پہلے ہی جیسا دوسرا مرحلہ
سندھ اور پنجاب کے مزید 26 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا
WAH CANTT:
سندھ اور پنجاب کے مزید 26 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا اور یہ دوسرا مرحلہ بھی پہلے جیسا ہی رہا اور دوسرے مرحلے کے ہنگاموں میں جانی نقصان ضرور کم ہوا اور پہلے مرحلے میں ضلع خیرپور میں 12 جانیں ضایع ہوئی تھیں، جب کہ اس بار سندھ اور پنجاب میں دو ہلاکتیں ہوئیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد پہلے کی طرح درجنوں میں رہی۔ ضلع سانگھڑ کے 12 افراد 31 اکتوبر کو جاں بحق ہونے کی وجہ سے ضلع سانگھڑ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنا پڑا۔
بدین واحد ضلع تھا جہاں دوسرے مرحلے میں ہلاکتوں کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے تھے مگر حیرت انگیز طور پر ضلع بدین میں نہ صرف پرامن انتخابات ہوئے بلکہ ضلع بدین کے انتخابی نتائج نے ملک بھر کو حیرت میں ڈال دیا۔ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد الیکشن کمیشن کو اٹھارہ روز میں اپنی خامیاں دور کرنے اور حکومتی بدانتظامی، سرکاری دھاندلی رکوانے کا موقعہ ملا تھا مگر الیکشن کمیشن کوئی موثر تبدیلی لا سکا نہ دوسرے مرحلے میں بھی شفاف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن بنا سکا۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے 19 نومبر کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کے کردار پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہمارے دور میں الیکشن کمیشن زیادہ بااختیار تھا۔ یہ نہیں معلوم کہ کیا 31 اکتوبر کے انتخابات کے مقابلے میں کہاں الیکشن کمیشن 19 نومبر کو اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکا۔
دوسرے مرحلے سے ایک روز قبل سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی اور سپریم کورٹ نے بال دوبارہ الیکشن کمیشن کے کورٹ میں بھیج دی۔ الیکشن کمیشن کی خواہش تھی کہ متنازعہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر سپریم کورٹ اسے الیکشن ملتوی کرنے یا تاریخ بڑھانے کا موقعہ دے دے گی، مگر سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی چال سمجھ لی گئی کیونکہ ملک میں بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کی سخت ہدایات پر ہی منعقد ہوئے ہیں جب کہ کوئی صوبائی انتخابات ازخود آئین کے مطابق کرانے کو تیار تھی اور نہ ہی الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چاہتا تھا۔
حالانکہ ملک میں وقت مقررہ پر بلدیاتی انتخابات کرانا بھی الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے جو الیکشن کمیشن قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرح وقت پر دس سالوں میں نہ کرا سکا اور اگر عدالت عظمیٰ سخت اسٹینڈ نہ لیتی تو ملک میں بلدیاتی انتخابات کبھی نہ ہوتے دس سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک ہی روز کرانے کے لیے بلوچستان اور کے پی کے جیسے چھوٹے صوبوں سے جو شکایات سامنے آئی تھیں وہ دور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے سندھ اور پنجاب کے بڑے صوبوں میں تین مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا جو فیصلہ کیا تھا اس پر عوامی حلقوں کو امید تھی کہ شاید اس طرح شفاف انتخابات ہو سکیں مگر 31 اکتوبر کو سندھ و پنجاب میں جس طرح بلدیاتی انتخابات ہوئے اس نے بلدیاتی انتخابات کو متنازعہ اور الیکشن کمیشن کو کمزور اور غیر موثر قرار دے دیا تھا اور 19 نومبر کے انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن نہ پرانی شکایات دور کرا سکا نہ اپنے اختیارات دکھا سکا کہ بلدیاتی الیکشن پہلے سے کچھ بہتر ہو سکتے۔
الیکشن کمیشن نے ایک روز قبل متنازعہ حلقہ بندیوں کے باعث کچھ حلقوں کے انتخابات ملتوی کیے تو سندھ حکومت اور سابق صدر زرداری کو ناگوار گزرا اور سندھ حکومت اور سابق صدر نے الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کر دیے حالانکہ الیکشن کمیشن اس بار بھی سندھ و پنجاب میں سرکاری دھاندلیاں رکوا سکا نہ اس نے پہلی شکایات پر دونوں حکومتوں سے کوئی باز پرس کی جس کی لوگ توقع کر رہے تھے اور دونوں حکومتوں نے اپنی کسی اچھی کارکردگی پر نہیں بلکہ حکومتی طاقت اور انتظامیہ دوسری بار بھی کھل کر استعمال کی اور اپنے لوگ کامیاب کرائے۔
دوسرے مرحلے میں بھی انتظامی گڑبڑ اور سرکاری دھاندلیوں کی شکایات برقرار رہیں جس پر دونوں صوبوں میں احتجاج اور الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور الیکشن کمیشن سمیت دونوں حکومتوں پر بھی الزامات لگ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ سے ملاقات میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے طنزیہ طور پر مشورہ دیا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کی وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے اختیارات استعمال کر کے دونوں صوبوں کے متنازعہ حلقوں کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے تو سب سے زیادہ تکلیف پیپلز پارٹی ہی کو ہوئی اور اس کے رہنماؤں نے بدین میں پی پی کی شکست کا الزام بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو قرار دے دیا۔
پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی حکومت کے باعث انتہائی متنازعہ حلقہ بندیاں کیں تا کہ ان حلقوں میں کامیابی حاصل کر سکے پیپلز پارٹی اس سلسلے میں کامیاب بھی رہی اور غیر متوقع طور پر تھرپارکر، شکارپور، ٹھٹھہ سمیت ایسے اضلاع میں بھی کامیاب ہو گئی جہاں وہ 2013ء کے عام انتخابات میں ناکام رہی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ایسے اضلاع میں اپنی کامیابی کو اپنی مقبولیت قرار دے دیا اور بدین میں شکست کا ذمے دار الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو ٹھہرا دیا۔فافن نے دوسرے مرحلے میں سندھ اور پنجاب میں انتخابی بے قاعدگیوں کی جو شکایات ظاہر کی ہیں۔
ان میں پنجاب کی شکایات زیادہ ہیں۔ فافن کے مطابق دوسرے مرحلے میں بھی الیکشن کمیشن بے بس نظر آیا اور ڈی آر اوز الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے برعکس کام کرتے نظر آئے اور انھوں نے الیکشن کمیشن کی بجائے صوبائی حکومتوں کے احکامات پر عمل کیا جس کے نتیجے میں اب الیکشن کمیشن نے سرکاری عملے کی جانبداری کا بھی نوٹس لیا ہے جو ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ حکومتی دھاندلیوں کا ملبہ بھی الیکشن کمیشن پر ہی گرتا ہے اور دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی ذمے دار حکومتیں خود صاف ستھری بن جاتی ہیں اور اپنی ناکامی کا الزام بھی الیکشن کمیشن پر ہی تھوپ دیتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے بھی دوسرے مرحلے میں پرانی روش برقرار رکھی اور سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے بھی اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے سرکاری وسائل اور افسروں کو حسب سابق استعمال کیا اور سرکاری ملازمین نے بھی کھل کر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور عوام کا شفاف بلدیاتی انتخابات کا خواب پورا ہونے نہیں دیا۔
سندھ اور پنجاب کے مزید 26 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا اور یہ دوسرا مرحلہ بھی پہلے جیسا ہی رہا اور دوسرے مرحلے کے ہنگاموں میں جانی نقصان ضرور کم ہوا اور پہلے مرحلے میں ضلع خیرپور میں 12 جانیں ضایع ہوئی تھیں، جب کہ اس بار سندھ اور پنجاب میں دو ہلاکتیں ہوئیں، جب کہ زخمیوں کی تعداد پہلے کی طرح درجنوں میں رہی۔ ضلع سانگھڑ کے 12 افراد 31 اکتوبر کو جاں بحق ہونے کی وجہ سے ضلع سانگھڑ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنا پڑا۔
بدین واحد ضلع تھا جہاں دوسرے مرحلے میں ہلاکتوں کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے تھے مگر حیرت انگیز طور پر ضلع بدین میں نہ صرف پرامن انتخابات ہوئے بلکہ ضلع بدین کے انتخابی نتائج نے ملک بھر کو حیرت میں ڈال دیا۔ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد الیکشن کمیشن کو اٹھارہ روز میں اپنی خامیاں دور کرنے اور حکومتی بدانتظامی، سرکاری دھاندلی رکوانے کا موقعہ ملا تھا مگر الیکشن کمیشن کوئی موثر تبدیلی لا سکا نہ دوسرے مرحلے میں بھی شفاف بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن بنا سکا۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے 19 نومبر کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کے کردار پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہمارے دور میں الیکشن کمیشن زیادہ بااختیار تھا۔ یہ نہیں معلوم کہ کیا 31 اکتوبر کے انتخابات کے مقابلے میں کہاں الیکشن کمیشن 19 نومبر کو اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکا۔
دوسرے مرحلے سے ایک روز قبل سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی اور سپریم کورٹ نے بال دوبارہ الیکشن کمیشن کے کورٹ میں بھیج دی۔ الیکشن کمیشن کی خواہش تھی کہ متنازعہ حلقہ بندیوں کی بنیاد پر سپریم کورٹ اسے الیکشن ملتوی کرنے یا تاریخ بڑھانے کا موقعہ دے دے گی، مگر سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی چال سمجھ لی گئی کیونکہ ملک میں بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کی سخت ہدایات پر ہی منعقد ہوئے ہیں جب کہ کوئی صوبائی انتخابات ازخود آئین کے مطابق کرانے کو تیار تھی اور نہ ہی الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد چاہتا تھا۔
حالانکہ ملک میں وقت مقررہ پر بلدیاتی انتخابات کرانا بھی الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے جو الیکشن کمیشن قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرح وقت پر دس سالوں میں نہ کرا سکا اور اگر عدالت عظمیٰ سخت اسٹینڈ نہ لیتی تو ملک میں بلدیاتی انتخابات کبھی نہ ہوتے دس سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک ہی روز کرانے کے لیے بلوچستان اور کے پی کے جیسے چھوٹے صوبوں سے جو شکایات سامنے آئی تھیں وہ دور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے سندھ اور پنجاب کے بڑے صوبوں میں تین مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا جو فیصلہ کیا تھا اس پر عوامی حلقوں کو امید تھی کہ شاید اس طرح شفاف انتخابات ہو سکیں مگر 31 اکتوبر کو سندھ و پنجاب میں جس طرح بلدیاتی انتخابات ہوئے اس نے بلدیاتی انتخابات کو متنازعہ اور الیکشن کمیشن کو کمزور اور غیر موثر قرار دے دیا تھا اور 19 نومبر کے انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن نہ پرانی شکایات دور کرا سکا نہ اپنے اختیارات دکھا سکا کہ بلدیاتی الیکشن پہلے سے کچھ بہتر ہو سکتے۔
الیکشن کمیشن نے ایک روز قبل متنازعہ حلقہ بندیوں کے باعث کچھ حلقوں کے انتخابات ملتوی کیے تو سندھ حکومت اور سابق صدر زرداری کو ناگوار گزرا اور سندھ حکومت اور سابق صدر نے الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کر دیے حالانکہ الیکشن کمیشن اس بار بھی سندھ و پنجاب میں سرکاری دھاندلیاں رکوا سکا نہ اس نے پہلی شکایات پر دونوں حکومتوں سے کوئی باز پرس کی جس کی لوگ توقع کر رہے تھے اور دونوں حکومتوں نے اپنی کسی اچھی کارکردگی پر نہیں بلکہ حکومتی طاقت اور انتظامیہ دوسری بار بھی کھل کر استعمال کی اور اپنے لوگ کامیاب کرائے۔
دوسرے مرحلے میں بھی انتظامی گڑبڑ اور سرکاری دھاندلیوں کی شکایات برقرار رہیں جس پر دونوں صوبوں میں احتجاج اور الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور الیکشن کمیشن سمیت دونوں حکومتوں پر بھی الزامات لگ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ سے ملاقات میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے طنزیہ طور پر مشورہ دیا کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کی وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے اختیارات استعمال کر کے دونوں صوبوں کے متنازعہ حلقوں کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے تو سب سے زیادہ تکلیف پیپلز پارٹی ہی کو ہوئی اور اس کے رہنماؤں نے بدین میں پی پی کی شکست کا الزام بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے کو قرار دے دیا۔
پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنی حکومت کے باعث انتہائی متنازعہ حلقہ بندیاں کیں تا کہ ان حلقوں میں کامیابی حاصل کر سکے پیپلز پارٹی اس سلسلے میں کامیاب بھی رہی اور غیر متوقع طور پر تھرپارکر، شکارپور، ٹھٹھہ سمیت ایسے اضلاع میں بھی کامیاب ہو گئی جہاں وہ 2013ء کے عام انتخابات میں ناکام رہی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ایسے اضلاع میں اپنی کامیابی کو اپنی مقبولیت قرار دے دیا اور بدین میں شکست کا ذمے دار الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو ٹھہرا دیا۔فافن نے دوسرے مرحلے میں سندھ اور پنجاب میں انتخابی بے قاعدگیوں کی جو شکایات ظاہر کی ہیں۔
ان میں پنجاب کی شکایات زیادہ ہیں۔ فافن کے مطابق دوسرے مرحلے میں بھی الیکشن کمیشن بے بس نظر آیا اور ڈی آر اوز الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے برعکس کام کرتے نظر آئے اور انھوں نے الیکشن کمیشن کی بجائے صوبائی حکومتوں کے احکامات پر عمل کیا جس کے نتیجے میں اب الیکشن کمیشن نے سرکاری عملے کی جانبداری کا بھی نوٹس لیا ہے جو ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ حکومتی دھاندلیوں کا ملبہ بھی الیکشن کمیشن پر ہی گرتا ہے اور دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی ذمے دار حکومتیں خود صاف ستھری بن جاتی ہیں اور اپنی ناکامی کا الزام بھی الیکشن کمیشن پر ہی تھوپ دیتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں نے بھی دوسرے مرحلے میں پرانی روش برقرار رکھی اور سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے بھی اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے سرکاری وسائل اور افسروں کو حسب سابق استعمال کیا اور سرکاری ملازمین نے بھی کھل کر جانبداری کا مظاہرہ کیا اور عوام کا شفاف بلدیاتی انتخابات کا خواب پورا ہونے نہیں دیا۔