’’بکرے افغانستان اسمگل کرنے سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں‘‘

سرحدی علاقوں میںSHO کی تعیناتی کیلیے ریٹ ایک کروڑ، آمدنی 30 لاکھ ہے،نمائندہ ایکسپریس.

کراچی میں اب قربانی کے جانوروں پر بھی بھتہ لیا جارہا ہے، واصف کی لائیو ود طلعت میں گفتگو. فوٹو: فائل

سنت ابراھیمی کی یاد تازہ کرنے کے لیے ان دنوں بکرے خریدنے، بکرے مہنگے، سستے بکرے ذبح کرنے کا موضوع زبان زدعام ہوتا ہے۔

قربانی کے موقع پر مسلمان تمام ملکی اور غیر ملکی ایشوز بھول جاتے ہیں اور سنت ابراھیمی کی ادائیگی سب سے اہم ایشو بن جاتا ہے اور پھر ایسے حالات میں جب قیمتوں میں اضافہ جانوروں کی سمگلنگ اور پھر مویشی منڈیوں کے مسائل بھی سراٹھانے لگیں تو بہت سے سوال پیدا ہوجاتے ہیں ۔پروگرام لائیوود طلعت میں اینکر پرسن طلعت حسین نے ایسے ہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پروگرام کے مطابق کچھ لوگ قربانی کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں مقصد سنت ابراھیمی کی ادائیگی ہوتا ہے لیکن اس سنت کی ادائیگی کو پتہ نہیں کن کن طریقوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔


پروگرام میں خیبر پختونخوا میں ایکسپریس نیوزکے نمائندے یاسر نے بتایا کہ پاک افغان سرحد پر جہاں فورسز کے لیے آنا جانا ناممکن ہوتا ہے وہاں سے بکرے بڑی آسانی کے ساتھ سرحد پار افغانستان سمگل ہوجاتے ہیں، پولیس ایف سی خاصہ دار سارے ہی جانورسمگل کرنے والوں سے پیسے لیتے ہیں، ان علاقوں میں ایک ایس ایچ او اپنی پوسٹنگ کے لیے ایک کروڑ روپے تک خرچ کرلیتے ہیں اورایک ایس ایچ او کی آمدنی تیس لاکھ روپے ماہانہ کے قریب ہوتی ہے۔

سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان میں عید کے موقع پر بکروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنا شروع کردیتی ہیں۔ کراچی میں ایکسپریس نیوز کے نمائندے واصف نے بتایا کہ مویشی منڈیاں مسائل میں گھری ہوئی ہیں جانور تو جانور انسانوں کے لیے بھی پینے کا پانی دستیاب نہیں، اس بقر عید پر مویشی خریدنے والوں کو لوٹنے والوں کا بھی شدید خطرہ لاحق ہے اور وہ مویشی منڈی میں صرف ایڈوانس کی رقم لاتے ہیں اور جانور پسند کرکے چلے جاتے ہیں پھر یہ رقم کسی اور جگہ منتقل کی جاتی ہے، پہلے انسانوں پر بھتہ لیاجاتاتھا اب جانوروں پر بھی بھتہ لیا جا رہا ہے۔ جانوروں کی نایابی ایک طرف جو لوگ تسلسل سے قربانی دیا کرتے تھے انھوں نے قربانی کرنے سے انکار کردیا ہے ان کو ایس ایم ایس کئے جارہے ہیں کہ اگر تم نے کھال نہ دی تو ہم تمہاری کھال اتار دیں گے۔ عید قربان کا مقصد مسلمانوں کا قربانی کا درس دینا ہے ہمیں چاہئے کہ اس کے ذریعے ہم مصنوعی غرور کا اظہار نہ کریں۔
Load Next Story