سرکاری اداروں کو بغیر این او سی نجی ٹیلی کام سروسز لینے سے روک دیا گیا
نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ریاست کا ملکیتی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والا ادارہ ہے، مراسلے
نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ریاست کا ملکیتی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والا ادارہ ہے، مراسلے فوٹو: فائل
ملک کی مختلف وفاقی و صوبائی سرکاری آرگنائزیشنز اور اداروں کا نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن(این ٹی سی) کے این او سی کے بغیر وائس و ڈیٹا کے لیے کمپنیوں سے ٹیلی کام سروسز لینے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں و آرگنائزیشن میں این ٹی سی کے این او سی کے بغیر نجی کمپنیوں کی ٹیلی کام سروسز کو سیکیورٹی رسک قرار دیدیا ہے اور وفاقی حکومت نے تمام وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں و آرگنائزیشنز میں صرف اور صرف نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی ٹیلی کام سروسز کے استعمال کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے تمام وفاقی و صوبائی وزارتوں و ڈویژنوں کو باقاعدہ طور پر ڈائریکٹو پر مبنی لیٹر لکھ دیا ہے جس میں ہدایات دی گئی ہیں کہ وفاقی و صوبائی وزارتوں و ڈویژنوں میں این ٹی سی کے این او سی کے بغیر کسی بھی نجی کمپنی سے ٹیلی کام سروسز نہ لی جائیں اور تمام وفاقی سیکریٹریوں اور صوبائی چیف سیکریٹریوں کے پرسنل اسٹاف آفیسر (پی ایس اوز)سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر محفوظ اور قابل بھروسہ ذرائع کمیونیکیشن استعمال کیے جائیں۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے وفاقی و صوبائی وزارتوں اور ڈویژنوں کو دوبارہ بھجوائے جانے والے مراسلے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے لکھے جانے والے مختلف خطوط کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس سے اگرچہ کمیونیکیشن کے ذرائع میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے مگر وہیں اس سے ملک کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کی انٹیگریٹی کیلیے شدید سیکیورٹی خطرات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر محفوظ نیٹ ورک کے استعمال کے باعث سائبر سیکیورٹی کے سنگین واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ان حالات میں تمام وفاقی و صوبائی وزارتوں و ڈویژنوں کیلیے لازم ہے کہ سرکاری اداروں و آرگنائنزیشنوں میں محفوظ ذرائع کمیونیکیشن استعمال کیے جائیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے بھجوائے جانے والے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے مشاہدے اور علم میں یہ بات آئی ہے کہ مختلف وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں و آرگنائزیشنز کی جانب سے ابھی بھی این ٹی سی سے این او سی حاصل کیے بغیر نجی آپریٹرز سے وائس اور ڈیٹا کے لیے ٹیلی کام سروسز حاصل کی جارہی ہیں جو کہ بہت بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ریاست کا ملکیتی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والا ادارہ ہے جو وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں کو ٹیلی کام سروسز فراہم کرتا ہے جس کا بنیادی مقصد سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور ملکی و قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ابھی مختلف سرکاری آرگنائزیشن اور ادارے نجی آپریٹرز سے ٹیلی کام سروسز لے رہے ہیں اور اس کے لیے وہ این ٹی سی این او سی بھی حاصل نہیں کررہے ہیں جو کہ نہ صرف کابینہ ڈویژن کی جانب سے بھجوائے جانے والے ڈائریکٹو کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی و قومی مفاد کے تحفظ کے تحت نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے قیام کے بنیادی مقصد سے بھی متصادم ہے لہٰذا کابینہ ڈویژن کی جانب سے تمام وزارتوں و ڈویژنوں کو واضع طور پر ہدایت کی جاتی ہے کہ تمام سرکاری اداروں و آرگنائزیشنز میں صرف اور صرف نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی ٹیلی کام سروسز کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور ایسے علاقے جہاں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی سروسز نہیں ہیں وہاں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کسی ٹیلی کام آپریٹر کے ذریعے ٹیلی کام سروسز کی فراہمی کے انتظامات کرکے دے گا اور اس کے لیے تمام سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنائے گا۔
وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں و آرگنائزیشن میں این ٹی سی کے این او سی کے بغیر نجی کمپنیوں کی ٹیلی کام سروسز کو سیکیورٹی رسک قرار دیدیا ہے اور وفاقی حکومت نے تمام وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں و آرگنائزیشنز میں صرف اور صرف نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی ٹیلی کام سروسز کے استعمال کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے تمام وفاقی و صوبائی وزارتوں و ڈویژنوں کو باقاعدہ طور پر ڈائریکٹو پر مبنی لیٹر لکھ دیا ہے جس میں ہدایات دی گئی ہیں کہ وفاقی و صوبائی وزارتوں و ڈویژنوں میں این ٹی سی کے این او سی کے بغیر کسی بھی نجی کمپنی سے ٹیلی کام سروسز نہ لی جائیں اور تمام وفاقی سیکریٹریوں اور صوبائی چیف سیکریٹریوں کے پرسنل اسٹاف آفیسر (پی ایس اوز)سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر محفوظ اور قابل بھروسہ ذرائع کمیونیکیشن استعمال کیے جائیں۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے وفاقی و صوبائی وزارتوں اور ڈویژنوں کو دوبارہ بھجوائے جانے والے مراسلے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے لکھے جانے والے مختلف خطوط کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس سے اگرچہ کمیونیکیشن کے ذرائع میں بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے مگر وہیں اس سے ملک کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کی انٹیگریٹی کیلیے شدید سیکیورٹی خطرات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر محفوظ نیٹ ورک کے استعمال کے باعث سائبر سیکیورٹی کے سنگین واقعات رونما ہورہے ہیں۔ ان حالات میں تمام وفاقی و صوبائی وزارتوں و ڈویژنوں کیلیے لازم ہے کہ سرکاری اداروں و آرگنائنزیشنوں میں محفوظ ذرائع کمیونیکیشن استعمال کیے جائیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے بھجوائے جانے والے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے مشاہدے اور علم میں یہ بات آئی ہے کہ مختلف وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں و آرگنائزیشنز کی جانب سے ابھی بھی این ٹی سی سے این او سی حاصل کیے بغیر نجی آپریٹرز سے وائس اور ڈیٹا کے لیے ٹیلی کام سروسز حاصل کی جارہی ہیں جو کہ بہت بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ریاست کا ملکیتی ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے والا ادارہ ہے جو وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں کو ٹیلی کام سروسز فراہم کرتا ہے جس کا بنیادی مقصد سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور ملکی و قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ابھی مختلف سرکاری آرگنائزیشن اور ادارے نجی آپریٹرز سے ٹیلی کام سروسز لے رہے ہیں اور اس کے لیے وہ این ٹی سی این او سی بھی حاصل نہیں کررہے ہیں جو کہ نہ صرف کابینہ ڈویژن کی جانب سے بھجوائے جانے والے ڈائریکٹو کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی و قومی مفاد کے تحفظ کے تحت نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے قیام کے بنیادی مقصد سے بھی متصادم ہے لہٰذا کابینہ ڈویژن کی جانب سے تمام وزارتوں و ڈویژنوں کو واضع طور پر ہدایت کی جاتی ہے کہ تمام سرکاری اداروں و آرگنائزیشنز میں صرف اور صرف نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی ٹیلی کام سروسز کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور ایسے علاقے جہاں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی سروسز نہیں ہیں وہاں نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کسی ٹیلی کام آپریٹر کے ذریعے ٹیلی کام سروسز کی فراہمی کے انتظامات کرکے دے گا اور اس کے لیے تمام سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنائے گا۔