پٹرول کی قیمتوں میں خاطرخوا کمی ہونی چاہیے
اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی ہوتی ہے تو اس سے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
بہرحال حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی کمی ضروری کرے جس سے عوام کو ریلیف ملتا ہوا محسوس ہو۔ فوٹو:فائل
JERUSALEM:
اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی تجویز وزارت خزانہ کو ارسال کر دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگر اکی جانب سے وزارت خزانہ کو ارسال کردہ سمری میں پٹرول1ایک روپے42 پیسے، مٹی کا تیل79 پیسے اور لائٹ ڈیزل36پیسے فی لیٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ ہائی اوکٹین کی قیمت میں8 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے منظوری کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر سے ہو گا۔ اصولی طور پر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس تناسب سے کمی ہوتی ہے، وہ ملک میں نہیں کی جاتی۔ اس وقت بھی عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت خاصی کم ہے۔
بعض حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت اگر چاہے تو 18 روپے فی لیٹر تک پٹرول سستا کر سکتی ہے۔ بہرحال حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی کمی ضروری کرے جس سے عوام کو ریلیف ملتا ہوا محسوس ہو۔
ایک ڈیڑھ روپے فی لٹر کمی سے کوئی ریلیف نہیں ملتا۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی ہوتی ہے تو اس سے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ویسے بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر کیا جائے اور ہرسال بجٹ میں قیمت طے کردی جائے۔اس سے پورا سال ٹرانسپورٹ کے کرائے یکساں رکھے جاسکتے ہیں۔یوں معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی تجویز وزارت خزانہ کو ارسال کر دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگر اکی جانب سے وزارت خزانہ کو ارسال کردہ سمری میں پٹرول1ایک روپے42 پیسے، مٹی کا تیل79 پیسے اور لائٹ ڈیزل36پیسے فی لیٹر سستا کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ ہائی اوکٹین کی قیمت میں8 پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے منظوری کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر سے ہو گا۔ اصولی طور پر پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس تناسب سے کمی ہوتی ہے، وہ ملک میں نہیں کی جاتی۔ اس وقت بھی عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت خاصی کم ہے۔
بعض حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت اگر چاہے تو 18 روپے فی لیٹر تک پٹرول سستا کر سکتی ہے۔ بہرحال حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی کمی ضروری کرے جس سے عوام کو ریلیف ملتا ہوا محسوس ہو۔
ایک ڈیڑھ روپے فی لٹر کمی سے کوئی ریلیف نہیں ملتا۔ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی ہوتی ہے تو اس سے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ویسے بھی زیادہ بہتر یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کا تعین سالانہ بنیادوں پر کیا جائے اور ہرسال بجٹ میں قیمت طے کردی جائے۔اس سے پورا سال ٹرانسپورٹ کے کرائے یکساں رکھے جاسکتے ہیں۔یوں معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔