افسوس ہے کہ میں نے سیاستدانوں پر اعتماد کیا اسد درانی
پیسے اس وقت کے حالات کے مطابق تقسیم کیے، وجہ عدالت میں بھی نہیں بتائی
اسلم بیگ نے کہا کہ کراچی میں تاجروں نے چندہ جمع کیا ہے، کل تک میں گفتگو۔ فوٹو: ثناء
سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے کہا ہے کہ میں نے پیسے تقسیم کیے اس وقت کے حالات کے مطابق جو فیصلہ کیا گیا میں نے اس کو عملی شکل دی ۔
میں کسی بھی جگہ پر ٹرائل کا سامنا کرنے کوتیار ہوں جب مجھ سے کوئی رقوم کی تقسیم کی وجہ پوچھے گا تو میں بتادوں گا ۔ پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگومیں اسددرانی نے کہاکہ میں نے عدالت سے پوچھا تھا کہ کیارقوم کی تقسیم کی وجوہ مجھے بتانی چاہئیں جس پر مجھے کوئی جواب نہیں ملا ۔ وجوہ اس لیے نہیں بتا رہا کیونکہ مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مجھے اس بات کا سخت افسوس ہے کہ میں نے سیاستدانوں پر اعتماد کیوں کیا؟ میں نے سیاستدانوں کی یقین دہانی کیوں مان لی۔
انھوں نے اس بات کوراز رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن اب یہ سب چیزیں باہر آگئی ہیں تو مجھے اپنے فیصلے پر افسوس ہورہا ہے۔ اسلم بیگ نے مجھے کہاکہ آئی ایس آئی کا پولیٹیکل سیل ہے جس کے لیے کراچی کے تاجر گروپ نے چندہ اکٹھا کیا ہے اس کی تقسیم کا فارمولہ ایوان صدر سے ملے گا اور پھر اس حوالے سے ایوان صدر،جلال حیدری ، رفیع رضا یا اسلم بیگ کی طرف سے ڈائریکشن آجاتی تھی جس کو ہم پورا کرتے تھے ۔جن لوگوں میں رقوم تقسیم ہوئیں ان کی لسٹ میرے پاس ہے لیکن وہ اپ ڈیٹ نہیں ہے اور میں یہ لسٹ عدالت میں پیش کرچکا ہوں۔ میں نے ذاتی طورپر کسی کو ایک پیسہ نہیں دیا۔
جولائی 1990 میں مجھے محسوس ہواتھا کہ صدر اٹھاون ٹوبی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کبھی ملک کی سلامتی کی بریفنگ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا جو یہ کہتے ہیں وہ غلط ہیں ۔میں نے صدر کو پیپلزپارٹی کے دور میں سیکورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا ۔جہاں تک پاک آرمی کے حلف اٹھانے کی بات ہے تو ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ قانون کا اؔحترام کرنا ہے اگر نہیں کریں گے توسزا ملے گی۔
میں کسی بھی جگہ پر ٹرائل کا سامنا کرنے کوتیار ہوں جب مجھ سے کوئی رقوم کی تقسیم کی وجہ پوچھے گا تو میں بتادوں گا ۔ پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگومیں اسددرانی نے کہاکہ میں نے عدالت سے پوچھا تھا کہ کیارقوم کی تقسیم کی وجوہ مجھے بتانی چاہئیں جس پر مجھے کوئی جواب نہیں ملا ۔ وجوہ اس لیے نہیں بتا رہا کیونکہ مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مجھے اس بات کا سخت افسوس ہے کہ میں نے سیاستدانوں پر اعتماد کیوں کیا؟ میں نے سیاستدانوں کی یقین دہانی کیوں مان لی۔
انھوں نے اس بات کوراز رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن اب یہ سب چیزیں باہر آگئی ہیں تو مجھے اپنے فیصلے پر افسوس ہورہا ہے۔ اسلم بیگ نے مجھے کہاکہ آئی ایس آئی کا پولیٹیکل سیل ہے جس کے لیے کراچی کے تاجر گروپ نے چندہ اکٹھا کیا ہے اس کی تقسیم کا فارمولہ ایوان صدر سے ملے گا اور پھر اس حوالے سے ایوان صدر،جلال حیدری ، رفیع رضا یا اسلم بیگ کی طرف سے ڈائریکشن آجاتی تھی جس کو ہم پورا کرتے تھے ۔جن لوگوں میں رقوم تقسیم ہوئیں ان کی لسٹ میرے پاس ہے لیکن وہ اپ ڈیٹ نہیں ہے اور میں یہ لسٹ عدالت میں پیش کرچکا ہوں۔ میں نے ذاتی طورپر کسی کو ایک پیسہ نہیں دیا۔
جولائی 1990 میں مجھے محسوس ہواتھا کہ صدر اٹھاون ٹوبی کا استعمال کرسکتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کبھی ملک کی سلامتی کی بریفنگ کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا جو یہ کہتے ہیں وہ غلط ہیں ۔میں نے صدر کو پیپلزپارٹی کے دور میں سیکورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا ۔جہاں تک پاک آرمی کے حلف اٹھانے کی بات ہے تو ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ قانون کا اؔحترام کرنا ہے اگر نہیں کریں گے توسزا ملے گی۔