جرمنی میں نمائش میں پاکستانی مصنوعات کی بھرپور پذیرائی
نمائش میں 2800نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات پیش کیں جبکہ 88ملکوں سے 4لاکھ سے زائد افراد نے نمائش کا دورہ کیا
نمائش میں 2800نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات پیش کیں جبکہ 88ملکوں سے 4لاکھ سے زائد افراد نے نمائش کا دورہ کیا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
جرمنی کے شہر ہینوور میں زرعی آلات اور انجینئرنگ مصنوعات کی نمائش ایگری ٹیکنیشیا 2015میں شریک پاکستانی کمپنیوںکو بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
زرعی مشینری اور ٹریکٹر کے پرزہ جات بنانیو الی کمپنیوں نے یورپی ملکوں کو پاکستانی انجینئرنگ مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے تربیت فراہم کرنیو الے ڈچ سرکاری ادارے سی بی آئی کی رہنمائی میں شرکت کی۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز(پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین مشہود علی خان کے مطابق نمائش میں شریک پاکستانی کمپنیوں کو یورپی خریداروں کی جانب سے بھرپور رسپانس ملا ہے۔ نمائش میں چین، بھارت، اٹلی اور ترکی کی مصنوعات کی موجودگی کے باوجود پاکستانی مصنوعات میں یورپی خریداروں کی دلچسپی پاکستانی کمپنیوں کی مہارت اور اعلیٰ معیار کا اعتراف ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی سے پاکستانی کمپنیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں جس کا نتیجہ ایکسپورٹ میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں شرکت کو بھرپور بنانے میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بھی فعال کردار ادا کیا۔ نمائش میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت خصوصی طور پر پاکستانی اسٹینڈ لگایا گیا۔
نمائش میں 2800نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات پیش کیں جبکہ 88ملکوں سے 4لاکھ سے زائد افراد نے نمائش کا دورہ کیا۔ اس طرح یہ نمائش پاکستانی مصنوعات اور معیار کی تشہیر کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوئی۔ ڈچ سرکاری ادارے سی بی آئی کے ماہرین امتیاز راستگر اور Jan Oude Elferink نمائش کے دوران پاکستانی کمپنیوں کی رہنمائی کے لیے سی بی آئی کے اسٹینڈ پر موجود رہے۔ اس موقع پر پاپام کے سینئر وائس چیئر مین نے ٹریکٹر بنانے والی ترک اور یورپی کمپنیوں کو پاکستان میں آٹو اور انجینئرنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات سے آگاہ کرتے ہوئے 2016میں پاپام کے تحت ہونے والے پاکستان آٹو پارٹس شو میں شرکت کی دعوت دی۔
زرعی مشینری اور ٹریکٹر کے پرزہ جات بنانیو الی کمپنیوں نے یورپی ملکوں کو پاکستانی انجینئرنگ مصنوعات کی ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے تربیت فراہم کرنیو الے ڈچ سرکاری ادارے سی بی آئی کی رہنمائی میں شرکت کی۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز(پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین مشہود علی خان کے مطابق نمائش میں شریک پاکستانی کمپنیوں کو یورپی خریداروں کی جانب سے بھرپور رسپانس ملا ہے۔ نمائش میں چین، بھارت، اٹلی اور ترکی کی مصنوعات کی موجودگی کے باوجود پاکستانی مصنوعات میں یورپی خریداروں کی دلچسپی پاکستانی کمپنیوں کی مہارت اور اعلیٰ معیار کا اعتراف ہے اور بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی سے پاکستانی کمپنیوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں جس کا نتیجہ ایکسپورٹ میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نمائش میں شرکت کو بھرپور بنانے میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بھی فعال کردار ادا کیا۔ نمائش میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت خصوصی طور پر پاکستانی اسٹینڈ لگایا گیا۔
نمائش میں 2800نمائش کنندگان نے اپنی مصنوعات پیش کیں جبکہ 88ملکوں سے 4لاکھ سے زائد افراد نے نمائش کا دورہ کیا۔ اس طرح یہ نمائش پاکستانی مصنوعات اور معیار کی تشہیر کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوئی۔ ڈچ سرکاری ادارے سی بی آئی کے ماہرین امتیاز راستگر اور Jan Oude Elferink نمائش کے دوران پاکستانی کمپنیوں کی رہنمائی کے لیے سی بی آئی کے اسٹینڈ پر موجود رہے۔ اس موقع پر پاپام کے سینئر وائس چیئر مین نے ٹریکٹر بنانے والی ترک اور یورپی کمپنیوں کو پاکستان میں آٹو اور انجینئرنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات سے آگاہ کرتے ہوئے 2016میں پاپام کے تحت ہونے والے پاکستان آٹو پارٹس شو میں شرکت کی دعوت دی۔