آئی لینس لگانے سے روکنے پر نئی نویلی دلہن نے طلاق لے لی
لینس لگانے سے منع کرنے پر خاتون خانہ آگ بگولا ہو گئی
لینس لگانے سے منع کرنے پر خاتونہ خانہ آگ بگولا ہو گئی۔ فوٹو: فائل
LONDON:
مشرقی ممالک میں طلاق کو انتہائی برا فعل جانا جاتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ بڑے بڑے خاندانی تنازعات پر بھی میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت نہ آئے لیکن مغرب اور یورپ میں اول تو باضابطہ شادیاں ہوتی ہی نہیں اور جو شادیاں ہوتی ہیں ان کا معیار بھی کچے دھاگوں کی طرح ہوتا ہے کہ ہلکا سا تناؤ پڑا اور رشتہ ٹوٹ گیا لیکن اب عرب ممالک میں بھی مغرب کی دیکھا دیکھی رشتے پل بھر میں ٹوٹنے لگے ہیں۔
ایک عرب ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں نئی نویلی دلہن نے آئی لینش لگانے سے منع کرنے پر شوہر سے طلاق لے لی۔ اس سعودی جوڑے کی شادی دارالحکومت ریاض میں ہوئی اور شادی کو بمشکل ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ بیگم کو لینس لگاتے دیکھ کر شوہر نے منع کر دیا جس پر خاتون خانہ آگ بگولا ہو گئی اور اس سے ہر صورت میں طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ اہلیہ نے اپنے شوہر پر شرائط عائد کرنے اور شوہر نے اپنی بیوی پر مصنوعی خوبصورتی کا الزام لگایا تاہم شوہر نے اپنی بیوی کا مطالبہ مانتے ہوئے اسے طلاق دے دی۔
مشرقی ممالک میں طلاق کو انتہائی برا فعل جانا جاتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ بڑے بڑے خاندانی تنازعات پر بھی میاں بیوی کے درمیان طلاق کی نوبت نہ آئے لیکن مغرب اور یورپ میں اول تو باضابطہ شادیاں ہوتی ہی نہیں اور جو شادیاں ہوتی ہیں ان کا معیار بھی کچے دھاگوں کی طرح ہوتا ہے کہ ہلکا سا تناؤ پڑا اور رشتہ ٹوٹ گیا لیکن اب عرب ممالک میں بھی مغرب کی دیکھا دیکھی رشتے پل بھر میں ٹوٹنے لگے ہیں۔
ایک عرب ویب سائٹ کے مطابق سعودی عرب میں نئی نویلی دلہن نے آئی لینش لگانے سے منع کرنے پر شوہر سے طلاق لے لی۔ اس سعودی جوڑے کی شادی دارالحکومت ریاض میں ہوئی اور شادی کو بمشکل ایک ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ بیگم کو لینس لگاتے دیکھ کر شوہر نے منع کر دیا جس پر خاتون خانہ آگ بگولا ہو گئی اور اس سے ہر صورت میں طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ اہلیہ نے اپنے شوہر پر شرائط عائد کرنے اور شوہر نے اپنی بیوی پر مصنوعی خوبصورتی کا الزام لگایا تاہم شوہر نے اپنی بیوی کا مطالبہ مانتے ہوئے اسے طلاق دے دی۔