ نہیں رہا، چنانچہ مزدوروں نے اس پر ہلہ بول دیا اور جہاں جو کچھ ہاتھ لگا اکھاڑ کر نکال کر اور اڑا کر لے جانے لگے، عمارت کو یوں کھنڈر میں بدلتے دیکھ کر چور اچکوں نے بھی اس میں اڈے بنائے، چوہے سانپ بچھو چھپکلیاں اور نہ جانے کس کس بلا نے اس میں بسیرا کر لیا۔
علامہ : خانہ خالی را دیو می گیرد
چشم : جیسا کہ آپ نے مسجد کو قبضہ کیا ہوا ہے۔
علامہ : دیکھو کان من الکافرین ۔۔۔ باز آجاؤ ورنہ عصا مار کر دوسری آنکھ بھی پھوڑ دوں گا
اینکر : دیکھو تم ذرا اپنی یہ سچ بیانیاں روک کر رکھو، جناب بک بک بکوال کو بولنے دیجیے۔
چشم : نام کے لحاظ سے تو ''بولنے'' کے بجائے کچھ اور بنتا ہے۔
بک بک : درمیان میں کچھ معمار بن کر بھی آئے جیسے مجاہد اعظم، قائد عوام، قائد اسلام وغیرہ ۔۔۔ لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
علامہ : مریض عشق پر رحمت خدا کی۔
بک بک : لیکن اس مریض پر خدا کی رحمت نہیں ہوئی البتہ خدا کا قہر مختلف حکم رانوں کی صورت میں نازل ہوتا رہا۔
اینکر : پھر کیا ہوا؟
چشم : پھر جھمکا گرا کراچی کے بازار میں
علامہ : میں نے تو بریلی سنا ہے۔
چشم : آپ کے وقتوں جھمکے بریلی میں گرتے تھے لیکن آج کل کراچی میں گرتے ہیں۔
اینکر : جھمکوں کی ایسی کی تیسی اور آپ کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ گدھے کہنے کو جی چاہتا ہے۔
بک بک : پھر اچانک بالکل ہی اچانک ناگہاں اور ناگماں ایک صاحب بنام کپتان خان پیدا ہوا کہ میں اس پرانے گلے سڑے ٹوٹے پھوٹے اور شکستہ ناپرسان کی جگہ نیا ناپرسان بناؤں گا۔
علامہ : حالانکہ نیا نو دن اور پرانا سو دن۔
چشم : اپنے ''پرانے پن'' کے لیے اچھی دلیل ڈھونڈی ہے حالانکہ ڈیٹ ایکسپائر ہو چکے ہو۔
اینکر : تم دونوں چونچیں مت لڑاؤ ہاں تو جناب بک بک بکول صاحب۔۔۔۔
بک بک : پرانے ناپرسان کے کیڑوں، بچھوؤں، سانپوں اور دوسری بلاؤں سے تنگ آئے ہوئے عوام نے تالیاں بجا بجا کر داد دی۔
اینکر : اچھا پھر ؟
بک بک : پھر بڑے کنٹینروں کے قافلے نمودار ہوئے، لوگ سمجھے کہ نئے ناپرسان کا میٹریل آگیا ہے لیکن جب کنٹینر کھولے گئے تو اس کے اندر سے ایک طرح دار گل و گلزار دامن صد بہار حسینہ برآمد ہوئی۔
چشم : صرف حسینہ تھی یا نازنینہ مہ جبینہ بھی تھی۔
بک بک : سب کچھ تھی بلکہ چندے آفتاب شیر پاؤ اور چندے مہتاب عباسی بھی تھی۔
علامہ : ارے ایک آنے والے دجال، تم بیچ میں اپنی یہ پھوٹی آنکھ مت گھساؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
چشم : وہ تو اب بھی نہیں ہے۔
اینکر : تم لڑو مت سنو۔
علامہ : سنا ۔۔۔ کہتے ہیں لڑو ۔۔۔ اور مت سنو۔
علامہ : ارے احمق ان کا مطلب ہے لڑو مت ۔۔۔ سنو ۔
اینکر : تم چپ ہوتے ہو یا آپ بتائیں بک بک بکول صاحب پھر کیا ہوا اور ہاں اس حسینہ کا نام تو آپ نے بتایا نہیں۔
بک بک : اس حسینہ کا نام تبدیلی تھا جو ایک جھلک دکھا کر پھر کنٹینر میں گھس گئی اور تاحال برآمد نہیں ہوئی، لوگ انتظار میں ہیں اعلان بھی ہو رہے ہیں کہ تبدیلی آرہی ہے تبدیلی آرہی ہے لیکن
اینکر : لیکن کیا؟
بک بک : تبدیلی دوسرے دروازے سے نکل کر نہ جانے کہاں غائب غلہ ہو گئی۔
اینکر : اور وہ نیا ناپرسان ۔۔۔۔
بک بک : اس کے ساتھ تو اور بھی برا ہوا جب کپتان اعظم جو خود کو معمار اعظم بھی بتاتا، نیا ناپرسان بنانے لگا تو میٹریل اس کے پاس نہیں تھا چنانچہ پرانے ناپرسان کا ملبہ اکٹھا کر کے جوڑنے لگا لیکن ملبے کے ساتھ سارے سانپ بچھو چھپکلیاں بھی آگئیں اور نیا ناپرسان تعمیر ہونے سے پہلے ہی پرانا ناپرسان ہو گیا۔
اینکر : تو کچھ بھی نہیں ہوا ۔
بک بک : ہوا صرف ایک کونے میں ایک کمرہ نیا بن گیا جس میں کپتان صاحب استراحت فرماتے ہیں۔
کئی مہینوں بلکہ سالوں بلکہ صدیوں سے سن رہے تھے کہ مملکت اللہ داد ناپرسان میں ''کچھ'' ہو رہا ہے۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے تھے کہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ بلکہ بہت بہت کچھ کچھ ہو رہا ہے۔
ایک ''چشم دید'' آنکھیں کم زور ہونے کی وجہ سے چونکہ وہ آنکھوں کے بجائے عینک سے دیکھتا ہے، اس لیے تکنیکی طور پر چشم دید نہیں بلکہ ''چشمہ دید گواہ'' بن سکتا ہے تو اس ''چشمہ دید'' گواہ نے تو مملکت اللہ داد ناپرسان کی تاج دھانی، انعام آباد، اکرام آباد میں بہت سارے کنٹینروں کو شہر پر حملہ آور دیکھا تھا کیونکہ وہاں اب ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کی جنگیں متروک ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ کنٹینروں اور لاؤڈ اسپیکروں سے جنگی معرکے سر کیے جاتے ہیں۔
بموں کی جگہ افواہیں اور گولیوں کی جگہ بیانات استعمال کیے جاتے ہیں، تو اس چشمہ دید نے بچشمہ خود اکرام آباد انعام آباد میں کچھ کچھ ہوتے دیکھا جس میں کچھ اور ملا کر اس نے یہاں کچھ کا کچھ کر دیا تھا، ایسے میں ضروری ہو گیا تھا کہ چینل ہیاں سے ہواں اصلی صورت حال کا پتہ لگا کر اپنے دیکھنے پڑھنے سننے والوں کو اشتہارات میں لپیٹ لپیٹ کر پہنچائے، چینل کے پڑھنے سننے اور دیکھنے والوں نے صاف انکار کر دیا تھاکہ خالص اشتہارات دیکھ کر ان کے دماغوں میں فوڈ پوائزنگ ہونے لگا ہے کم از کم نمک برابر ہی سہی کچھ اور بھی تو ان میں ملانا چاہیے۔
مملکت اللہ داد ناپرسان کے بارے میں کچھ کچھ کا سن کر چینل نے فوراً اپنے خصوصی نمایندے ''بک بک بکول'' کو وہاں بھیجا تاکہ انعام آباد اکرام آباد کی صحیح صورت حال معلوم کر کے آئے، یاد رہے کہ بک بک بکول کو کثافت میں روبل پرائز ملا ہوا ہے کیوں کہ کئی سال سے کئی ماہرین لگے ہوئے ہیں لیکن بک بک بکول کی رپورٹنگ میں ''سچ'' کا شمہ بھر سراغ بھی لگا نہیں پائے ہیں چنانچہ خالص رپورٹنگ کی بناء پر اسے ''رپورٹر اعظم'' اور گوسپ کبیر کے خطابات بھی ملے ہوئے ہیں۔
جناب بک بک بکول نے جو رپورٹ دی ہے وہ اتنی حیران کن پریشان کن بے دم کن اور بے حس کن ہے کہ ہم اسے بریکنگ یا ان بریکنگ نیوز کے بجائے اپنے خصوصی ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ''کے ذریعے پیش کر رہے ہیں، دل و جگر تھام لیجیے اور اگر ہو سکے تو بیٹھ یا لیٹ جایئے، پروگرام میں بک بک بکول کے ساتھ ہمارے مشہور و معروف طوطے بھی اپنی چونچوں سمیت حصہ لے رہے ہیں۔
اینکر : ہاں تو جناب بک بک بکول صاحب ارشادیے کہ مملکت اللہ داد ناپرسان میں کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا؟
بک بک : وہ ایسا ہوا کہ جب مملکت اللہ داد ناپرسان وجود میں آیا تو اس کا جو معمار اعظم تھا وہ نہیں رہا، چنانچہ مزدوروں نے اس پر ہلہ بول دیا اور جہاں جو کچھ ہاتھ لگا اکھاڑ کر نکال کر اور اڑا کر لے جانے لگے، عمارت کو یوں کھنڈر میں بدلتے دیکھ کر چور اچکوں نے بھی اس میں اڈے بنائے، چوہے سانپ بچھو چھپکلیاں اور نہ جانے کس کس بلا نے اس میں بسیرا کر لیا۔
علامہ : خانہ خالی را دیو می گیرد
چشم : جیسا کہ آپ نے مسجد کو قبضہ کیا ہوا ہے۔
علامہ : دیکھو کان من الکافرین ۔۔۔ باز آجاؤ ورنہ عصا مار کر دوسری آنکھ بھی پھوڑ دوں گا
اینکر : دیکھو تم ذرا اپنی یہ سچ بیانیاں روک کر رکھو، جناب بک بک بکوال کو بولنے دیجیے۔
چشم : نام کے لحاظ سے تو ''بولنے'' کے بجائے کچھ اور بنتا ہے۔
بک بک : درمیان میں کچھ معمار بن کر بھی آئے جیسے مجاہد اعظم، قائد عوام، قائد اسلام وغیرہ ۔۔۔ لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
علامہ : مریض عشق پر رحمت خدا کی۔
بک بک : لیکن اس مریض پر خدا کی رحمت نہیں ہوئی البتہ خدا کا قہر مختلف حکم رانوں کی صورت میں نازل ہوتا رہا۔
اینکر : پھر کیا ہوا؟
چشم : پھر جھمکا گرا کراچی کے بازار میں
علامہ : میں نے تو بریلی سنا ہے۔
چشم : آپ کے وقتوں جھمکے بریلی میں گرتے تھے لیکن آج کل کراچی میں گرتے ہیں۔
اینکر : جھمکوں کی ایسی کی تیسی اور آپ کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ گدھے کہنے کو جی چاہتا ہے۔
بک بک : پھر اچانک بالکل ہی اچانک ناگہاں اور ناگماں ایک صاحب بنام کپتان خان پیدا ہوا کہ میں اس پرانے گلے سڑے ٹوٹے پھوٹے اور شکستہ ناپرسان کی جگہ نیا ناپرسان بناؤں گا۔
علامہ : حالانکہ نیا نو دن اور پرانا سو دن۔
چشم : اپنے ''پرانے پن'' کے لیے اچھی دلیل ڈھونڈی ہے حالانکہ ڈیٹ ایکسپائر ہو چکے ہو۔
اینکر : تم دونوں چونچیں مت لڑاؤ ہاں تو جناب بک بک بکول صاحب۔۔۔۔
بک بک : پرانے ناپرسان کے کیڑوں، بچھوؤں، سانپوں اور دوسری بلاؤں سے تنگ آئے ہوئے عوام نے تالیاں بجا بجا کر داد دی۔
اینکر : اچھا پھر ؟
بک بک : پھر بڑے کنٹینروں کے قافلے نمودار ہوئے، لوگ سمجھے کہ نئے ناپرسان کا میٹریل آگیا ہے لیکن جب کنٹینر کھولے گئے تو اس کے اندر سے ایک طرح دار گل و گلزار دامن صد بہار حسینہ برآمد ہوئی۔
چشم : صرف حسینہ تھی یا نازنینہ مہ جبینہ بھی تھی۔
بک بک : سب کچھ تھی بلکہ چندے آفتاب شیر پاؤ اور چندے مہتاب عباسی بھی تھی۔
علامہ : ارے ایک آنے والے دجال، تم بیچ میں اپنی یہ پھوٹی آنکھ مت گھساؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
چشم : وہ تو اب بھی نہیں ہے۔
اینکر : تم لڑو مت سنو۔
علامہ : سنا ۔۔۔ کہتے ہیں لڑو ۔۔۔ اور مت سنو۔
علامہ : ارے احمق ان کا مطلب ہے لڑو مت ۔۔۔ سنو ۔
اینکر : تم چپ ہوتے ہو یا آپ بتائیں بک بک بکول صاحب پھر کیا ہوا اور ہاں اس حسینہ کا نام تو آپ نے بتایا نہیں۔
بک بک : اس حسینہ کا نام تبدیلی تھا جو ایک جھلک دکھا کر پھر کنٹینر میں گھس گئی اور تاحال برآمد نہیں ہوئی، لوگ انتظار میں ہیں اعلان بھی ہو رہے ہیں کہ تبدیلی آرہی ہے تبدیلی آرہی ہے لیکن
اینکر : لیکن کیا؟
بک بک : تبدیلی دوسرے دروازے سے نکل کر نہ جانے کہاں غائب غلہ ہو گئی۔
اینکر : اور وہ نیا ناپرسان ۔۔۔۔
بک بک : اس کے ساتھ تو اور بھی برا ہوا جب کپتان اعظم جو خود کو معمار اعظم بھی بتاتا، نیا ناپرسان بنانے لگا تو میٹریل اس کے پاس نہیں تھا چنانچہ پرانے ناپرسان کا ملبہ اکٹھا کر کے جوڑنے لگا لیکن ملبے کے ساتھ سارے سانپ بچھو چھپکلیاں بھی آگئیں اور نیا ناپرسان تعمیر ہونے سے پہلے ہی پرانا ناپرسان ہو گیا۔
اینکر : تو کچھ بھی نہیں ہوا ۔
بک بک : ہوا صرف ایک کونے میں ایک کمرہ نیا بن گیا جس میں کپتان صاحب استراحت فرماتے ہیں۔