غیرملکی میڈیانے پاکستان میں دفاتربند کرناشروع کردیے

تحریک طالبان ودیگردہشتگرد تنظیموں نے براہ دفاترپر خودکش حملوں کی دھمکیاں دی ہیں

ذرائع ابلاغ نے غیرملکی صحافیوں کوپاکستان سے پڑوسی ممالک میںمنتقل کرناشروع کردیا۔ فوٹو: فائل

ملالہ یوسف زئی پرحملے کے بعددہشت گردی کے خطرے کے پیش نظرغیرملکی ذرائع ابلاغ نے پاکستان میں اپنے دفاتربندکرناشروع کردیے ہیں۔


جبکہ ذرائع ابلاغ نے غیرملکی صحافیوں کوپاکستان سے دیگرپڑوسی ممالک میں منتقل کرناشروع کردیاہے۔ذرائع کے مطابق ملالہ یوسف زئی پرحملے میں ملوث دہشت گردوں پرملکی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ پرکی جانے والی شدید تنقید کے بعد طالبان پاکستان اور دیگردہشت گرد تنظیموں نے براہ راست ذرائع ابلاغ پر خود کش حملوں کی دھمکیاں دی ہیں جبکہ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس میں بھی ذرائع ابلاغ اور صحافیوں پرحملوں کاخدشہ ظاہرکیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے براہ راست ملنے والی دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی شہرت یافتہ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے اسلام آباد اور پاکستان کے چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز میں موجود اپنے دفاتر عارضی طور پر بند کردیے ہیں، بی بی سی سے وابستہ صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں جبکہ اس سلسلے میں بی بی سی نے اسلام آباد اور کراچی میں اپنا دفتر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، پاکستان میں موجود بی بی سی وابستہ غیرملکی صحافیوں کو عارضی طور پر پڑوسی ممالک منتقل کردیاہے اس کے علاوہ پاکستانی صحافیوں کو بھی ہرممکن احتیاط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کے علاوہ دنیا کی بڑی نیوز ایجنسیوں میں شامل رائٹرزنے بھی اپنے ساتھ منسلک صحافیوں کو حتی الامکان احتیاط کرنے کی ہدایت کی ہے اور انھیں دفاتر کا استعمال بھی کم سے کم کردیاگیاہے۔
Load Next Story