مری معاہدہ اور بلوچستان کی ترقی

نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور خودساختہ جلا وطن رہنما برہمداغ بگٹی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہوگئے۔

tauceeph@gmail.com

KARACHI:
نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور خودساختہ جلا وطن رہنما برہمداغ بگٹی حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہوگئے۔ سوئٹزرلینڈ میں مقیم برہمداغ بگٹی نے علیحدگی پسند گروپوں اور دیگر منحرفین کو دعوت دی کہ ان سے سوئٹزرلینڈ میں آ کر ملاقات کریں تاکہ حکومت سے بات چیت کے لیے ایجنڈے کو آخری شکل دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ خان آف قلات جو لندن میں مقیم ہیں، حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، یوں 2013کے انتخابات کے بعد ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کی کارکردگی کے نتائج سامنے آنے لگے۔

نیشنل پارٹی کی اقلیتی حکومت کی کارکردگی کا ذکر اب پورے ملک میں ہورہا ہے۔ بلوچستان یوں تو گزشتہ صدی کی 40ویں دھائی سے بحرانوں کا شکار ہے ۔ بلوچستان میں مقتدرہ نے اپنی حاکمیت کے قیام کے لیے چارکے قریب بڑے آپریشن کیے ہیں جن کے ہمیشہ منفی نتائج برآمد ہوئے مگر نئی صدی کے آغاز سے بلوچستان ایسے تضادات کا شکار ہوا کہ صوبے کے حالات اب تک معمول کی صورتحال پر نہیں آسکے ۔

بلوچستان کے سابق گورنر اور بگٹی قبیلے کے سردار اکبر بگٹی کے وفاقی حکومت سے اختلافات تھے، مگر مقتدرہ نے نواب اکبر بگٹی کی بات نہیں مانی۔ اس سے قبل مری قبیلے کے سردار خیر بخش مری کو جسٹس مری کے قتل کے الزام میں گرفتارکر کے مری قبیلے کو مشتعل کردیا گیا تھا۔مری قبیلے کے کئی نوجوان لاپتہ ہوچکے تھے۔

اکبر بگٹی کو صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے لیے ڈیرہ بگٹی سے گیس آنے کو کہا گیا جہاں وفاقی حکومت کا طیارہ انھیں اسلام آباد لے جانے کے لیے موجود تھا مگر یہ پرواز بغیر کسی وجہ کے منسوخ کردی گئی، پھر ڈیرہ بگٹی میں گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا۔ اکبر بگٹی برہمداغ بگٹی کے ہمراہ ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے مگر وہ ایک کارروائی کے دوران مارے گئے۔ برہمداغ اپنی جان بچا کر افغانستان چلے گئے جہاں سے وہ سوئٹزرلینڈ پہنچے اور سیاسی پناہ حاصل کی۔

نواب اکبر بگٹی ہمیشہ پاکستان کے حامی رہے اورکبھی علیحدگی پسندوں کی حمایت نہیں کی ،مگر ان کے قتل نے بلوچستان میں شدت پسندی کو مضبوط کردیا۔ خان آف قلات نے گرینڈ جرگہ منعقد کیا ، یہ جرگہ تقریباً سو سال بعد منعقد ہوا تھا۔اس جرگے میں بلوچ سردار اور عمائدین شریک ہوئے۔

اس جرگے میں ریاست قلات کی بحالی اور اس مقصد کے لیے عالمی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔خان آف قلات اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے لندن چلے گئے۔ بلوچستان میں ایک پرتشدد احتجاجی لہر پیدا ہوئی ، سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ رپورٹیں غیر ملکی اخبارات میں شایع ہوئیں کہ ڈبل کیبن گاڑیوں میں جن کے شیشے سیاہ ہوتے ہیں، نامعلوم افراد آتے ہیں اور سیاسی کارکنوں کو اغواء کر کے لے جاتے ہیں، پھر ان کارکنوں کا پتہ نہیں چلتا۔ ان میں سے بعض کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، دیگر صوبوں سے آ کر آباد ہونے والے افرادکی ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی۔ اساتذہ، صحافی، ڈاکٹر، خواتین، پولیس افسران، حجام اور دکاندار اس ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔

اس صورتحال کی بناء پر ڈاکٹر، اساتذہ اور بہت سے ٹیکنوکریٹس صوبے سے چلے گئے۔ صوبے کا تعلیمی نظام تقریباً مفلوج ہوگیا۔اس کے ساتھ ہی ہزارہ منگول برادری کی بستیوں اور عبادت گاہوں پرخودکش حملے ہوئے۔ اس کے ساتھ ڈاکٹروں، افسروں اور اقلیتی فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو تاوان کے لیے اغواء کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بہت سے ڈاکٹر اور وکلاء اغواء ہوئے اور لاکھوں روپے ادا کرکے واپس آئے۔

2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ بنے تو صوبے میں بدنظمی عروج پر پہنچی۔ یہ الزامات لگائے گئے کہ صوبائی وزراء اغواء برائے تاوان کے ملزمان کی سرپرستی میں مصروف ہیں۔

2013 میں عام انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں نیشنل پارٹی نے بھرپورکامیابی حاصل کی مگر مسلم لیگ ن صوبائی اسمبلی میں اکثریتی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی۔وزیر اعظم نواز شریف نے مری میں مسلم لیگ ن، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو ، ثنا اللہ زہری اور ڈاکٹر عبدالمالک کے درمیان معاہدہ کرایا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بنے۔ ڈاکٹر عبدالمالک کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور پہلے غیرسردار وزیر اعلیٰ ہیں، انھوں نے امن وامان کو یقینی بنانے، تعلیم وصحت کے شعبوں میں اصلاحات کرنے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کیے تو صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی۔

کوئٹہ میں برسوں کے بعد پرامن صورتحال بحال ہوئی اور اغواء برائے تاوان کے جرم میں ملوث گروہوں کا خاتمہ ہوا۔ ساتھ ہی ہزارہ برادری کی نسل کشی کا سلسلہ تقریباً رک گیا،کئی مذہبی انتہاپسند گروہوں کا خاتمہ ہوا اور زیارت کے لیے جانے والے زائرین کی بسوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بنا، اس طرح کے حملوں میں کمی آئی۔


بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک سے واقفیت رکھنے والے ایک صحافی کاکہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک کے اقدامات کے نتیجے میں خضدار کے مضافات میں اجتماعی قبروں کا معاملہ حل ہوا اور مقتدرہ کو انتہاپسند مذہبی گروہ کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے پڑے۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں کئی سوگنا اضافہ کیا، صوبے میں چار نئی یونیورسٹیاں قائم ہوئیں،غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ملازمتوں کے لیے این ٹی ایس ٹیسٹ لازمی قراردیا گیا۔

بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو مکمل خودمختارکردیا گیا اور اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے ہائی کورٹ کے سابق جج کوکمیشن کا سربراہ مقررکیا گیا۔ اسی طرح اسپتالوںکے قیام اور اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے گئے۔ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور اب بلدیاتی ادارے باقاعدگی سے کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے صوبے کے قدرتی وسائل کی ترقی کے لیے اقدامات کیے۔ برسوں سے زیرِ التواء سینڈک ذخائر کے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی۔

یہ عالمی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ نیشنل پارٹی اس دوران پورے ملک میں منظم ہوئی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یاسین بلوچ نے سندھ، پنجاب اور پختون خواہ میں متحرک بائیں بازو کے کارکنوں کو پارٹی میں شامل ہونے کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل تیارکیا۔ پنجاب میں ایوب ملک کی قیادت میں پہلی دفعہ نیشنل پارٹی پورے صوبے میں منظم ہوئی۔ بلدیاتی انتخابات میں میانوالی اور اوکاڑہ میں پارٹی کے نامزد کردہ امیدوارکامیاب ہوئے۔

ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کا سب سے ناکام پہلو لاپتہ سیاسی کارکنوں کا ہے۔ چند سال قبل تک لاپتہ کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملنا عام سی بات تھی مگر یہ صورتحال کسی حد تک تبدیل ہوچکی ہے مگرکئی لاپتہ کارکنوں کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ہے۔ گزشتہ سال بی ایس او آزاد کے صدر کی بازیابی کے لیے ایک نوجوان نے کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کی تھی۔

ڈاکٹر عبدالمالک اس نوجوان کی بھوک ہڑتال ختم کرانے خودکراچی پریس کلب آئے تھے مگر یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا۔ ڈاکٹر عبدالمالک اس اہم مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے کچھ علاقوں میں شورش کی صورتحال ہے۔ انتہاپسند سرکاری تنصیبات پر حملے کرتے ہیں۔ دیگر صوبوں سے آنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ عناصرتشدد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مقتدرہ اس صورتحال کو آپریشن کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک اور نیشنل پارٹی کی ٹیم بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا چاہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دیگر ممالک میں موجود منحرفین سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں خان آف قلات اور برہمداغ بگٹی کے مؤقف میں لچک پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح کے رابطے پہاڑوں پر موجود انتہاپسندوں سے بھی جاری ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک کاکہنا ہے کہ پرامن جدوجہد کے ذریعے مسائل کا حل نکل سکتا ہے مگر انتہاپسند عناصر بندوق کے ذریعے بلوچستان کی محرومیوں کا حل چاہتے تھے۔

بعض قوم پرستوں کو پاک چائنا اقتصادی راہداری پر بھی اعتراض ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کہتے ہیںکہ ایسی ترقی قبول نہیں جس میں بلوچ ریڈ انڈین بن جائیں۔ اس مسئلے کا حل آئینی ترمیم کی صورت میں ممکن ہے، اگر پاکستان کے آئین میں بلوچوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور باہر سے آنے والوں کا ووٹ کا حق ان کے آبادی علاقوں تک محدود کیا جائے تو یہ خدشات دور ہوسکتے ہیں۔ اس ترمیم پر اتفاقِ رائے کے لیے مسلسل بات چیت اور خیر سگالی کے جذبات کی ضرورت ہے۔ یہ بات چیت ڈاکٹر عبدالمالک کی شفاف حکومت کے ذریعے ممکن ہے۔

کوئی سردار ایک جدید نظامِ حکومت کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا نہیں کرسکتا۔ مری معاہدے کے تحت اگرچہ ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کو اس سال دسمبر میں ختم ہونا ہے مگر صوبے کے وسیع تر مفاد میں ضروری ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک کو اگلے ڈھائی سال بھی کام کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ صوبہ ترقی کرسکے اور صوبے کے عوام کا احساسِ محرومی دور ہو۔

جو نوجوان بندوق کے ذریعے بلوچستان کو آزادکرانے کا خواب دیکھتے ہیں وہ جدید دور کی تاریخ کا ادراک نہیں رکھتے، تشدد اور علیحدگی مسئلے کا حل نہیں ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے ڈھانچے میں پرامن جدوجہد کے ذریعے ہی بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہوسکتا ہے۔
Load Next Story