عوام جمہوریت کے حقیقی ثمر کے منتظر
پاکستان کی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا بڑا حصہ لوئرمڈل کلاس میں تبدیل ہورہا ہے ، جو کہ ایک افسوس ناک امر ہے۔
عوام کو ریلیف مہیا کیا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں اور ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجائے۔ فوٹو: فائل
LAHORE:
ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آنے سے ملکی معیشت کو قدرے استحکام حاصل ہوا تھا ، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے ڈالرکی قیمت بھی خاصی کم ہوئی،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوئی، عوام کے چہروں پر رونق بحال ہونے لگی، تو آئی ایم ایف سے وزیرخزانہ وعدہ کرآئے، مزید ٹیکس لگانے کا اور چالیس ارب کے نئے ٹیکس براہ راست عوام پر لگ گئے، منی بجٹ اور مہنگائی بم نے کیے کرائے پر پانی پھیردیا ہے ۔
پاکستانی بیورو شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح میں سال بہ سال 2.7 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 0.6فیصد کا اضافہ ہوا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 61 اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے اور 300 سے زائد آئٹمزکی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ پلک جھپکتے کردیا گیا جس کی وجہ سے عوام براہ راست متاثر ہوئے ہیں،کیونکہ چائے،کافی، بچوں کے ڈائپرز،کاجو، بادام، کوکو پاؤڈر، انناس، مختلف گارمنٹس، فٹ ویئر، ربڑ اور پلاسٹک ودیگر اشیائے ضروریہ کا استعمال روزمرہ میں کیا جاتا ہے ۔
جمہوریت کا مطلب جمہور کی فلاح ہوتا ہے ، نہ کہ ان کا جینا دوبھرکرنا ، کیونکہ اس غیر دانشمندانہ اقدام کے انتہائی منفی نتائج مہنگائی کی شرح میں اضافے سے عام آدمی ہی پر پڑیں گے، پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے پاکستان کے کروڑوں عوام کو دووقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں،اوپر سے مہنگائی کے بم شیل نے رہی سہی بھی پوری کردی ہے ، المیہ تو یہ بھی رونما ہوا ہے کہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا بڑا حصہ لوئرمڈل کلاس میں تبدیل ہورہا ہے ، جو کہ ایک افسوس ناک امر ہے۔
دوسری جانب کراچی اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز انڈیکس کی32000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد سمیت 100 پوائنٹس کی 5 حدیں بیک وقت گرگئیں، مندی کی وجہ سے83.24 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جب کہ سرمایہ کاروں کے مزید99 ارب5 کروڑ61 لاکھ95 ہزار717 روپے ڈوب گئے۔
اس کوکہتے ہیں سرمنڈھاتے ہی اولے پڑے، وزارت خزانہ کو چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے مفاد کو مقدم رکھیں ، اور ان پر بے جا ٹیکس عائد کرنے کی ناعاقبت اندیش پالیسی کو ترک کریں، ملک میں جمہوریت کے ثمرات عام آدمی کو نہ ملیں تو بھلا کیا فائدہ ایسی جمہوریت کا، عوامی مشکلات اور تاجربرادری کے صائب مشوروں کی روشنی میں بہتر پالیسی ترتیب دینے کے لیے حکومت باقاعدہ مشاورتی لائحہ عمل ترتیب دے ، صارفین کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے ، عوام کو ریلیف مہیا کیا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں اور ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجائے۔
ملک میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آنے سے ملکی معیشت کو قدرے استحکام حاصل ہوا تھا ، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے ڈالرکی قیمت بھی خاصی کم ہوئی،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوئی، عوام کے چہروں پر رونق بحال ہونے لگی، تو آئی ایم ایف سے وزیرخزانہ وعدہ کرآئے، مزید ٹیکس لگانے کا اور چالیس ارب کے نئے ٹیکس براہ راست عوام پر لگ گئے، منی بجٹ اور مہنگائی بم نے کیے کرائے پر پانی پھیردیا ہے ۔
پاکستانی بیورو شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح میں سال بہ سال 2.7 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 0.6فیصد کا اضافہ ہوا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 61 اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے اور 300 سے زائد آئٹمزکی ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ پلک جھپکتے کردیا گیا جس کی وجہ سے عوام براہ راست متاثر ہوئے ہیں،کیونکہ چائے،کافی، بچوں کے ڈائپرز،کاجو، بادام، کوکو پاؤڈر، انناس، مختلف گارمنٹس، فٹ ویئر، ربڑ اور پلاسٹک ودیگر اشیائے ضروریہ کا استعمال روزمرہ میں کیا جاتا ہے ۔
جمہوریت کا مطلب جمہور کی فلاح ہوتا ہے ، نہ کہ ان کا جینا دوبھرکرنا ، کیونکہ اس غیر دانشمندانہ اقدام کے انتہائی منفی نتائج مہنگائی کی شرح میں اضافے سے عام آدمی ہی پر پڑیں گے، پہلے ہی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے پاکستان کے کروڑوں عوام کو دووقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں،اوپر سے مہنگائی کے بم شیل نے رہی سہی بھی پوری کردی ہے ، المیہ تو یہ بھی رونما ہوا ہے کہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کا بڑا حصہ لوئرمڈل کلاس میں تبدیل ہورہا ہے ، جو کہ ایک افسوس ناک امر ہے۔
دوسری جانب کراچی اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ روز انڈیکس کی32000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد سمیت 100 پوائنٹس کی 5 حدیں بیک وقت گرگئیں، مندی کی وجہ سے83.24 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ہوئی جب کہ سرمایہ کاروں کے مزید99 ارب5 کروڑ61 لاکھ95 ہزار717 روپے ڈوب گئے۔
اس کوکہتے ہیں سرمنڈھاتے ہی اولے پڑے، وزارت خزانہ کو چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے مفاد کو مقدم رکھیں ، اور ان پر بے جا ٹیکس عائد کرنے کی ناعاقبت اندیش پالیسی کو ترک کریں، ملک میں جمہوریت کے ثمرات عام آدمی کو نہ ملیں تو بھلا کیا فائدہ ایسی جمہوریت کا، عوامی مشکلات اور تاجربرادری کے صائب مشوروں کی روشنی میں بہتر پالیسی ترتیب دینے کے لیے حکومت باقاعدہ مشاورتی لائحہ عمل ترتیب دے ، صارفین کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے ، عوام کو ریلیف مہیا کیا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں اور ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوجائے۔