بابر بہ عیش کوش کہ
پاکستان میں 20 کروڑ عوام رہتے ہیں اور دنیا میں 7 ارب سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
LONDON:
پاکستان میں 20 کروڑ عوام رہتے ہیں اور دنیا میں 7 ارب سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ''زندگی کا مقصد کیا ہے؟'' تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔ کیوں کہ ان کا سارا وقت اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے ہی میں صرف ہو جاتا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا مقصد دو وقت کی روٹی کے علاوہ کچھ نہیں، اس کے برخلاف دنیا کی دو فی صد ایلیٹ سے آپ یہی سوال کریں تو وہ یہ جواب دیں گے کہ ''بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست'' یعنی بابر عیش کر کہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی، یہ فلسفہ ان لوگوں کا ہے جن کی تعداد عوام کی کل تعداد میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
نہ بابر کو عیش کی زندگی گزارنے کے لیے محنت کرنی پڑتی تھی نہ بابر کی اس معنوی اولاد کو عیش عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے کسی محنت کی ضرورت ہوتی ہے المیہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی محنت پر یہ ایلیٹ عیش و عشرت کی زندگی گزارتی ہے، اور دنیا ہی میں جنت کے مزے لیتی ہے انھیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ بھوک، بیماری، فاقہ کشی، بے کاری جیسی تمام مشکلات تمہارا امتحان ہیں اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے یعنی بھوک پیاس غربت و افلاس کی زندگی بغیر کسی شکوے شکایت کے گزار کر مر گئے تو اس کا صلہ تمہیں قیامت میں جنت کی شکل میں ملے گا، صبر و قناعت ہی جنت میں جانے کی سیڑھیاں ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ غریبوں کو یہ تھپکی وہ غریب ہی دیتے ہیں جن کی زندگی بھی جہنم بنی رہتی ہے۔
قدم قدم پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مزدور کارخانوں، ملوں میں جانوروں کی طرح سر جھکا کر کام کیے جا رہا ہے۔ کسان کھیتوں میں غلاموں کی طرح کام کررہا ہے، کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ غربت، افلاس، بھوک، بیماری نہ خدا کی دی ہوئی ہے نہ قسمت کا لکھا ہے بلکہ یہ سارے عذاب اس نظام کے پیدا کردہ ہیں جس میں ہم زندہ ہیں جسے کہیں جاگیر دارانہ نظام کہا جاتا ہے، کہیں اسے سرمایہ دارانہ نظام کا نام دیا جاتا ہے، بادشاہوں، جاگیرداروں کے دور میں عوام میں ممکنہ بغاوت کو روکنے کے لیے تقدیر اور قسمت کے فلسفے گھڑے گئے چونکہ عوام ان ادوار میں علم، سیاسی اور سماجی شعور سے محروم تھے، لہٰذا وہ ان معصوم ایجنٹوں کی باتوں پر یقین کر لیتے تھے اور ہر ظلم کو قسمت کا لکھا اور خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کر لیتے تھے۔ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں اب ابتدائی سطح کا علم بھی ہے اور تھوڑی بہت سمجھ بوجھ بھی ہے لیکن سیکڑوں سال سے عوام کے ذہنوں میں رچ بس جانے والے قسمت کے فلسفے اب بھی اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ حقائق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
ایک تھوڑی سی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور اگر نہیں پیدا ہوتا ہے تو ہونا چاہیے کہ ''دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں'' اس فراڈ نظام سے نہ تقدیر کا کوئی تعلق ہے نہ اس میں خدا کی مرضی کا کوئی دخل ہے یہ نا منصفانہ اور ظالمانہ نظام سرمایہ دارانہ نظام کی کوکھ سے پیدا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اس نظام کے دلالوں نے قانون اور انصاف کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر رکھا ہے جو اس نظام کے پیدا کردہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے وہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو کر جیل پہنچ جاتا ہے۔ ایک طرف یہ تلقین ہے کہ بھوک افلاس کا تعلق تقدیر سے ہے اور تقدیر سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ اگر کوئی ''گمراہ'' اس زنجیر کو توڑ کر لٹیری مافیا سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو اس کے سامنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور قلم لیے قانون اور انصاف کھڑا نظر آتا ہے اگر کوئی سر پھیرا جبر کے ان ہتھکنڈوں سے بھی نہیں ڈرتا تو اسے راستے سے ہی ہٹا دیا جاتا ہے، بھوکے کو روٹی کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا اگر ثواب ہے تو روٹی اور پانی پر ناجائز طور پر قابضین سے جان چھڑانا سب سے بڑا ثواب نہیں؟
خدا اپنی مخلوق کا دشمن کیسے ہو سکتا ہے وہ تو اپنے آپ کو رحمان اور رحیم کہتا ہے وہ ایک چھوٹی سی اقلیت کے ہاتھوں 90 فی صد اکثریت کو یرغمال کیسے دیکھ سکتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد کیا سر جھکا کر اس نظام اور اس کے سرپرستوں کے مسلط کردہ نظام کی مزاحمت نہ کرنا اور حق اور انصاف کے حصول کے لیے لڑنے سے اجتناب کرنا بے وقوفی اور بزدلی ہے یا بہادری؟
اس ظالمانہ طلسم کو مستحکم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ایک اور چال چلی ہے، اس چال کا نام انھوں نے جمہوریت رکھا ہے جمہوریت میں چونکہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب عوام کرتے ہیں لہٰذا عوام کے ہاتھوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے کہ وہ حکمرانوں کو اپنا دشمن کہہ سکیں کیوں کہ حکمران تو انھیں کے منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ سارے ان ملکوں کا ہے جہاں جمہوریت رائج ہے قانون انصاف جمہوریت یہ سب اس استحصالی نظام کی وہ زنجیریں ہیں جن میں عوام کو اس طرح کس کر رکھا گیا ہے کہ وہ ہل بھی نہیں سکتے۔
اس طلسم ہوشربا سے نکلنے کے لیے عوام کو سب سے پہلے تقدیر پرستی سے باہر نکلنا ہو گا۔ کیونکہ یہی وہ زنجیر ہے جو صدیوں سے غریب عوام کو جکڑے ہوئے ہے۔ اس کے بعد اس جمہوریت کے سحر سے آزاد ہونا پڑے گا جو عوام کو ووٹ دینے کا حق تو دیتی ہے لیکن انھیں اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اقتدار کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکیں گے۔ غریب عوام نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں بس یہی دو فرائض ان کے ہاتھ میں ہیں حج عمرہ کرنا قربانی کرنا بھی اس فرض عبادت کا حصہ ہیں لیکن 90 فی صد غریب عوام حج کیوں نہیں کر سکتے، عمرہ پر کیوں نہیں جا سکتے لاکھ دو لاکھ کا جانور لا کر اس کی قربانی کیوں نہیں کر سکتے، صرف خیرات زکوٰۃ کے محتاج کیوں رہتے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر اس ملک کے 20 کروڑ عوام کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ مدبرین ارض کا کہنا ہے کہ ہماری دنیا کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال ہو رہے ہیں اگر ہماری دنیا کسی کائناتی حادثے کا شکار نہ ہو تو وہ ابھی تین ارب سال تک باقی رہ سکتی ہے، اگر غربت و افلاس کے مارے ہوئے عوام انسانوں کے مسلط کردہ اس ظالمانہ نظام کو بدلنے کی کوشش نہ کریں تو وہ زمین کی عمر پوری ہونے تک اپنی نسلوں کی عمر بھوک افلاس اور جہل ہی میں گزار دیں گے۔
پاکستان میں 20 کروڑ عوام رہتے ہیں اور دنیا میں 7 ارب سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ''زندگی کا مقصد کیا ہے؟'' تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا۔ کیوں کہ ان کا سارا وقت اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے ہی میں صرف ہو جاتا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا مقصد دو وقت کی روٹی کے علاوہ کچھ نہیں، اس کے برخلاف دنیا کی دو فی صد ایلیٹ سے آپ یہی سوال کریں تو وہ یہ جواب دیں گے کہ ''بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست'' یعنی بابر عیش کر کہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی، یہ فلسفہ ان لوگوں کا ہے جن کی تعداد عوام کی کل تعداد میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
نہ بابر کو عیش کی زندگی گزارنے کے لیے محنت کرنی پڑتی تھی نہ بابر کی اس معنوی اولاد کو عیش عشرت کی زندگی گزارنے کے لیے کسی محنت کی ضرورت ہوتی ہے المیہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی محنت پر یہ ایلیٹ عیش و عشرت کی زندگی گزارتی ہے، اور دنیا ہی میں جنت کے مزے لیتی ہے انھیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ بھوک، بیماری، فاقہ کشی، بے کاری جیسی تمام مشکلات تمہارا امتحان ہیں اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے یعنی بھوک پیاس غربت و افلاس کی زندگی بغیر کسی شکوے شکایت کے گزار کر مر گئے تو اس کا صلہ تمہیں قیامت میں جنت کی شکل میں ملے گا، صبر و قناعت ہی جنت میں جانے کی سیڑھیاں ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ غریبوں کو یہ تھپکی وہ غریب ہی دیتے ہیں جن کی زندگی بھی جہنم بنی رہتی ہے۔
قدم قدم پر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ مزدور کارخانوں، ملوں میں جانوروں کی طرح سر جھکا کر کام کیے جا رہا ہے۔ کسان کھیتوں میں غلاموں کی طرح کام کررہا ہے، کسی کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ غربت، افلاس، بھوک، بیماری نہ خدا کی دی ہوئی ہے نہ قسمت کا لکھا ہے بلکہ یہ سارے عذاب اس نظام کے پیدا کردہ ہیں جس میں ہم زندہ ہیں جسے کہیں جاگیر دارانہ نظام کہا جاتا ہے، کہیں اسے سرمایہ دارانہ نظام کا نام دیا جاتا ہے، بادشاہوں، جاگیرداروں کے دور میں عوام میں ممکنہ بغاوت کو روکنے کے لیے تقدیر اور قسمت کے فلسفے گھڑے گئے چونکہ عوام ان ادوار میں علم، سیاسی اور سماجی شعور سے محروم تھے، لہٰذا وہ ان معصوم ایجنٹوں کی باتوں پر یقین کر لیتے تھے اور ہر ظلم کو قسمت کا لکھا اور خدا کی مرضی سمجھ کر قبول کر لیتے تھے۔ اگرچہ ماضی کے مقابلے میں اب ابتدائی سطح کا علم بھی ہے اور تھوڑی بہت سمجھ بوجھ بھی ہے لیکن سیکڑوں سال سے عوام کے ذہنوں میں رچ بس جانے والے قسمت کے فلسفے اب بھی اس قدر مضبوط ہیں کہ وہ حقائق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
ایک تھوڑی سی سمجھ بوجھ رکھنے والے شخص کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور اگر نہیں پیدا ہوتا ہے تو ہونا چاہیے کہ ''دکھ سہیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں'' اس فراڈ نظام سے نہ تقدیر کا کوئی تعلق ہے نہ اس میں خدا کی مرضی کا کوئی دخل ہے یہ نا منصفانہ اور ظالمانہ نظام سرمایہ دارانہ نظام کی کوکھ سے پیدا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے اس نظام کے دلالوں نے قانون اور انصاف کا ایک ایسا ڈھانچہ کھڑا کر رکھا ہے جو اس نظام کے پیدا کردہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے وہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو کر جیل پہنچ جاتا ہے۔ ایک طرف یہ تلقین ہے کہ بھوک افلاس کا تعلق تقدیر سے ہے اور تقدیر سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ اگر کوئی ''گمراہ'' اس زنجیر کو توڑ کر لٹیری مافیا سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو اس کے سامنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور قلم لیے قانون اور انصاف کھڑا نظر آتا ہے اگر کوئی سر پھیرا جبر کے ان ہتھکنڈوں سے بھی نہیں ڈرتا تو اسے راستے سے ہی ہٹا دیا جاتا ہے، بھوکے کو روٹی کھلانا اور پیاسے کو پانی پلانا اگر ثواب ہے تو روٹی اور پانی پر ناجائز طور پر قابضین سے جان چھڑانا سب سے بڑا ثواب نہیں؟
خدا اپنی مخلوق کا دشمن کیسے ہو سکتا ہے وہ تو اپنے آپ کو رحمان اور رحیم کہتا ہے وہ ایک چھوٹی سی اقلیت کے ہاتھوں 90 فی صد اکثریت کو یرغمال کیسے دیکھ سکتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد کیا سر جھکا کر اس نظام اور اس کے سرپرستوں کے مسلط کردہ نظام کی مزاحمت نہ کرنا اور حق اور انصاف کے حصول کے لیے لڑنے سے اجتناب کرنا بے وقوفی اور بزدلی ہے یا بہادری؟
اس ظالمانہ طلسم کو مستحکم کرنے کے لیے سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے ایک اور چال چلی ہے، اس چال کا نام انھوں نے جمہوریت رکھا ہے جمہوریت میں چونکہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب عوام کرتے ہیں لہٰذا عوام کے ہاتھوں سے یہ حق بھی چھین لیا گیا ہے کہ وہ حکمرانوں کو اپنا دشمن کہہ سکیں کیوں کہ حکمران تو انھیں کے منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف ہمارے ملک کا ہی نہیں بلکہ سارے ان ملکوں کا ہے جہاں جمہوریت رائج ہے قانون انصاف جمہوریت یہ سب اس استحصالی نظام کی وہ زنجیریں ہیں جن میں عوام کو اس طرح کس کر رکھا گیا ہے کہ وہ ہل بھی نہیں سکتے۔
اس طلسم ہوشربا سے نکلنے کے لیے عوام کو سب سے پہلے تقدیر پرستی سے باہر نکلنا ہو گا۔ کیونکہ یہی وہ زنجیر ہے جو صدیوں سے غریب عوام کو جکڑے ہوئے ہے۔ اس کے بعد اس جمہوریت کے سحر سے آزاد ہونا پڑے گا جو عوام کو ووٹ دینے کا حق تو دیتی ہے لیکن انھیں اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اقتدار کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکیں گے۔ غریب عوام نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں بس یہی دو فرائض ان کے ہاتھ میں ہیں حج عمرہ کرنا قربانی کرنا بھی اس فرض عبادت کا حصہ ہیں لیکن 90 فی صد غریب عوام حج کیوں نہیں کر سکتے، عمرہ پر کیوں نہیں جا سکتے لاکھ دو لاکھ کا جانور لا کر اس کی قربانی کیوں نہیں کر سکتے، صرف خیرات زکوٰۃ کے محتاج کیوں رہتے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں جن پر اس ملک کے 20 کروڑ عوام کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ مدبرین ارض کا کہنا ہے کہ ہماری دنیا کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال ہو رہے ہیں اگر ہماری دنیا کسی کائناتی حادثے کا شکار نہ ہو تو وہ ابھی تین ارب سال تک باقی رہ سکتی ہے، اگر غربت و افلاس کے مارے ہوئے عوام انسانوں کے مسلط کردہ اس ظالمانہ نظام کو بدلنے کی کوشش نہ کریں تو وہ زمین کی عمر پوری ہونے تک اپنی نسلوں کی عمر بھوک افلاس اور جہل ہی میں گزار دیں گے۔