پاک بھارت کرکٹ پر مایوسی کے سائے

انتہاپسند ہندو جماعت شیوسینا کی مخالفت کے باعث سری لنکا میں بھی پاک بھارت کرکٹ سیریز پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے ہیں

بھارتی حکومت کو بھی انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔ فوٹو:اےایف پی/فائل

انتہاپسند ہندو جماعت شیوسینا کی مخالفت کے باعث سری لنکا میں بھی پاک بھارت کرکٹ سیریز پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، بھارتی میڈیا اور ہاکی فیڈریشن نے بھی پاک بھارت کرکٹ سیریز کی مخالفت کر دی ہے۔ پاک بھارت کرکٹ سیریز سے متعلق پگھلتی برف مودی سرکار کی منہ زور جماعت شیوسینا کو ایک آنکھ نہ بھائی اور وہ بھارتی کرکٹ بورڈ پر برس پڑی۔ شیوسینا کا ترجمان اخبار 'سامنا' پاکستان دشمنی میں ایک اور قدم آگے بڑھ گیا۔ اخبار نے اداریے میں لکھا کہ پاک بھارت سیریز سری لنکا میں کرانے کی تجویز سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے اجمل قصاب کو اس کی ٹیم کے ساتھ اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔

اخبار نے یہ زہر بھی اگلا کہ دہشت گردی کی وجہ سے پاک بھارت سیریز پاکستان میں نہیں کرائی جا رہی اور شیوسینا اسے بھارت میں ہونے نہیں دے گی۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اب تک وزارت خارجہ نے سیریز پر کوئی گرین سگنل نہیں دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارتی عوام کے جذبات پاک بھارت میچوں کے مخالف ہیں اس لیے موجودہ حالات میں پاک بھارت سیریزنہیں کھیلی جا سکتی۔ دوسری جانب بھارتی ہاکی فیڈریشن کے صدر نریندر بٹرا نے پاک بھارت سیریز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ الگ رکھنا چاہیے لیکن یہ بات پاک بھارت سیریز پر صادق نہیں آتی۔


بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی پاکستان دشمن کارروائیوں پر بھارتی حکومت کی مسلسل خاموشی سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ وہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں کھیل رہی ہے اور اس نے انھیں مکمل ڈھیل دے رکھی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں اور جس کو چاہے نقصان پہنچائیں حکومت ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے گی' اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ بھارتی حکومت کا انتظام سمجھدار اور دانشور لوگوں کے بجائے انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور اب تمام فیصلے وہی کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں حکومتیں اپنے تجارتی' معاشی اور علاقائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیاں تشکیل دیتیں اور نظام حکومت چلاتی ہیں' وہ ایسی پالیسیاں تشکیل دیتی ہیں کہ ملک میں رہنے والے تمام شہری بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب کے پرسکون زندگیاں گزارتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں لیکن بھارت میں ہونے والی انتہا پسند ہندوؤں کی کارروائیاں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ حکومتی پالیسیاں صرف تعصب اور انتہا پسندانہ نظریات کی بنیاد پر چلائی جا رہی ہیں جس کا واضح اظہار بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے پاک بھارت سیریز کی مخالفت سے ہو جاتا ہے' لہٰذا یہ کہنے میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارتی حکومت مکمل طور پر شدت پسندوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے جو اپنے عقائد اور نظریات سے متصادم ہر چیز کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں' بھارتی انتہا پسندوں کا عدم برداشت کا رویہ پوری دنیا میں ان کے لیے بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

گزشتہ دنوں چیئرمین پی سی بی شہریار خان بھارت گئے تو انتہا پسند ہندو جماعت شیوسینا کے غنڈوں نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کر دیا اور پاک بھارت کرکٹ سیریز کے لیے ہونے والی بات چیت کو روک دیا۔دوسری جانب انتہا پسند جنونی بھارتیوں نے ارجنٹائن کے ہاتھوں اپنی ہاکی ٹیم کی شکست پر مہمان ٹیم کی بس پر پتھراؤ کر دیا جس سے غیر ملکی کھلاڑی خوفزدہ ہو گئے اور انھوں نے مزید کھیلنے سے انکار کر دیا۔ بھارتی حکومت بھی پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کر گئی اور دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر میں شریک پاکستان اور بنگلہ دیش کے 99 اسٹال ہولڈروں پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے انھیں نمائش کے آخری روز گیٹ پاس دینے اور سامان اٹھانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انتہا پسند ہندوؤں نے مختلف الزامات کی آڑ میں مسلمانوں اور دیگر اقوام پر زندگی کا دائرہ تنگ کرنا شروع کر دیا ہے حتیٰ کہ مسلمان اداکاروں کے خلاف بھی محاذ کھول دیا ہے' بعض اطلاعات کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکیوں کے بعد بالی وڈ اسٹار عامر خان بھارت چھوڑ گئے ہیں۔

بھارتی پولیس بھی انتہا پسندوں سے کسی طور پر پیچھے نہیں رہی اس نے گزشتہ دنوں غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں جانے والے 55 سالہ پاکستانی شخص محمد اشرف کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا جس کی میت ہفتے کو واہگہ بارڈر پر پاک رینجرز کے حوالے کر دی گئی' اسی طرح بھارتی ریاست ہریانہ میں پولیس نے گائے لے جانے والے افراد پر فائرنگ کر دی، جس سے ایک شخص موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا، ان لوگوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک ٹرک میں گائے لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، ریاست ہریانہ میں گائے کے ذبح، فروخت اور ترسیل پر پابندی ہے۔ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ بھارت کے اندر اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر نوٹس لیں' بھارتی حکومت کو بھی انتہا پسندوں کے بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔
Load Next Story