سمجھوتوں سے امن نہیں ہوگا کراچی میں اور کتنے لوگ مریں گے سپریم کورٹ

ایساڈپٹی کمشنرچاہتے ہیںجوچیف سیکریٹری یاوزیراعلی کے سامنے غیرقانونی کام سے انکارکی جرأت کرسکے،ججزکے ریمارکس

رینجرزکوپولیس کے مکمل اختیاردیے بغیرکارروائیاں بے معنی ہیں،جسٹس خلجی،انسانی جان کوT20میچ نہ بنائیں،ایڈیشنل چیف سیکریٹری(داخلہ)پراظہاربرہمی،اسلحہ لائسنس کی تجدیدوتصدیق کاحکم۔ فوٹو: راشد اجمیری/فائل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے5رکنی لارجربینچ کے سربراہ جسٹس انورظہیرجمالی نے کہاہے کہ بھتہ خوروں نے علاقے بانٹ لیے ہیں۔

سمجھوتوں سے امن قائم نہیں ہوسکتا،ووٹ بینک مستحکم کرنے کیلیے اسلحہ لائسنس بانٹے جا رہے ہیں،کراچی میں اورکتنے لوگ مریںگے؟سیاسی پشت پناہی رکھنے والے افسران محکمے سے نہیں شخصیات اوراپنے سرپرستوں سے وفادارہوتے ہیں،ایسا ڈپٹی کمشنرچاہتے ہیں جوچیف سیکریٹری یاوزیراعلی کے سامنے غیر قانونی کام سے انکارکی جرأت رکھتا ہو،عدالتی فیصلوں پر عملدرآمدکایہ حال ہے کہ گزشتہ ساڑھے 4سال سے پھانسی کی سزائوں پرعمل نہیں ہورہا، پھانسی کی سزاپرعمل میں تاخیرکیلیے ماہانہ جرمانہ اداکیاجاتاہے۔

جسٹس امیرہانی مسلم نے کہاکہ کراچی میں قبضوںکیلیے مافیائیں برسرپیکارہیں،مافیاوںکوسب جانتے ہیں لیکن ان کیخلاف کارروائی کی ہمت نہیں کیونکہ کارروائی ہوئی تواعلیٰ افسران کی کرسیاں ہل جائیںگی،جسٹس خلجی عارف حسین نے محکمہ داخلہ اورپولیس کی جانب سے گزشتہ سال اورموجودہ سال کی ہلاکتوں کے اعدادوشمارکے موازنے کے موقع پرکہاکہ رواں سال کے دوماہ باقی ہیں اس دوران کتنے لوگ مریں گے ، رینجرز کو پولیس کے مکمل اختیار دیے بغیر اس کی کارروائیاں بے معنی ہیں کیونکہ قانونی سقم کے باعث ان کے پکڑے گئے ملزمان عدالتوں سے ایک منٹ میں چھوٹ جائیں گے جبکہ رینجرزکے مطابق انھوں نے 1600ملزمان کو گرفتارکیاہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہرجگہ نا اہل لوگ تعینات کردیے گئے ہیں،پولیس والوںکواپنی کرسی ہلنے کاخدشہ لگارہتاہے،مجرموں کے خلاف کارروائی کیسے کریں گے، قانون میں وزیروں اورایم این ایزکواسلحہ لائسنس کاکوٹہ دینے کی کوئی گنجائش نہیں۔چیف سیکریٹری سندھ راجہ عباس نے بینچ سے اتفاق کیاکہ لائسنس جاری کرنے کے معیار پر کسی کی سفارش پر بھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ،قانون کے مطابق یہ ذمے داری ہوم ڈپارٹمنٹ کی ہے ، وزیر اعلی کولامحدودلائسنس جاری کااختیار ہے لیکن ہوم ڈپارٹمنٹ تمام لائسنسوںکی جانچ کاذمے دارہے ، رکان اسمبلی کولائسنس کاکوٹہ دیناکرپشن ہے، بے حسی اس قدربڑھ گئی ہے کہ انسانی جان کی کوئی قدر نہیں رہی، شہریوں نے موت کے بدلے بخارقبول کرنے کے مصداق مرنے والوں کی تعدادکم ہو نے پر شکر ادا کرنے کا وطیرہ اپنالیا ہے۔

بینچ نے کراچی میں ہلاکتوں سے متعلق ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ)وسیم احمد کے بیان پر شدیدبرہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہاکہ انسانی جان کوٹی ٹوئنٹی میچ نہ بنائیں،کم لوگ مریںتوکیا اس کی کوئی اہمیت نہیں،عدالت نے پولیس اہلکاروں اور افسران کے سیاسی تعلق سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اورحکم دیاکہ اسلحہ لائسنس کی تجدید اوراجرا کے نظام کو جلد از جلد کمپیوٹرائزڈ کیاجائے۔ڈی جی رینجرزنے بتایا کہ صنعتوں اورصنعت کاروں کے تحفظ کیلیے صنعتی علاقوں میں مخصوص اوقات میں اضافی نفری تعینات کی جاتی ہے۔جسٹس انورظہیرجمالی نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ کراچی میں صنعت کاروں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور تاجروں آئے دن بھتہ خوری کے خلاف شٹرڈائون ہڑتال کرنا پڑتی ہے۔


شہر میں شایدہی کوئی تاجر یاصنعتکار ہوجوبھتہ نہ دیتا ہو،مختلف گروپس سرگرم ہیںاور بھتہ وصولی کا طریقہ کار بھی بدل گیاہے،بھتہ خوروں نے علاقے بانٹ لیے ہیں،شہرمیں لسانی تقسیم اورسیاسی آویزشوں کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہواہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے ڈی جی رینجرزسے استفسار کیا کہ تاجروں کو آپ پر بھروسہ کیوں نہیں،ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ رینجرز کے تاجروں سے مسلسل رابطے ہیں اورتاجروں کی شکایت پرکارروائی بھی کی جاتی ہے،انھوں نے تجویزدی کہ شہر میں کرائم رپورٹنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، ایک سوال پرانھوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر اداروں کے تعاون سے کارروائی کی جاتی ہے۔عدالت کے استفسار پرڈی جی رینجرزنے بتایا کہ اکثر کارروائی میں پولیس بھی رینجرزکے ساتھ ہوتی ہے تاہم مشیرنامہ تیارکرنے اور پولیس کے ساتھ باہمی شراکت کا لائحہ عمل بنانے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

جسٹس امیر ہانی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جہاں رینجرز کارروائی کرتی ہے ،وہاں رینجرز کوخود ہی مشیرنامہ بنانا چاہیے،یہ قانونی پیچیدگی ہے یہ مسئلہ حل کیا جائے،اگر اس سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان چھوٹ جائیں توگرفتاری کا کیا فائدہ۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ بلوچستان میں رینجرز اور ایف سی کے پاس مقدمہ درج کرنے کا بھی اختیار اور اپنے تھانے ہیں،ایسا ہی نظام لے آئیں تومسئلہ حل ہو جائے گا،ڈی جی رینجرز نے بتایا کہ رینجرز ہرعلاقے میں کارروائی کرسکتی ہے اور کوئی نوگو ایریانہیں،جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہر جگہ رسائی شہریوں کاحق ہے،سیکیورٹی کے نام پر علاقوں کو نو گو ایریا نہیں بنایاجا سکتا، عدالت نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ گلیوں میں بیریئرز لگانے کے حوالے سے حکومتی پالیسی جاری کی جائے۔

ڈی جی رینجرز نے موقف اختیار کیاکہ کمزوراستغاثہ کے باعث سنگین الزامات میں ملوث اجمل پہاڑی جیسے ملزمان چھوٹ جاتے ہیں۔ پراسیکیوٹرجنرل شہادت اعوان نے بتایاکہ اجمل پہاڑی کے خلاف 17مقدمات تھے جن میں سے کئی مقدمات میں بری اورکئی مقدمات میں ضمانت حاصل کرلی ہے،انھوں نے بتایا کہ اکثر مقدمات میں گواہ پیش نہیں ہوئے یامنحرف ہوگئے،عدالت کے استفسارپرایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ نیابلدیاتی نظام آیا ہے اسلیے شہر کی انتظامی تقسیم کے حوالے سے نقشہ پیش کرنے میں تاخیرہورہی ہے، عدالت نے ہدایت کی کہ (آج)جمعرات کونقشے پیش کیے جائیں ،عدالت کو بتایا گیا کہ اسلحہ لائسنس کے اجراء اور تجدیدکیلیے کمپیوٹرائزڈ سسٹم نصب کیا جارہاہے اور اس حوالے سے کراچی میں ایک مشین آزمائشی طور پر نصب کی گئی ہے جہاں6ہزار نئے لائسنس جاری کیے ہیں۔

وسیم احمد نے بتایا کہ سندھ میں 10لاکھ اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے ہیں جن میں کراچی کے دو لاکھ اسلحہ لائسنس شامل ہیں،صوبے کے 8اضلاع میں یکم دسمبر تک نیا نظام کام شروع کر دے گا،جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ اب بھی صرف کاغذی کارروائی پر ہی اکتفاکیاجارہا ہے ،13ماہ میں اتنے لوگ قتل کردیے گئے اس کا حساب کون دے گا ،آٹھ،دس قتل میں ملوث ملزمان کو بھی اسلحہ لائسنس جاری کردیا جاتاہے، لائسنس کے اجراکی پالیسی پیش کی جائے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ کون ساڈی سی یاوزیرقانون کی خلاف ورزی کررہا ہے،جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ارکان اسمبلی کو اسلحہ لائسنس کا کوٹہ کس قانون کے تحت دیا جاتا ہے،یہ توکرپشن ہے،صرف ووٹ بینک مضبوط کرنے کیلیے دو دوسو اسلحہ لائسنس تقسیم کردیے جاتے ہیں۔

عدالت نے ہدایت کی لائسنس کی تجدیداورتصدیق کی جائے،اس حوالے سے مخصوص مدت مقرر کردیں اورجو تصدیق نہ کرائے ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں ۔ عدالت کے استفسارپروسیم احمد نے بتایا کہ رواں برس اب تک 1897افرد مختلف واقعات میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ برس 1924افراد ہلاک ہوئے تھے، جسٹس خلجی عارف حسین نے اس موقع پر طنزیہ کہا کہ ابھی دو ماہ باقی ہیں ان میں کتنے لوگ مریں گے ،جسٹس انورظہیر جمالی کی سربراہی میں5رکنی لارجر بینچ میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس سرمد جلال عثمانی،جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد شامل ہیں،سماعت کے موقع پرایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک،چیف سیکریٹری سندھ راجہ عباس ،ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ)وسیم احمد،ڈی جی رینجرز میجرجنرل رضوان اختر،آئی جی سندھ فیاض لغاری، ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود،سینئرممبرریونیوبورڈ،نادرااورالیکشن کمیشن کے نمائندے بھی پیش ہوئے۔

Recommended Stories

Load Next Story