انٹرنیشنل ہاکی کی بحالی مہم ایشین ٹیم بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی

پاکستان کو دوبارہ عالمی کھیل میں بلندی پر دیکھنا چاہتے ہیں، انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن چیف لینڈرو نیگرے

چین یا ملائیشیا سونے پاکستانی گراؤنڈ آباد کریں گے، پاکستان کو دوبارہ عالمی کھیل میں بلندی پر دیکھنا چاہتے ہیں، انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن چیف لینڈرو نیگرے۔ فوٹو: فائل

RAHIM YAR KHAN:
کرکٹ کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی مقابلوں کی بحالی کا بھی امکان روشن ہوگیا، پہلے مرحلے میں ایشیائی ٹیم ملکی سونے گراؤنڈز آباد کریگی، چین یا ملائیشیا میں سے کوئی ایک ٹیم بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی۔

صدرایف آئی ایچ لینڈرو نیگرے کا کہنا ہے کہ ہاکی کے کھیل کے فروغ میں پاکستان کا کردار اہم ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان دوبارہ عالمی ہاکی میں اپنا مقام حاصل کرے، اس ضمن میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن ہرممکن تعاون کیلیے تیار ہے۔ صدر پی ایچ ایف بریگیڈیئر(ر) خالد سجاد کھوکھر کے مطابق ایف آئی ایچ اور اے ایچ ایف کے اعلی عہدیداروں کے دورئہ پاکستان کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

ایف آئی ایچ کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ کسی بھی انٹرنیشنل ٹیم کے آنے سے قبل ایف آئی ایچ ایف کا سیکیورٹی وفد پاکستان آئے تاکہ اپنی آنکھوں سے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے سکے۔ تفصیلات کے مطابق 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بعض شدت پسندوں کے حملوں نے ملکی کھیلوں پر کاری ضرب لگائی ہے اور 6 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی بھی انٹرنیشنل ہاکی ٹیم پاکستان کے سونے گراؤنڈز آباد کرنے کیلیے تیار نہیں ، ہوم گراؤنڈز میں عالمی مقابلوں کے نہ ہونے کا براہ راست اثر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر پڑا اور پاکستان تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے بعد اولمپکس کی دوڑ سے بھی باہر ہو گیا۔


اب پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی کی بحالی کے اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں،ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں ایشیائی ٹیم ملکی سونے گراؤنڈز آباد کرے گی، چین یا ملائیشیا میں سے کوئی ایک ٹیم بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگی۔3 روز قبل اسلام آباد میں پی ایچ ایف اور آسٹریلوی وفد کے درمیان ملاقات بھی کافی سود مند ثابت ہوئی ہے اور فریقین نے ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر سیریز کھیلنے پر اتفاق کیا ہے، ایف آئی ایچ اور ایشین ہاکی فیڈریشن کے عہدیداروں کی پاکستان آمد سے بھی پاکستان میں انٹرنیشنل ہاکی پر چھائے نحوست کے سائے ختم کرنے کی امیدوں کا تقویت دی ہے۔

عالمی اور ایشیائی سطح کے اعلی عہدیداروں نے پاکستان کے سونے گراؤنڈز دوبارہ آباد کرنے کی بھر پور یقین دہانی کروائی ہے۔گزشتہ روز صدر ورلڈ ہاکی فیڈریشن لینڈرو نیگرے نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں فیئر ویدر، اے ایچ ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر طیب اکرام، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈئیر(ر) خالد سجاد کھوکھراور سیکریٹری پی ایچ ایف شہباز احمد سینئر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہاکی کے کھیل کے فروغ میں پاکستان کا کردار اہم ہے، بلاشبہ ہاکی کے میدان میں پاکستانی ٹیم صف اول میں شمار ہوتی تھی، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان دوبارہ عالمی ہاکی میں اپنا مقام حاصل کرے، اس ضمن میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن ہرممکن تعاون کیلیے تیار ہے۔

انھوں نے کہاکہ پاکستان میں صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور حالات انٹرنیشنل ہاکی کی بحالی کیلیے سازگار ہوئے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ دیگر ممالک کی ٹیموں کو پاکستان میں ہاکی کھیلنے پر آمادہ کیا جائے اور اس ضمن میں میں اپنا کردار ادا کروں گا۔ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر نے پاکستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر قرار دیدیا۔انھوں نے کہا کہ میری پاکستان کے ساتھ خاصی وابستگی اس لیے بھی ہے کہ میرے والد سابق اولمپئن کرنل دارا کے اچھے دوست تھے۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر طیب اکرام نے کہا کہ عالمی بالخصوص ایشیائی سطح پر پاکستان کے ہاکی کے کھیل کے کردار سے انکار ممکن نہیں، اے ایچ ایف ایسے اقدمات کر رہی ہے جس کی وجہ سے ایشیائی ٹیموں کو پاکستان میں لایا جا سکے۔

اس موقع پر صدر پی ایچ ایف بریگیڈیئر(ر) خالد سجاد کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سنہرے دور کے بارے میں دنیا جانتی ہے تاہم کچھ عرصہ سے ملک میں ہاکی کا کھیل زوال پذیر ہے جس پر پوری قوم کی طرح مجھے بھی تشویش ہے، ملک میں قومی کھیل کے زوال کی بڑی وجہ گراس روٹ سطح پرکھیل کا نہ ہونا ہے، کھیل سے وابستہ ٹیکنیکل آفیشلز اور امپائرز بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، آسٹریلوی وفد کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والی میٹنگ کے دور رس نتائج برآمد ہونگے اور آسٹریلوی ٹیم کے ساتھ جونیئر ٹیم کے ساتھ ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر بھی سیریز کھیلی جائے گی،انھوں نے کہا کہ ایف آئی ایچ کو یقین دلایا کہ پاکستان میں اب سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ کسی بھی انٹرنیشنل ٹیم کے آنے سے قبل ایف آئی ایچ ایف کا وفد پاکستان آئے تاکہ اپنی آنکھوں سے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے سکے۔
Load Next Story