بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وصولی غیر آئینی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ
چیئرمین اوگرا ہرہفتے ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کردیں، ان کا تو تبادلہ نہیں ہوسکتا، ریمارکس
سب عوام کو لوٹ رہے ہیں، چیئرمین اوگرا ہرہفتے ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کردیں، ان کا تو تبادلہ نہیں ہوسکتا، نوکری بچانی ہے تو بات اور ہے، ریمارکس۔ فوٹو: فائل
عدالت عظمٰی نے سی این جی کی قیمت پٹرول سے منسلک کرنے اور ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرنے کی پالیسی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تقابلی جائزہ کیلیے گیارہ برس پرانی پٹرولیم پالیسی طلب کر لی۔
جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آبزرویشن دی ہے کہ سب مل کر عوام کا استحصال کر رہے ہیں، سارا کام جعلی ہو رہا ہے، ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی پالیسی منظور نہیں، اوگرا عوام کے بجائے کمپنی مالکان کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے، جب حکومت قیمتیں بڑھانے کا کہے تو چیئرمین اوگرا کو اختلافی نوٹ لکھنا چاہیے، نوکری بچانی ہے تو بات مختلف ہے لیکن اگر اللہ سے ڈرنا ہے تو یوں نہ کریں جیسا کر رہے ہیں۔ بدھ کوچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان عدالت میں پیش ہو گئے۔
سیکریٹری پٹرولیم وقار مسعود نے تیل وگیس کی قیمتوں میں اضافے اور سی این جی کو پٹرول سے منسلک کرنے کی پالیسی کا دفاع کیا اور بتایا اس پالیسی کے ذریعے عوام کو اب تک 23 ارب روپے کا فائدہ دیا گیا ہے، پٹرول مصنوعات کی قیمتیں ڈالر سے جڑی ہوئی ہیں اس کی وجہ سے قیمتوں کا ہر ہفتے جائزہ لیا جاتا ہے، گیس کی قیمت 2001 کی پٹرولیم پالیسی کے تحت مقرر ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پٹرول کی قیمت ڈالر سے منسلک کرنے کا جواز تو ہو سکتا ہے لیکن گیس کی قیمت کو کس طرح ڈالر سے جوڑا گیا ہے، گیس مقامی پیداوار ہے اور اس کی فراہمی بھی اس حساب سے ہونی چاہیے، جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کی ترقی کے لیے بھی کچھ نہیں کیا گیا، اگر سوئی میں ترقیاتی کام ہوتے تو آج ڈیرہ بگٹی میں یہ صورتحال نہیں ہوتی۔
چیف جسٹس نے آبزرویشن دی سب مل کر عوام کو لوٹ رہے ہیں، جس اتھارٹی کو صارفین کے مفاد کے تحفظ کیلیے قائم کیا گیا وہ سیٹھ کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے، عوام کا استحصال ہو رہا ہے اور یہ آئین کی شق تین کی خلاف ورزی ہے، اس پر جلد فیصلہ دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کیا مقامی لوگوں اور کسانوں کو بھی ڈالروں میں ادائیگی ہو تی ہے؟ ایسا ہر گز نہیں صرف عوام کو لوٹنے کا ایک جواز ہے۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان نے کہا اوگرا ہر ہفتے قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہے لیکن یہ ای سی سی کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا کے پاس ہے ای سی سی کے پاس نہیں، ای سی سی قانون سے باہر نہیں جا سکتی، اگر ایسا کر نا غلط ہے تو اوگرا سفارش مسترد کر کے نوٹیفکیشن سے انکار کر دے۔
چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر نوکری بچانی ہے تو بات اور ہے اور اگر اختیارات کی بات ہے تو اختیار اوگرا کے پاس ہے۔ جسٹس جواد نے کہا چیئر مین اوگر ا کو تبدیل بھی نہیں کیا جا سکتا پھر خوف کس بات کا ہے۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ رولز کے تحت قیمتوں پر سال میں صرف دو مرتبہ نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ چیئرمین اوگرا نے بتایا سی این جی سیکٹر کے پاس صرف آٹھ سے نو فیصد گیس جاتی ہے تاہم سیکریٹری پٹرولیم نے اس کی تردید کی اور کہا چیئرمین اوگرا کو اس کے متعلق معلومات حاصل نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا عجیب بات ہے جس شخص کو ریگولیٹر مقرر کیا گیا ہے سیکرٹری خود معترف ہیں کہ انھیں اس بارے میں معلومات نہیں، اگر لائن لاسز زیادہ ہیں تو اس کی وجہ ادارے کی نااہلیت ہے، اوگرا غیر جانبدار ادارہ ہے، اگر عوام کے مفاد پر سمجھوتہ ہوگا تو ادارے کو نتائج بھگتنا پڑیں گے، اگر اوگرا ریگولیٹر کی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا تو پھر اس کو بند کر دیں۔ غیاث پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ گیس کی قیمت پٹرول سے الگ کرنے پر سی این جی کی قیمت میں25 روپے فی کلو کمی واقع ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا سارا کام جعلی ہو رہا ہے ہر ہفتے قیمتیں بڑھانے کی پالیسی منظور نہیں۔
آئی این پی کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ اوگرا کا مقصد ہی قیمتوں میں بریک لگانا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اوگرا ہی کی وجہ سے قومی خزانے کو 83 ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا سے دریافت کیا کہ ہر ہفتے ٹیرف کس قانون کے تحت مقررکیا جاتا ہے تاہم وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ انہیں سال میں دو بار قیمتوں کے تعین کا اختیار ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ قیمتوں کے تعین کا ہفتہ وار نوٹی فکیشن جاری نہ کریں اور ہر ہفتے اضافے سے لی گئی رقم عوام کو واپس کریں۔ انھوں نے کہا کہ سی این جی قیمتوں کو پٹرول سے منسلک کرنے پر دو تین روز میں حکم نامہ جاری کریں گے۔
این این آئی کے مطابق پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی تاہم اس پر عمل نہیں ہوا، صارفین کے مفاد کا تحفظ نہ ہونے کا سخت نوٹس لیں گے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ اوگرا حکومت کے ماتحت نہیں، یہ ریگولیٹر ہے، سی این جی قیمت 25سے بڑھ کر 92روپے فی کلو ہو گئی، اوگرا خاموش رہا، کہہ دے کہ قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سیکرٹری پٹرولیم نے عدالت کو بتایا کہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے زیادہ غریبوں کا خیال رکھتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسی لیے ہر ہفتے گیس کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ عدالت نے ایم ڈی سوئی سدرن اور سوئی نادرن گیس کمپنی اور پٹرولیم پالیسی 2001 طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کردی۔
جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آبزرویشن دی ہے کہ سب مل کر عوام کا استحصال کر رہے ہیں، سارا کام جعلی ہو رہا ہے، ہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی پالیسی منظور نہیں، اوگرا عوام کے بجائے کمپنی مالکان کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے، جب حکومت قیمتیں بڑھانے کا کہے تو چیئرمین اوگرا کو اختلافی نوٹ لکھنا چاہیے، نوکری بچانی ہے تو بات مختلف ہے لیکن اگر اللہ سے ڈرنا ہے تو یوں نہ کریں جیسا کر رہے ہیں۔ بدھ کوچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان عدالت میں پیش ہو گئے۔
سیکریٹری پٹرولیم وقار مسعود نے تیل وگیس کی قیمتوں میں اضافے اور سی این جی کو پٹرول سے منسلک کرنے کی پالیسی کا دفاع کیا اور بتایا اس پالیسی کے ذریعے عوام کو اب تک 23 ارب روپے کا فائدہ دیا گیا ہے، پٹرول مصنوعات کی قیمتیں ڈالر سے جڑی ہوئی ہیں اس کی وجہ سے قیمتوں کا ہر ہفتے جائزہ لیا جاتا ہے، گیس کی قیمت 2001 کی پٹرولیم پالیسی کے تحت مقرر ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پٹرول کی قیمت ڈالر سے منسلک کرنے کا جواز تو ہو سکتا ہے لیکن گیس کی قیمت کو کس طرح ڈالر سے جوڑا گیا ہے، گیس مقامی پیداوار ہے اور اس کی فراہمی بھی اس حساب سے ہونی چاہیے، جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں کی ترقی کے لیے بھی کچھ نہیں کیا گیا، اگر سوئی میں ترقیاتی کام ہوتے تو آج ڈیرہ بگٹی میں یہ صورتحال نہیں ہوتی۔
چیف جسٹس نے آبزرویشن دی سب مل کر عوام کو لوٹ رہے ہیں، جس اتھارٹی کو صارفین کے مفاد کے تحفظ کیلیے قائم کیا گیا وہ سیٹھ کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے، عوام کا استحصال ہو رہا ہے اور یہ آئین کی شق تین کی خلاف ورزی ہے، اس پر جلد فیصلہ دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کیا مقامی لوگوں اور کسانوں کو بھی ڈالروں میں ادائیگی ہو تی ہے؟ ایسا ہر گز نہیں صرف عوام کو لوٹنے کا ایک جواز ہے۔ چیئرمین اوگرا سعید احمد خان نے کہا اوگرا ہر ہفتے قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہے لیکن یہ ای سی سی کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قیمتوں کے تعین کا اختیار اوگرا کے پاس ہے ای سی سی کے پاس نہیں، ای سی سی قانون سے باہر نہیں جا سکتی، اگر ایسا کر نا غلط ہے تو اوگرا سفارش مسترد کر کے نوٹیفکیشن سے انکار کر دے۔
چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر نوکری بچانی ہے تو بات اور ہے اور اگر اختیارات کی بات ہے تو اختیار اوگرا کے پاس ہے۔ جسٹس جواد نے کہا چیئر مین اوگر ا کو تبدیل بھی نہیں کیا جا سکتا پھر خوف کس بات کا ہے۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ رولز کے تحت قیمتوں پر سال میں صرف دو مرتبہ نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ چیئرمین اوگرا نے بتایا سی این جی سیکٹر کے پاس صرف آٹھ سے نو فیصد گیس جاتی ہے تاہم سیکریٹری پٹرولیم نے اس کی تردید کی اور کہا چیئرمین اوگرا کو اس کے متعلق معلومات حاصل نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا عجیب بات ہے جس شخص کو ریگولیٹر مقرر کیا گیا ہے سیکرٹری خود معترف ہیں کہ انھیں اس بارے میں معلومات نہیں، اگر لائن لاسز زیادہ ہیں تو اس کی وجہ ادارے کی نااہلیت ہے، اوگرا غیر جانبدار ادارہ ہے، اگر عوام کے مفاد پر سمجھوتہ ہوگا تو ادارے کو نتائج بھگتنا پڑیں گے، اگر اوگرا ریگولیٹر کی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا تو پھر اس کو بند کر دیں۔ غیاث پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ گیس کی قیمت پٹرول سے الگ کرنے پر سی این جی کی قیمت میں25 روپے فی کلو کمی واقع ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا سارا کام جعلی ہو رہا ہے ہر ہفتے قیمتیں بڑھانے کی پالیسی منظور نہیں۔
آئی این پی کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ اوگرا کا مقصد ہی قیمتوں میں بریک لگانا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اوگرا ہی کی وجہ سے قومی خزانے کو 83 ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا سے دریافت کیا کہ ہر ہفتے ٹیرف کس قانون کے تحت مقررکیا جاتا ہے تاہم وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ انہیں سال میں دو بار قیمتوں کے تعین کا اختیار ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ قیمتوں کے تعین کا ہفتہ وار نوٹی فکیشن جاری نہ کریں اور ہر ہفتے اضافے سے لی گئی رقم عوام کو واپس کریں۔ انھوں نے کہا کہ سی این جی قیمتوں کو پٹرول سے منسلک کرنے پر دو تین روز میں حکم نامہ جاری کریں گے۔
این این آئی کے مطابق پارلیمنٹ نے قرارداد منظور کی تاہم اس پر عمل نہیں ہوا، صارفین کے مفاد کا تحفظ نہ ہونے کا سخت نوٹس لیں گے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ اوگرا حکومت کے ماتحت نہیں، یہ ریگولیٹر ہے، سی این جی قیمت 25سے بڑھ کر 92روپے فی کلو ہو گئی، اوگرا خاموش رہا، کہہ دے کہ قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ سیکرٹری پٹرولیم نے عدالت کو بتایا کہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے زیادہ غریبوں کا خیال رکھتی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسی لیے ہر ہفتے گیس کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ عدالت نے ایم ڈی سوئی سدرن اور سوئی نادرن گیس کمپنی اور پٹرولیم پالیسی 2001 طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کردی۔