بھیک میں ملی سیریز قبول نہیں

حکام پی سی بی کا ہیڈ کوارٹر ہی دبئی منتقل کر دیں یقیناً اس سے خوب پیسہ بچے گا

حکام پی سی بی کا ہیڈ کوارٹر ہی دبئی منتقل کر دیں یقیناً اس سے خوب پیسہ بچے گا:فوٹو:فائل

''بات سنیں آپ پاکستان سے آئے ہیں''

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ ایک فیملی میں موجود خاتون نے یہ سوال کیا ہے،یہ دوسرے ٹوئنٹی20میچ کے دوران دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کا واقعہ ہے، میں نے اثبات میں جواب دیا تو انھوں نے کہا کہ ''دراصل آپ کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ میڈیا سے تعلق ہے، یقیناً بورڈ حکام سے بھی رابطہ ہوتا ہو گا ان تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ کچھ غیرت کا مظاہرہ کریں، کب تک سیریز کیلیے بھارت کی منت سماجت کرتے رہیں گے'' ایسے میں ان کے ساتھ موجود ایک صاحب کہنے لگے کہ ''پی سی بی کو کچھ اندازہ ہے کہ ان کے سیریز کیلیے اس طرح اصرار پر یہاں موجود بھارتی ہمارا کیسے مذاق اڑاتے ہیں، وہ تو ہمیں بھکاری تک کہہ دیتے ہیں''

میں نے انھیں جواب دیا کہ جناب اگر قلم سے لکھنے کی عادت ہوتی تو یہ کہتا کہ لکھ لکھ کر سیاہی ختم ہو گئی مگر بورڈ کو شرم نہ آ سکی،اب تو کمپیوٹر اورکی بورڈ کا زمانہ ہے، میڈیا، سابق کرکٹرز سب سمجھا سمجھا کر تھک گئے مگر حکام کو سانپ سونگھ گیا ہے، یہ کہہ کر میں اسٹیڈیم کے اندر داخل ہو گیا۔

ویسے قارئین آپ ایک منٹ کیلیے سوچیں کہ کیا خود یا کوئی جاننے والا ایسے حالات میں بھارت سے سیریز کھیلنے کا حامی نظر آتا ہے؟ بیشتر کا جواب ناں میں ہوگا،گذشتہ کئی ماہ بلکہ سال کے دوران10سے زائد بار ایسا ہو چکا کہ کبھی سیریز منسوخ ہونے تو کبھی انعقاد کی اطلاعات سامنے آتیں، بھارتی بورڈ آس دلاتا کہ کھیلنے کو تیار نہیں پھر اچانک ایک گرجدار سا بیان سامنے آ جاتا، اس وقت وہاں ایسے حالات ہیں کہ عامر خان جیسا بااثر کھرب پتی شخص اہل خانہ کی سلامتی کے پیش نظر ملک چھوڑ کر چلا گیا،باقی مسلمان اہم شخصیات بھی گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور اور انھیں پتا ہے کہ کچھ کہا تو جینا محال کر دیا جائے گا۔

مودی سرکار مسلسل پاکستان مخالف بیانات دیتی رہتی ہے، ایسے میں کوئی بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ اپنے دشمن ملک کو سیریز سے اربوں روپے کمانے کا موقع کیوں دے گی، یہ کبھی کبھار مثبت بیانات بھی اسی لیے آتے ہیں کہ پی سی بی سیریز کی تیاریاں شروع کرے تو دنیا کو بتائیں کہ دیکھیں ہم کتنے امیر ہیں کہ دشمن بھی ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے، افسوس حکام کو سادہ بات سمجھ نہیں آتی، پہلے انھیں بھارت بلا کر بے عزت کیا گیا، پھرکہا کہ مکمل سیریز نہیں کھیلیں گے چند میچز کرا دیں، دبئی میں ہوٹلز تک بک کرا لیے گئے مگر یو اے ای میں کھیلنے سے انکار کر دیا، ایسے میں سری لنکا میں مقابلوں پر اتفاق ہوا وہاں میچز کی تیاریاں شروع ہوئیں تو اب پھر بھارت نے گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیا،ویسے ہماری حکومت کوبھی تھوڑا انتظار کرنا چاہیے تھا پہلے بھارتی حکام ہاں کرتے پھر اجازت دی جاتی، اب خوامخواہ سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


اب تک کی اطلاعات سے ایسا نہیں لگتا کہ سیریز ہو سکے گی لیکن اگر بھارت مان بھی جائے تو پاکستان کو بھیک میں ملی یہ سیریز نہیں کھیلنی چاہیے، پیسہ سب کچھ نہیں ہوتا، میرا بڑا دل چاہ رہا ہے کہ ایک مثال دوں مگر اچھا محسوس نہیں ہوتا، ویسے سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ پیسہ تو برے لوگ بھی کما لیتے ہیں، اپنی کچھ عزت بھی ہوتی ہے ناں، بورڈ کو خدشہ ہے کہ دیوالیہ نہ ہو جائے، ارے دیوالیہ تو ہو گا ہی، میں پہلے بھی لکھ چکا کہ اس سیریز میں بھی پی سی بی کا کوئی ایسا آفیشل نہیں جس نے یو اے ای کی سیر نہ کی ہو، بعض تو ایک سے زائد بار آئے،بیشترکا وہاں کوئی کام نہ تھا مگر مفت میں عیش کرنے آ گئے، فضائی ٹکٹ، ڈرائیور کے ساتھ ملی گاڑی، ٹیم کے ساتھ سیون اسٹار ہوٹل میں قیام، کئی سو ڈالر یومیہ الاؤنس، اتنے مزے کس ادارے میں ہوں گے، میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ان دنوں رضا راشد یو اے ای میں موجود ہیں۔

انھوں نے واقعی کافی اچھاکام بھی کیا، میں حیران رہ گیا کہ واٹس ایپ تک پر صحافیوں کو خبریں مل رہی تھیں، ان کا ہونا جائز مان لیتے ہیں مگر ایسے میں اچانک لاہور سے میڈیا کے ایک اور صاحب کو بھیج دیا گیا جو میڈیا سینٹر میں گپ شپ کرتے ہی نظر آتے، لوگوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ ان کا گھر ایک اعلیٰ آفیشل کے پڑوس میں ہے، انھوں نے بھیج دیا کہ ''بچہ دبئی گھوم آئے گا''۔اسی طرح سپر لیگ مجھے ہوتی دکھائی نہیںدیتی مگر اس پر بھی کروڑوں روپے انعقاد سے قبل ہی خرچ کر دیے گئے،7،8 افراد پر مشتمل ٹیم ''انتظامات کا جائزہ'' لینے ہر چند روز بعد یو اے ای آتی رہتی ہے۔

میرا تو حکام کو مشورہ ہے کہ وہ پی سی بی کا ہیڈ کوارٹر ہی دبئی منتقل کر دیں یقیناً اس سے خوب پیسہ بچے گا، اب کسی ادارے میں ایسی شاہ خرچیاں ہوں گی تو قارون کا خزانہ بھی ختم ہو جائے گا،ان اخراجات پر کوئی کنٹرول نہیں کر رہا، بورڈ میں2 گروپس سرگرم عمل ہیں، شہریارخان کی قریبی شخصیات کو ایک، ایک کر کے بڑی خوبصورتی سے ہٹایا جا رہا ہے۔

ذاکرخان اور انتخاب عالم شور نہ مچائیں اس لیے ان دنوں تو انھیں جونیئر و سینئر ٹیموں کے ساتھ بطور منیجرز ٹورز مل رہے ہیں مگر یہ سلسلہ چند ماہ ہی جاری رہے گا،اسی طرح جی ایم میڈیا آغا اکبر کو بھی اب مستقبل کے ٹورزمیں بطور میڈیا منیجر بھیجا جائے گا، وہ بھی چیئرمین کے قریبی افراد میں شامل ہیں مگر بورڈ کے معاملات سے الگ کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شاید کسی قابل بھروسہ خاتون کو ایک اعلیٰ عہدیدار بورڈ میں میڈیا کی ذمہ داری سونپنے والے ہیں،اب حکام اس اندرونی سیاست سے نمٹیں تو دیگر معاملات دیکھیں گے ناں، ٹیم کا حال سب کے سامنے ہے ون ڈے کے بعد ابتدائی دونوں ٹوئنٹی 20ہار کر سیریز بھی گنوا دی، اس پر آخری میچ کے بعد بات کریں گے،اس وقت تو فیلڈ اور اس سے باہر حالات پاکستانی اسکواڈ اور بورڈ کیلیے سازگار دکھائی نہیں دیتے۔
Load Next Story