کراچی میں الم ناک واردات
منگل کی سہ پہر کو دونامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں کی ملٹری پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 2اہلکار شہید ہوگئے
ملکی سالمیت پر مامور حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ پر تشدد کارروائیوں سے اظہار وابستگی کی اس عالمی خواہش کو بھی اولین فرصت میں کچل ڈالیں۔ فوٹو : فائل
کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر دہشت گردوں نے ایک بار پھر ریاستی رٹ کو دیدہ دلیری سے چیلنج کردیا۔منگل کی سہ پہر کو دو نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں کی ملٹری پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 2اہلکار شہید ہوگئے ۔ قاتل حسب معمول واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔
اب استعمال شدہ نائن ایم ایم پستول کے فارنزک تجزیہ ، ملزمان کی تلاش ،ان کے خاکوں اور ٹھکانوں پر چھاپے اہم ہدف ہیں ۔ صدر مملکت ممنون حسین نے واقعہ کی مذمت کی ، وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن جاری رہے گا ، حوصلے پست نہیں ہونگے، دریں اثنا آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشتگردی کی کارروائیوں کا مقصد ضرب عضب کی پیش رفت کو روکنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہمارے قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔ جنرل راحیل نے شہید اہلکاروں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کوجلد گرفتارکرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان غیر ملک سے خصوصی تربیت لے کر شہر میں داخل ہوئے ہیں اور عام ٹارگٹ کلرز یا کرائے کے قاتل نہیں ہیں،اس لیے اس نئے خفیہ نیٹ ورک تک رسائی کی فوری ضرورت ہے اور پتا چلایا جائے کہ اس ہولناک واردات کی ڈور کس ماسٹر مائنڈ کے ہاتھ میں ہے۔
داخلی سیکیورٹی کے اقدامات کو بھی مزید موثر بنانا ناگزیر ہے جب کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز خدارا اپنے رویوں ، سیاسی حکمت عملی اور بیانات پر ذرا نظر ثانی کریں، دہشت گرد پیدا شدہ سیاسی انتشار اور بے یقینی کے اسی ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں ۔ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے امن و سلامتی کے لیے جاری آپریشن کو چیلنج کرنے والی یہ وحشیانہ واردات عین اس وقت ہوئی جب ایم اے جناح روڈ پر حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے سلسلے میں بدھ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایم اے جناح روڈ کی سیکیورٹی کے اصل انتظامات سنبھالنے تھے تاہم موقع کی تاک میں رہنے والے دہشتگرد عناصر نے چپکے سے شہر قائد کے ایک مصروف ترین کاروباری علاقے کی مین شاہراہ پر اپنی موٹر سائیکل ملٹری جیپ کے عقب میں کھڑی کی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد جن کی تعداد دو بتائی گئی ہے نقاب پوش تھے۔
انھوں نے کلوز رینج سے فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ اعلیٰ پولیس حکام نے اسے آپریشن ضرب عضب کا رد عمل اور دہشت گردوں کی شکست خوردگی کا شاخسانہ قراردیا ہے اور یقیناً یہ واردات بزدلانہ اور انتہائی الم ناک ہے کیونکہ جن باطل قوتوں نے ریاستی سسٹم کو چیلنج کیا وہ آج دربدر ہیں، ان کے ٹھکانے ، اسلحہ خانے اور دہشت انگیز کارروائیوں کا بڑا نیٹ ورک ریزہ ریزہ ہوچکا ہے مگر وہ عناصر مکمل ختم نہیں ہوئے، ان کی باقیات ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعہ اپنے وجود کا ثبوت دلانے کی مذموم کوششوں میں لگی ہوئی ہے جس سے ہمہ وقت خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
وہ ہذیانی کیفیت میں ہیں، ملٹری پولیس کی گاڑی کے اطراف سے نائن ایم ایم پستول کے 5خول بھی برآمد ہوئے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق افسوسناک اور درد انگیز سانحہ اس وقت ہوا جب حضرت امام حسینؓکے جمعرات کو چہلم اور5 ستمبر کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے ہائی الرٹ گل پلازہ کے سامنے کھڑی ملٹری پولیس کی گاڑی میں دوملٹری اہلکاربیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران 2موٹرسائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے دونوں اہلکار شدید زخمی ہوگئے ۔
انھیںسول اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ ایک اہلکار شہید ہوگیا جب کہ دوسرا اہلکاراسپتال کی ایمرجنسی میں چل بسا، دونوں اہلکاروں کے سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں، پولیس ذرایع کے مطابق شہید اہلکاروں کی شناخت کراچی کے رہائشی حوالدار راشد اور مانسہرہ کے رہائشی لانس نائیک ارشد کے نام سے ہوئی، ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر جمیل نے صحافیوںکوبتایاکہ دہشت گردوں نے نقاب پہن رکھے تھے، دہشت گردوں نے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے اوپری حصہ کو ٹارگٹ کیا، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملٹری پولیس اورگزشتہ دنوں اتحاد ٹاؤن میں رینجرز پر ہونے والے حملے میں استعمال شدہ اسلحہ مماثلت رکھتا ہے ۔
دریں اثناء آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موٹرسائیکل سوار 2ملزمان نے ملٹری پولیس گاڑی پر حملہ کیا جس میں 2 اہلکار جان بحق ہوئے، دونوں شہید اہلکاروں کی نمازجنازہ کراچی چھاؤنی میں ادا کی گئی اور شہید اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔
کراچی سمیت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں ، کچھ حلقوں کی طرف سے یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس الم ناک واردات کی ایک کڑی وہ خود ساختہ فسطائی ذہنیت بھی ہے جو شدت پسند مسلم تنظیموں کو ہر دم یقین دلانا چاہتی ہے کہ دہشتگردی کے بین الاقوامی ایجنڈہ میں وہ ان کے ساتھ ہے، اس لیے ملکی سالمیت پر مامور حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ پر تشدد کارروائیوں سے اظہار وابستگی کی اس عالمی خواہش کو بھی اولین فرصت میں کچل ڈالیں۔
اب استعمال شدہ نائن ایم ایم پستول کے فارنزک تجزیہ ، ملزمان کی تلاش ،ان کے خاکوں اور ٹھکانوں پر چھاپے اہم ہدف ہیں ۔ صدر مملکت ممنون حسین نے واقعہ کی مذمت کی ، وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن جاری رہے گا ، حوصلے پست نہیں ہونگے، دریں اثنا آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشتگردی کی کارروائیوں کا مقصد ضرب عضب کی پیش رفت کو روکنا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے ہمارے قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتیں۔ جنرل راحیل نے شہید اہلکاروں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کوجلد گرفتارکرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان غیر ملک سے خصوصی تربیت لے کر شہر میں داخل ہوئے ہیں اور عام ٹارگٹ کلرز یا کرائے کے قاتل نہیں ہیں،اس لیے اس نئے خفیہ نیٹ ورک تک رسائی کی فوری ضرورت ہے اور پتا چلایا جائے کہ اس ہولناک واردات کی ڈور کس ماسٹر مائنڈ کے ہاتھ میں ہے۔
داخلی سیکیورٹی کے اقدامات کو بھی مزید موثر بنانا ناگزیر ہے جب کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز خدارا اپنے رویوں ، سیاسی حکمت عملی اور بیانات پر ذرا نظر ثانی کریں، دہشت گرد پیدا شدہ سیاسی انتشار اور بے یقینی کے اسی ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں ۔ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے امن و سلامتی کے لیے جاری آپریشن کو چیلنج کرنے والی یہ وحشیانہ واردات عین اس وقت ہوئی جب ایم اے جناح روڈ پر حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے سلسلے میں بدھ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایم اے جناح روڈ کی سیکیورٹی کے اصل انتظامات سنبھالنے تھے تاہم موقع کی تاک میں رہنے والے دہشتگرد عناصر نے چپکے سے شہر قائد کے ایک مصروف ترین کاروباری علاقے کی مین شاہراہ پر اپنی موٹر سائیکل ملٹری جیپ کے عقب میں کھڑی کی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح افراد جن کی تعداد دو بتائی گئی ہے نقاب پوش تھے۔
انھوں نے کلوز رینج سے فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ اعلیٰ پولیس حکام نے اسے آپریشن ضرب عضب کا رد عمل اور دہشت گردوں کی شکست خوردگی کا شاخسانہ قراردیا ہے اور یقیناً یہ واردات بزدلانہ اور انتہائی الم ناک ہے کیونکہ جن باطل قوتوں نے ریاستی سسٹم کو چیلنج کیا وہ آج دربدر ہیں، ان کے ٹھکانے ، اسلحہ خانے اور دہشت انگیز کارروائیوں کا بڑا نیٹ ورک ریزہ ریزہ ہوچکا ہے مگر وہ عناصر مکمل ختم نہیں ہوئے، ان کی باقیات ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعہ اپنے وجود کا ثبوت دلانے کی مذموم کوششوں میں لگی ہوئی ہے جس سے ہمہ وقت خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔
وہ ہذیانی کیفیت میں ہیں، ملٹری پولیس کی گاڑی کے اطراف سے نائن ایم ایم پستول کے 5خول بھی برآمد ہوئے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق افسوسناک اور درد انگیز سانحہ اس وقت ہوا جب حضرت امام حسینؓکے جمعرات کو چہلم اور5 ستمبر کو کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے ہائی الرٹ گل پلازہ کے سامنے کھڑی ملٹری پولیس کی گاڑی میں دوملٹری اہلکاربیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران 2موٹرسائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے دونوں اہلکار شدید زخمی ہوگئے ۔
انھیںسول اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ ایک اہلکار شہید ہوگیا جب کہ دوسرا اہلکاراسپتال کی ایمرجنسی میں چل بسا، دونوں اہلکاروں کے سروں میں گولیاں ماری گئی تھیں، پولیس ذرایع کے مطابق شہید اہلکاروں کی شناخت کراچی کے رہائشی حوالدار راشد اور مانسہرہ کے رہائشی لانس نائیک ارشد کے نام سے ہوئی، ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹر جمیل نے صحافیوںکوبتایاکہ دہشت گردوں نے نقاب پہن رکھے تھے، دہشت گردوں نے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے اوپری حصہ کو ٹارگٹ کیا، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملٹری پولیس اورگزشتہ دنوں اتحاد ٹاؤن میں رینجرز پر ہونے والے حملے میں استعمال شدہ اسلحہ مماثلت رکھتا ہے ۔
دریں اثناء آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موٹرسائیکل سوار 2ملزمان نے ملٹری پولیس گاڑی پر حملہ کیا جس میں 2 اہلکار جان بحق ہوئے، دونوں شہید اہلکاروں کی نمازجنازہ کراچی چھاؤنی میں ادا کی گئی اور شہید اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔
کراچی سمیت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں ، کچھ حلقوں کی طرف سے یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس الم ناک واردات کی ایک کڑی وہ خود ساختہ فسطائی ذہنیت بھی ہے جو شدت پسند مسلم تنظیموں کو ہر دم یقین دلانا چاہتی ہے کہ دہشتگردی کے بین الاقوامی ایجنڈہ میں وہ ان کے ساتھ ہے، اس لیے ملکی سالمیت پر مامور حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ پر تشدد کارروائیوں سے اظہار وابستگی کی اس عالمی خواہش کو بھی اولین فرصت میں کچل ڈالیں۔